جماعت اسلامی اقتدار کے بند دروازوں کو اسلام کیلیے کھولنا چاہتی ہے‘ امیر العظیم
اشاعت کی تاریخ: 2nd, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260202-08-11
اسلام آباد ( نمائندہ جسارت)سیکریٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان امیر العظیم نے کہا ہے کہ جب تک ہماری سیاست،عدالت،معیشت اور حکومت میں اسلام داخل نہیں ہوگا تبدیلی نہیں آسکتی۔ جماعت اسلامی اقتدار کے بند دروازوں کو اسلام کے لیے کھولنا چاہتی ہے۔ملک میں اسلامی نظام کا نفاذ آئینی تقاضا ہے جسے آج تک پورا نہیں کیا گیا۔ پاکستان کو مدینہ کی ریاست اسلامی تعلیمات کے مطابق زندگی گزارنے والے ہی بنا سکتے ہیں۔ غلبہ دین کی جدوجہد ہمیں دنیاوی جاہ وجلال سے ہزار گنا بڑھ کر محبوب ہے۔جرنیلوں کے کندھوں پر بیٹھ کر اقتدار میں آنے والے عوامی لیڈر نہیں ہوتے۔ جماعت اسلامی تنظیم کے دائرے سے آگے بڑھ کر تحریک بن چکی ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے مقامی مارکی میں اسلام آباد کے اجتماع ارکان سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔اجتماع سے امیر جماعت اسلامی اسلام آباد نصراللہ رندھاوا اور سیکرٹری جنرل زبیر صفدر نے بھی خطاب کیا۔امیر العظیم نے کہا کہ حکمرانوں نے عوام کے لئے دین پرعمل کرنا مشکل بنا دیا ہے۔ نئی نسل کو تعلیم اور صحت کی سہولتیں دینے کے ساتھ ساتھ ان کا ایمان بچانا بھی ضروری ہے۔اس کا ایک ہی حل ہے کہ نوجوانوں کو مایوسی کے اندھیروں سے نکال کر امید کی روشنی میںلایا جائے۔انہوں نے کہا کہ اسلام آباد تبدیل ہوجائے تو اسلام ایک غالب قوت بن کر مسلمانوں کے قتل عام کو رکوا سکتا ہے۔جماعت اسلامی عوامی مسائل کے حل کے ذریعے آگے بڑھ رہی ہے اور عوامی حمایت اور تائید کے ساتھ اقتدار کے ایوانوں میں پہنچے گی۔ہمیں کسی کندھے یا بیساکھی کی ضرورت نہیں۔بیساکھیوں کے سہارے اقتدار تک پہنچنے والوں کو اقتدار سے نکلتے وقت کوئی سہارا نہیں ملتا۔انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی ملک میں اسلامی نظام کے نفاذ کی بات کرتی ہے جب تک ہماری عدالتوں،سیاست اور معیشت میں اسلام نہیں آئے گا ترقی اور خوشحالی کا خواب شرمندہ ٔ تعبیر نہیں ہوسکتا۔ امیر العظیم نے کہا کہ جماعت اسلامی بانی سید ابوالاعلی مودودی نے ہندوستان میں مختلف تحریکوں کو قریب سے دیکھا اور ان کا گہرا تجزیہ کیا۔ جماعت اسلامی کا نظام تجزیے کے بعد تشکیل دیا گیا، جماعت کسی فرد کی ملکیت نہیں بلکہ اراکین اور دستور جماعت اسلامی اسے آگے بڑھا تے ہیں۔انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی نئی نسل کو اسلام کے سپاہی بنا کر دین اور نظریے کے محافظ بنانا چاہتی ہے، یہ کوئی نئی سوچ یا منصوبہ نہیں بلکہ شروع دن سے جماعت اسلامی کی ترجیح اول رہی ہے۔ امیرالعظیم نے کہا کہ ہم عوامی لہر کے ساتھ آگے بڑھیں گے اور یہ لہر ممبر سازی ذریعے پیدا ہوگی، ہمیں عوام کو اپنے قریب لانا ہو گا، بڑی بڑی عوامی اجتماعات منعقد کرنا پڑیں گے جس کے پورے ملک پر اثرات ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت الہیہ کے قیام کے لئے ضروری ہے کہ ہم اپنے وقت اور مال کی قربانی دیں تاکہ اپنے اس عظیم مقصد کو حاصل کرسکیں جس کے لئے یہ تحریک برپا کی گئی ہے۔لوگوں کے مسائل کے حل کے لئے قومی سطح پر ایک بڑی تحریک وقت کی اہم ضرورت ہے۔
اسلام آباد: جماعت اسلامی پاکستان کے جنرل سیکرٹری امیر العظیم ‘ نصراللہ رندھاوا اورزبیرصفدر اجتماع ارکان سے خطاب کررہے ہیں
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: انہوں نے کہا کہ العظیم نے کہا جماعت اسلامی امیر العظیم میں اسلام اسلامی ا کے لئے
پڑھیں:
متوسط اور تنخواہ دار طبقہ پس رہا ہے، حکومت بجٹ میں سہولیات دے، حافظ نعیم الرحمن
امیر جماعت اسلامی پاکستان نے خبردار کیا کہ موجودہ بدترین ٹیکس نظام کی وجہ سے پروفیشنل افراد اور ماہرین تیزی سے ملک چھوڑ رہے ہیں، جو ایک خوفناک رجحان ہے۔ اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو یہ ملک کے مستقبل کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ عوامی مشکلات کا ادراک کرتے ہوئے آئندہ بجٹ میں ٹیکس اصلاحات اور ریلیف پیکج کا اعلان کرے تاکہ عوام کو معاشی مشکلات سے نجات مل سکے۔ اسلام ٹائمز۔ امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ آئندہ بجٹ میں تنخواہ دار اور مڈل کلاس طبقے کو فوری ریلیف فراہم کیا جائے اور ان پر عائد بھاری ٹیکسوں میں نمایاں کمی کی جائے۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے بیان میں حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ حکومت نے متوسط اور تنخواہ دار طبقے سے 605 ارب روپے انکم ٹیکس وصول کیا ہے، جبکہ یہی طبقہ اس وقت شدید معاشی دباؤ کا شکار ہے۔ انہوں نے کہا کہ بچوں کی تعلیم، بجلی اور گیس کے بھاری بل، مہنگا پٹرول، ناجائز لیوی، اشیائے خورونوش پر ٹیکس، صحت و علاج کے بڑھتے ہوئے اخراجات اور مہنگائی کے طوفان نے عوام کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔ امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ حکومتی اقدامات اور معاشی پالیسیوں نے عوام کا جینا محال کر دیا ہے، اس لیے حکومت کو بجٹ میں فوری ریلیف کے اقدامات کرنے چاہیئے۔
امیر جماعت اسلامی نے مطالبہ کیا کہ ماہانہ ایک لاکھ 25 ہزار روپے تنخواہ پر عائد انکم ٹیکس مکمل طور پر ختم کیا جائے، جبکہ اس سے زیادہ تنخواہ حاصل کرنے والے افراد کے لیے انکم ٹیکس کی شرح کم از کم آدھی کی جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ زیادہ سے زیادہ ٹیکس کی شرح 35 فیصد سے کم کرکے 15 فیصد مقرر کی جائے تاکہ تنخواہ دار اور پیشہ ور طبقے کو ریلیف مل سکے۔ حافظ نعیم الرحمن نے خبردار کیا کہ موجودہ بدترین ٹیکس نظام کی وجہ سے پروفیشنل افراد اور ماہرین تیزی سے ملک چھوڑ رہے ہیں، جو ایک خوفناک رجحان ہے۔ اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو یہ ملک کے مستقبل کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ عوامی مشکلات کا ادراک کرتے ہوئے آئندہ بجٹ میں ٹیکس اصلاحات اور ریلیف پیکج کا اعلان کرے تاکہ عوام کو معاشی مشکلات سے نجات مل سکے۔