سولر صارفین کیلئے نیٹ میٹرنگ پالیسی میں ترامیم کرنے کا حتمی فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 2nd, February 2026 GMT
شاہد سپرا: سولر صارفین کے لیے نیٹ میٹرنگ پالیسی میں ترامیم کرنے کا حتمی فیصلہ کر لیا گیا ہے، جس کے تحت نیٹ میٹرنگ کو نیٹ بلنگ میں تبدیل کرنے کی تیاری مکمل کر لی گئی ہے۔
اس سلسلے میں نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے عوامی سماعت مقرر کر دی ہے۔
نیپرا کے مطابق 6 فروری کو نیٹ میٹرنگ پالیسی میں مجوزہ ترامیم پر عوامی سماعت کی جائے گی، جس میں صارفین، اسٹیک ہولڈرز اور بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی جانب سے جمع کرائے گئے اعتراضات اور تجاویز پر غور کیا جائے گا۔
چور شادی پر جانے والی فیملی کے گھر کا صفایا کر گئے
واضح رہے کہ نیپرا نے 16 دسمبر کو ترامیمی ڈرافٹ جاری کر کے عوام سے اعتراضات طلب کیے تھے، جن پر تیس روز کے دوران موصول ہونے والی آرا کو اب سماعت میں زیرِ بحث لایا جائے گا۔
ذرائع کے مطابق عوامی سماعت کے دوران نیپرا نیٹ میٹرنگ پالیسی کی ترامیم پر حتمی فیصلہ کرے گی۔ مجوزہ نیٹ بلنگ پالیسی کی منظوری کی صورت میں سولر صارفین کے لیے بجلی کے ایکسپورٹ یونٹ کی قیمت 11 روپے فی یونٹ مقرر کیے جانے کا امکان ہے۔
آزاد کشمیر کے طلبا نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی جدوجہد آزادی کو مشترکہ ذمہ داری قرار دے دیا
نیٹ بلنگ پالیسی کے تحت صارفین کو موجودہ نظام کی طرح یونٹ ٹو یونٹ ریلیف حاصل نہیں ہو سکے گا، بلکہ درآمد اور برآمد شدہ بجلی کے یونٹس کا حساب علیحدہ علیحدہ کیا جائے گا۔ ترامیم کی منظوری کے بعد صارفین کو قومی ٹیرف کے مطابق بجلی کے بل جاری کیے جائیں گے، جبکہ ایکسپورٹ کیے گئے یونٹس کی ادائیگی مقررہ ریٹ پر کی جائے گی۔
توانائی ماہرین کے مطابق ان ترامیم کا مقصد بجلی کے نظام پر بڑھتے مالی دباؤ کو کم کرنا ہے، تاہم سولر صارفین کی جانب سے اس پالیسی پر تحفظات بھی سامنے آ رہے ہیں، جن پر نیپرا کی عوامی سماعت میں تفصیلی غور متوقع ہے۔
بسنت:پولیس کی تیاری مکمل،ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر کارروائی ہو گی
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
پڑھیں:
موبائل کمپنیوں کو 4 برسوں میں 3 ارب 41 کروڑ جرمانہ، سروس اور کوریج کی بہتری کیلئے مہلت
پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی(پی ٹی اے)نے موبائل کمپنیوں کو غیرمعیاری سروس اور کوریج پر خامیاں دور کرنے کے لیے 30دن کی مہلت دے دی اور بتایا کہ مذکورہ کمپنیوں کو گزشتہ چار برس میں 3 ارب 41 کروڑ روپے جرمانے عائد کیے گئے ہیں۔
پی ٹی اے کے مطابق ملک بھر میں موبائل سروس کے معیار اور کوریج میں بہتری کے لیے ریگولیٹری کارروائیاں تیز کردی گئی ہیں۔
پی ٹی اے نے سروس میں خامیوں پر موبائل آپریٹرز کو 30 روز میں ضروری اقدامات کرنے اور خرابیوں کی وجوہات کا تعین کرکے اصلاحی پلان جمع کرانے کی ہدایت کردی ہے۔
موبائل کمپنیوں کو خبردار کرتے ہوئے پی ٹی اے نے کہا ہے کہ خامیاں دور نہ کرنے والے آپریٹرز کے خلاف مزید سخت کارروائی کی جائے گی۔
پی ٹی اے کے مطابق گزشتہ چار برس کے دوران موبائل کمپنیوں کو 3 ارب 41کروڑ روپے جرمانے عائد کیے گئے ہیں اور کوالٹی آف سروس اور کوریج کی خلاف ورزیوں پر 20وارننگ لیٹرز اور 86 شوکاز نوٹسز بھی جاری کیے جاچکے ہیں۔