وزیراعظم سے عالمی بینک کے صدر کی ملاقات، پاکستان کی معاشی اصلاحات پر اعتماد کا اظہار
اشاعت کی تاریخ: 2nd, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد: وزیراعظم محمد شہباز شریف سے عالمی بینک گروپ کے صدر اجے بنگا نے ملاقات کی، جس میں پاکستان کی معاشی ترقی، اصلاحاتی اقدامات اور عالمی بینک کے کردار پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔
ملاقات اجے بنگا کے عالمی بینک گروپ کے صدر کی حیثیت سے پہلے سرکاری دورۂ پاکستان کے موقع پر ہوئی، جس پر وزیراعظم نے ان کا پرتپاک خیرمقدم کرتے ہوئے اسے پاکستان اور عالمی بینک کے درمیان دیرینہ شراکت داری کے تسلسل کی علامت قرار دیا۔
وزیراعظم نے اس موقع پر عالمی بینک گروپ کی جانب سے پاکستان کے ساتھ کئی دہائیوں پر محیط تعاون کو سراہتے ہوئے کہا کہ عالمی بینک نے مشکل معاشی حالات میں بھی پاکستان کی ترقیاتی ترجیحات کو آگے بڑھانے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔
انہوں نے بالخصوص عالمی بینک کے 10 سالہ کنٹری پارٹنرشپ فریم ورک کا ذکر کیا اور کہا کہ یہ فریم ورک پاکستان کی معاشی ضروریات اور طویل المدتی ترقیاتی اہداف کے عین مطابق ہے، جس کے ذریعے مختلف شعبوں میں اصلاحات اور سرمایہ کاری کو فروغ دیا جا رہا ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ حکومت پاکستان پائیدار اقتصادی استحکام کے حصول کے لیے ایک جامع، کثیرالجہتی اور ملکی تقاضوں کے مطابق ترتیب دیے گئے اصلاحاتی پروگرام پر سنجیدگی سے عمل کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ معیشت کی بحالی کے لیے انفرا اسٹرکچر کی بہتری، زرعی کاروبار کی ترقی، ڈیجیٹل معیشت کا فروغ، توانائی کے شعبے میں اصلاحات اور انسانی وسائل کی بہتری حکومت کی ترجیحات میں شامل ہیں، جن میں عالمی بینک گروپ کی معاونت کو نہایت اہم سمجھا جاتا ہے۔
وزیراعظم نے مزید کہا کہ مالیاتی اصلاحات، روزگار کے مواقع میں اضافہ اور نجی سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے عالمی بینک کی تکنیکی اور مالی مدد پاکستان کے لیے نہایت سودمند ثابت ہو رہی ہے۔ حکومت اس بات پر یقین رکھتی ہے کہ مضبوط اور پائیدار اقتصادی ترقی اسی وقت ممکن ہے جب نجی شعبے کو اعتماد فراہم کیا جائے اور سرمایہ کار دوست ماحول کو فروغ دیا جائے۔
ملاقات کے دوران وزیراعظم اور عالمی بینک گروپ کے صدر اجے بنگا نے اس بات پر زور دیا کہ کنٹری پارٹنرشپ فریم ورک کے تحت طے شدہ ترجیحات پر تیز رفتار عملدرآمد اور مؤثر نگرانی کو یقینی بنایا جانا چاہیے۔ دونوں رہنماؤں کا اتفاق تھا کہ ترقیاتی منصوبوں میں غیر ضروری رکاوٹوں کے خاتمے اور بروقت فیصلوں کے ذریعے ہی بڑے پیمانے پر مثبت نتائج حاصل کیے جا سکتے ہیں، جو وزیراعظم کے ترقیاتی وژن کا بنیادی جزو ہے۔
وزیراعظم نے اس عزم کا بھی اظہار کیا کہ حکومت ایسی جامع انتظامی اصلاحات پر کاربند ہے جو روزگار پر مبنی معاشی ترقی کو فروغ دیں اور ملکی و غیر ملکی سرمایہ کاروں کے اعتماد میں مزید اضافہ کریں۔ انہوں نے کہا کہ شفافیت، احتساب اور ادارہ جاتی بہتری حکومت کے اصلاحاتی ایجنڈے کا اہم حصہ ہیں۔
عالمی بینک گروپ کے صدر اجے بنگا نے وزیراعظم کا شکریہ ادا کرتے ہوئے پاکستان میں ملنے والی مہمان نوازی کو سراہا۔ انہوں نے حکومت پاکستان کی جاری اصلاحاتی کوششوں کی تعریف کی اور یقین دلایا کہ ون ورلڈ بینک گروپ کے تصور کے تحت پاکستان کے ساتھ تعاون کو مزید مضبوط کیا جائے گا۔
اجے بنگا نے کہا کہ اصلاحاتی اہداف کے حصول کے لیے ترقیاتی شراکت داروں کے درمیان قریبی ہم آہنگی اور نجی وسائل کے مؤثر استعمال میں اضافہ ناگزیر ہے، تاکہ پاکستان کی معیشت کو مستحکم بنیادوں پر استوار کیا جا سکے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: عالمی بینک گروپ کے صدر عالمی بینک کے اجے بنگا نے پاکستان کی پاکستان کے نے کہا کہ انہوں نے کے لیے
پڑھیں:
وزیر تجارت سے کارپٹ مینوفیکچررز اینڈ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کے وفد کی ملاقات، تجارتی رکاوٹوں اور عالمی سپلائی چین میں خلل سے صنعت کو درپیش مشکلات بارے آگاہ کیا
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 24 جولائی2026ء) وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان سے پاکستان کارپٹ مینوفیکچررز اینڈ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کے وفد نے ملاقات کی اور انہیں علاقائی تجارتی رکاوٹوں اور عالمی سپلائی چین میں خلل سے قالینوں کی صنعت کو درپیش مشکلات بارے آگاہ کیا ۔ جمعے کو جاری بیان کے مطابق ملاقات میں وزیر تجارت نے ہاتھ سے بنے قالینوں کی برآمدات بڑھانے اور عالمی مسابقت بہتر بنانے کے اقدامات پر تفصیلی بات چیت کی اورپاکستانی قالینوں کی عالمی منڈیوں میں رسائی اور برآمدی مسابقت بڑھانے کے لیے پالیسی اقدامات کا جائزہ بھی لیا۔وفد نے علاقائی تجارتی رکاوٹوں اور عالمی سپلائی چین میں خلل سے قالینوں کی صنعت کو درپیش مشکلات سے وزیر تجارت کو آگاہ کیا۔(جاری ہے)
وفد نے کہا کہ کاروبار دوست اور قابلِ پیش گوئی پالیسی فریم ورک برآمدات کے فروغ کے لیے ناگزیر ہے۔ جام کمال نے کہا کہ حکومت شفاف، قواعد پر مبنی اور سرمایہ کار دوست پالیسیوں کے ذریعے برآمدات کے فروغ کے لیے پرعزم ہے،وزارتِ تجارت صنعت کی تجاویز پر متعلقہ اداروں سے مشاورت کے بعد قابلِ عمل حل تیار کرے گی۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان کی برآمدی حکمتِ عملی ویلیو ایڈیشن، برآمدی صنعت، برانڈنگ اور عالمی ویلیو چینز میں شمولیت پر مرکوز ہے، حکومت نجی شعبے کے تعاون سے تجارت میں حائل حقیقی رکاوٹیں دور کر کے برآمدات پر مبنی پائیدار ترقی کو فروغ دے گی۔\932