بلوچستان: سیکیورٹی فورسز کے آپریشنز کے بعد معمولات زندگی بحال
اشاعت کی تاریخ: 2nd, February 2026 GMT
بلوچستان میں سیکیورٹی فورسز کی کارروائیوں کے دوران اب تک 177 دہشتگرد ہلاک ہو چکے ہیں، جبکہ 33 عام شہری اور 17 سیکیورٹی اہلکار بھی شہید ہوگئے، تاہم اب زندگی معمول پر آرہی ہے۔
مزید پڑھیں: بلوچستان: سیکیورٹی فورسز کے ہاتھوں فتنہ الہندوستان کے مزید 22 دہشتگرد ہلاک، مجموعی تعداد 177 ہوگئی
اب صوبے میں زمینی صورتحال حکومت اور سیکیورٹی فورسز کے مکمل کنٹرول میں ہے اور زندگی تقریباً معمول پر واپس آ چکی ہے۔ البتہ موبائل ڈیٹا سروسز جزوی طور پر متاثر ہیں اور کلیئرنس آپریشنز جاری ہیں۔
سیکیورٹی فورسز نے بلوچستان کے مختلف علاقوں، بشمول قلات، خضدار، پنجگور، گوادر، نوشکی اور دالبندین میں انٹیلیجنس بیسڈ آپریشنز کیے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق سیکیورٹی فورسز کی جانب سے یہ آپریشنز مقامی قانون نافذ کرنے والے اداروں اور پولیس کے تعاون سے کیے جا رہے ہیں، تاکہ شہری نقصان کے امکانات کم سے کم ہوں۔
حکومت نے وعدہ کیا ہے کہ باقی ماندہ دہشتگردوں کا سراغ لگایا جائے گا تاکہ بلوچستان کے لوگ بلا خوف زندگی گزار سکیں۔
حکومت اور سیکیورٹی فورسز شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے ہر ممکن اقدامات کررہی ہیں۔
ادھر وزیر دفاع خواجہ آصف نے واضح کیا ہے کہ دہشتگردوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائےگی اور انہی کی زبان میں جواب دیا جائےگا۔
مزید پڑھیں: بلوچستان کے جغرافیائی حالات کی وجہ سے وہاں بڑے پیمانے پر فوج تعینات کرنے کی ضرورت ہے، وزیر دفاع خواجہ آصف
دوسری جانب وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنااللہ نے کہاکہ دہشتگردوں کے حوالے سے اگر مگر کی پالیسی کے بجائے انہیں صرف دہشتگرد کہا جائے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews آپریشنز بلوچستان سیکیورٹی فورسز معمولات زندگی بحال وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بلوچستان سیکیورٹی فورسز معمولات زندگی بحال وی نیوز سیکیورٹی فورسز
پڑھیں:
سکیورٹی فورسز کی مختلف کارروائیوں میں 17 دہشت گرد جہنم واصل
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق بلوچستان کے مختلف اضلاع میں کارروائیوں کے دوران سکیورٹی فورسز نے دہشتگردوں کے ٹھکانوں کو مؤثر طریقے سے نشانہ بنایا۔ اسلام ٹائمز۔ آئی ایس پی آر کے مطابق 24 مئی ٹرین حادثے کے بعد سکیورٹی فورسز نے بلوچستان کے مختلف اضلاع میں میں انٹیلی جنس پر مبنی آپریشنز کئے، آپریشن کا سلسلہ مستونگ، نوشکی، زہری، خضدار اور کیچ میں شروع کیا گیا۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق کارروائیوں کے دوران سکیورٹی فورسز نے دہشتگردوں کے ٹھکانوں کو مؤثر طریقے سے نشانہ بنایا، شدید فائرنگ کے تبادلے میں ہندوستانی پراکسی فتنہ الہندوستان سے تعلق رکھنے والے 17 دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا گیا۔
آئی ایس پی آر کے مطابق ہلاک دہشت گردوں کے قبضے سے اسلحہ، گولہ بارود، دھماکہ خیز مواد اور دیسی ساختہ بم بھی برآمد ہوئے، ہلاک دہشت گرد علاقے میں دہشت گرد کی متعدد کارروائیوں میں ملوث تھے۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق علاقوں میں کلیئرنس آپریشنز جاری ہے، عزمِ استحکام کے تحت انسداد دہشتگردی مہم پوری قوت سے جاری رہے گی، ملک سے بیرونی سرپرستی میں ہونے والی دہشتگردی کا خاتمہ کیا جائے گا۔