وزیربلدیات کی زیرصدارت اعلیٰ سطحی کمیٹی کااجلاس
اشاعت کی تاریخ: 3rd, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی (اسٹاف رپورٹر ) وزیر اعلیٰ سندھ کی ہدایت پر قائم اعلیٰ سطحی کمیٹی کا اجلاس صوبائی وزیر بلدیات سید ناصر حسین شاہ کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ اجلاس میں کراچی انفرا اسٹرکچر ڈیولپمنٹ پالیسی کے تحت کے ایم سی کے جاری اور مجوزہ ترقیاتی منصوبوں اور اسکیموں کا تفصیلی اور جامع جائزہ لیا گیا اور شہر میں جاری ترقیاتی کاموں کی رفتار‘ معیار‘ شفافیت اور عوامی افادیت پر تفصیلی غور کیا گیا۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ اعلیٰ سطحی کمیٹی کے ایم سی کے ترقیاتی منصوبوں کی براہ راست نگرانی کرے گی۔ منصوبوں کی ترجیحات کا واضح تعین کیا جائے گا اور پیش رفت سے متعلق وزیر اعلیٰ سندھ کو ماہانہ بنیادوں پر تفصیلی رپورٹ پیش کی جائے گی۔ صوبائی وزیر بلدیات سید ناصر حسین شاہ نے واضح کیا کہ تمام ترقیاتی منصوبے مقررہ مدت کے اندر مکمل کیے جائیں گے اور اسکیموں کو اینڈ ٹو اینڈ بنیادوں پر پایہ تکمیل تک پہنچایا جائے گا کیونکہ نامکمل اور تاخیر کا شکار منصوبے عوام کی مشکلات میں اضافے اور لاگت بڑھنے کا سبب بنتے ہیں جو کسی صورت قبول نہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) میں تنخواہوں اور الاؤنسز کی مد میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کرپشن کا انکشاف ہوا ہے۔
قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں آڈٹ حکام نے انکشاف کیا کہ حیسکو میں گھوسٹ ملازمین، ڈبل تنخواہوں کے ذریعے قومی خزانے کو نقصان پہنچایا گیا اور وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے)99 کروڑ 62 لاکھ کی مبینہ کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے۔
آڈٹ حکام نے مزید انکشاف کیا کہ حیسکو کی اندرونی انکوائری میں مزید 6 کروڑ 78 لاکھ روپے کی مشتبہ ادائیگیاں ہوئی ہیں۔
چیئرمین کمیٹی شاہدہ اختر کی زیرصدارت اجلاس میں ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ اس معاملے میں ایف آئی آرز کی تعداد 5 ہوگئی تھی، 151 ملزمان تھے جن میں سے 14 کو گرفتار کیا گیا جبکہ دیگر ضمانت پر ہیں، ایک ارب روپے میں سے 13 کروڑ روپے کی ریکوری ہوئی ہے۔
رکن کمیٹی قاسم نون نے کہا کہ 13 کروڑ روپے کچھ بھی نہیں ہیں، سخت ایکشن لیا جائے، سید امین الحق نے کہا کہ گھوسٹ ملازمین کی تصدیق بھی کی گئی کہ وہ موجود ہیں۔
سینیٹر افنان اللہ خان نے کہا کہ وزارت کو چاہیے کہ وہ مداخلت کرے اور ذمہ داران کا تعین کرے۔
چیئرمین کمیٹی شاہد اختر نے کہا کہ یہ تو آڈٹ نے نشان دہی کر دی ہے، لگتا ہے کہ پاور ڈویژن کا کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں ہے، جس پر سی ای او حیسکو نے بتایا کہ 756 ملین روپے کی ذمہ داری بھی فکس ہو چکی ہے۔
شاہدہ اختر نے کہا کہ عدالت کے حکم تک یہ آڈٹ پیرا زیر التوا رہے گا، رکن کمیٹی سید حسین طارق نے سوال کیا کہ حیسکو میں بائیو میٹرک سسٹم کیوں نہیں ہے۔
پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کی رکن شازیہ مری نے کہا کہ ہم ڈسکوز کو یہاں کمنٹس کے لیے نہیں احتساب کے لیے بلاتے ہیں، یہ لوگوں کو چور کہتے ہیں اور اپنی پرفارمنس کے گیت گاتے نہیں تھکتے۔
پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے ہدایت کی کہ 13 کروڑ روپے کی ریکوری کی آڈٹ سے تصدیق کرائی جائے، جو ریکوری رہ گئی ہے وہ معاملہ زیر التوا رہے گا۔