کراچی جو کبھی سیاحوں کے لیے پرکشش شہر ہوا کرتا تھا اب اسے تندور سے کیوں تشبیہ دی جا رہی ہے؟
اشاعت کی تاریخ: 3rd, February 2026 GMT
کراچی، جو کبھی اپنی معتدل ہواؤں اور سمندری لہروں کے لیے جانا جاتا تھا، آج ماحولیاتی تبدیلیوں کے دہانے پر کھڑا ایک ایسا میٹروپولیس بن چکا ہے جہاں ’ہیٹ ویو‘ اور ’اربن فلڈنگ‘ استثنا نہیں بلکہ معمول بنتے جا رہے ہیں۔
سٹی پولیوشن نامی جرمن ادارے کے مطابق لیاری کا علاقہ تنگ گلیوں، ایک دوسرے سے جڑی پست اور درمیانی بلند عمارتوں، غیر منصوبہ بند آبادکاری، ہوا کی آمد و رفت (وینٹیلیشن) کی کمی اور سبزہ زاروں کے فقدان کی وجہ سے پہچانا جاتا ہے۔ یہ طرزِ تعمیر گرمیوں کے مہینوں میں اس علاقے کے لیے شدید گرمی کے اثرات کو مزید سنگین بنا دیتا ہے، جس سے یہاں کے تقریباً 950,000 رہائشیوں کے لیے ‘اربن ہیٹ آئی لینڈ’ (اربن ہیٹ آئی لینڈ اس مقام کو کہا جاتا ہے جہاں سبز مقامات نہ ہوں جس کے باعث اس کے درجہ حرارت بڑھتا جا رہا ہو) نامی رجحان جنم لیتا ہے۔
یہ بھی پڑھیے: آج ملک کے کن حصوں میں بارش اور برفباری کا امکان ہے؟ محکمہ موسمیات نے بتا دیا
پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی کو جون 2024 میں شدید ہیٹ ویو کا سامنا کرنا پڑا، جہاں درجہ حرارت 40 ڈگری سینٹی گریڈ سے تجاوز کر گیا اور بلند ترین سطح 47.
اسی تناظر میں کراچی میں جاری شہر کے معروف علمی و سماجی حلقوں کی جانب سے منعقدہ ’کلائمیٹ ویک‘ محض ایک تقریب نہیں بلکہ اس شہر کے بقا کی جنگ کا اعلان ثابت ہو رہا ہے۔
سمندر کی بڑھتی سطح اور تپتا شہرکانفرنس کے افتتاحی سیشن میں ماہرینِ ماحولیات اور اربن پلانرز نے اس کڑوے سچ سے پردہ اٹھایا کہ کراچی کو دوہرے خطرے کا سامنا ہے۔ ایک طرف سمندر کی سطح میں سالانہ بنیادوں پر ہونے والا اضافہ ساحلی بستیوں کے لیے خطرہ ہے، تو دوسری طرف ’کنکریٹ کے جنگل‘ نے شہر کو ایک ‘اربن ہیٹ آئی لینڈ’ (تپتا ہوا جزیرہ) بنا دیا ہے۔
اس کانفرنس میں کراچی کے قدرتی محافظ (ٹمبر مافیا اور تجاوزات کی نذر ہوتے مینگرووز) کی کٹائی پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا۔ بارش کے پانی کو محفوظ کرنے کے لیے کسی جامع اسٹروم واٹر ڈرینج سسٹم کی عدم موجودگی شہر کی فضا میں شامل زہریلا دھواں جو سانس کی بیماریوں میں 40 فیصد اضافے کا سبب بنا ہے۔
یہ بھی پڑھیے: ہاؤس پلانٹس: ماحولیاتی انقلاب کی طرف ایک مثبت قدم
ڈیزاسٹر مینیجمنٹ کے ماہر فواد شیروانی نے وی نیوز کو بتایا کہ ہمارے سامنے ایک تازہ مثال سانحہ گل پلازہ ہے، اب اس سانحہ پر تحقیقات بھی ہوں گی رپورٹس بھی آجائیں گی لیکن کیا ہم آگے بہتر کی امید رکھ سکتے ہیں؟ ان کا کہنا تھا کہ ہر سانحہ ہمیں سیکھنے کا موقع دیتا ہے لیکن افسوس اس بات کا ہے کہ کوئی تعمیری کام نظر نہیں آتا۔
فواد شیروانی کے مطابق اس شہر کے عوام بنیادی سہولیات سے محروم ہیں، پہلی تو کھلی فضا ناپید ہو رہی ہے اور جو ہے وہ بھی زہریلی ہے، عمارتوں کو جس طرح بنا پلاننگ کے تعمیر کیا جا رہا ہے وہ مستقبل میں خطرات کو مزید بڑھا رہا ہے، انہوں نے ایک مثال دیتے ہوئے کہا کہ اس دور میں گاڑی خریدتے وقت تو ہم اس کے فیچرز دیکھ کر خریدتے ہیں لیکن ایک عمارت جس میں ہم نے رہائش اختیار کرنی ہے وہاں ہم اپنی حفاظت کے لیے بنیادی ضروریات کو نظر انداز کر جاتے ہیں، کیا ہمارے ارد گرد بچوں کی پرورش کے لیے وہ ماحول دستیاب ہے جس سے وہ ایک نارمل زندگی گزار سکیں؟
پرندوں کی فوٹوگرفر زوہیب احمد کا کہنا ہے کہ اگر ہم گزشتہ 3 دہائیوں کا جائزہ لیں، تو کراچی کی آب و ہوا میں تبدیلی کوئی اچانک رونما ہونے والا واقعہ نہیں ہے۔ یہ برسوں کی مجرمانہ غفلت، غیر قانونی تعمیرات اور درختوں کی بے دریغ کٹائی کا نتیجہ ہے۔ کلائمیٹ ویک جیسے پلیٹ فارمز خوش آئند ضرور ہیں، لیکن کیا یہ بحث ایوانوں تک پہنچ کر عملی قانون سازی میں تبدیل ہو پائے گی؟ یہ اصل سوال ہے۔
یہ بھی پڑھیے: طوفان، خشک سالی اور سیلاب، سال 2025 موسم اور ماحولیات کے حوالے سے کیسا رہا؟
ان کا مزید کہنا ہے کہ کراچی کو اس وقت بیانات کی نہیں، بلکہ ایک گرین ماسٹر پلان کی ضرورت ہے جس میں ہر نئی تعمیر کے ساتھ شجرکاری کو لازمی قرار دیا جائے، زوہیب کے مطابق وہ پرندے جو کراچی میں ہوا کرتے تھے جیسے کہ گدھ وہ غائب ہو چکے ہیں، یہاں ناریل کے کھجور کے درخت اور دیگر مقامی درخت ہوا کرتے تھے ان کی جگہ عمارتوں نے لے لی اور پرندوں کو ان کا موافق ماحول نہیں مل رہا وہ یہاں سے جا چکے جو قدرتی ایک پراسس تھا وہ رک سا گیا ہے جس کا نقصان ہم دیکھ سکتے ہیں۔
اب نہیں تو کبھی نہیںکلائمیٹ ویک میں ایک ایکشن پلان پیش کیا گیا جس میں حکومتِ سندھ اور بلدیاتی اداروں سے مطالبہ کیا گیا کہ شہر کے صنعتی علاقوں میں ایمیشن کنٹرول سسٹمز کی فوری تنصیب کی جائے۔ عوامی نقل و حمل کو بجلی یا کلین انرجی پر منتقل کیا جائے۔ شہری جنگلات کے منصوبوں کو نچلی سطح تک پھیلایا جائے۔
اس کانفرنس میں ماہرین نے زور دیا کہ کراچی کا کلائمیٹ ویک ہمیں یاد دلاتا ہے کہ اگر ہم نے فطرت کے ساتھ اپنے رویوں کو نہ بدلا، تو آنے والی نسلوں کے پاس رہنے کے لیے صرف ایک گرم اور بنجر ساحل ہی باقی رہ جائے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
کراچی کلائمیٹ ویک ماحولیات موسم
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: کراچی ماحولیات کے لیے شہر کے
پڑھیں:
کراچی، شہر کے مختلف علاقوں میں پولیس مقابلے، 5 ڈاکو زخمی حالت میں گرفتار
کراچی:شہر قائد کے مختلف علاقوں میں پولیس نے مبینہ مقابلوں کے دوران چار ملزمان کو زخمی حالت میں گرفتار کر لیا جبکہ ایک فرار ہونے والے مبینہ ڈاکو کو شہریوں نے پکڑ کر تشدد کے بعد پولیس کے حوالے کر دیا۔
پولیس اور چھیپا حکام کے مطابق اورنگی ٹاؤن تھانے کی حدود میں سیکٹر 8، اللہ والا کالج کے قریب مبینہ پولیس مقابلے میں ایک مبینہ ڈاکو زخمی حالت میں گرفتار کیا گیا۔
زخمی ملزم کو عباسی شہید اسپتال منتقل کیا گیا جہاں اس کی شناخت سبیل کے نام سے ہوئی۔ ملزم کے قبضے سے اسلحہ اور دیگر سامان بھی برآمد کیا گیا۔
ادھر بوٹ بیسن تھانے کی حدود میں کلفٹن، عبداللہ شاہ غازی مزار پل کے قریب مبینہ مقابلے کے دوران ایک مبینہ ڈاکو پولیس کی فائرنگ سے زخمی ہو گیا، جس کی شناخت مانی کے نام سے ہوئی۔
اسے جناح اسپتال منتقل کر دیا گیا۔ اس دوران فرار ہونے کی کوشش کرنے والے دوسرے مبینہ ملزم کو شہریوں نے پکڑ کر تشدد کا نشانہ بنایا بعد ازاں اسے پولیس کے حوالے کر دیا گیا۔ زخمی ملزم کی شناخت سکندر کے نام سے کی گئی۔
دوسری جانب شرافی گوٹھ پولیس نے کورنگی سنگر چورنگی کے قریب راڈو بیکری کے علاقے میں مبینہ مقابلے کے بعد ایک مبینہ ڈاکو اویس کو زخمی حالت میں گرفتار کیا۔ ملزم کو جناح اسپتال منتقل کیا گیا جبکہ اس کے قبضے سے اسلحہ اور دیگر سامان بھی برآمد ہوا۔
اسی طرح قائدآباد تھانے کی حدود میں لانڈھی شیر پاؤ کالونی، مولیٰ مدد قبرستان کے قریب مبینہ پولیس مقابلے میں ایک اور مبینہ ڈاکو زخمی حالت میں گرفتار کیا گیا۔
چھیپا حکام کے مطابق زخمی ملزم کو جناح اسپتال منتقل کیا گیا جہاں اس کی شناخت وارث خان کے نام سے ہوئی۔