بھارت میں ہندوتوا کا جن بے قابو، کھیلوں کو بھی سیاست کی نذر کیا جا رہا ہے: مصدق ملک
اشاعت کی تاریخ: 3rd, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
وفاقی وزیر مملکت مصدق ملک نے کہا ہے کہ بھارت میں ہندوتوا کا جن دن بدن بے قابو ہوتا جا رہا ہے اور اب سرحدوں اور پانی کے بعد کھیلوں کو بھی سیاست زدہ کیا جا رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ طرزِ عمل خطے میں امن اور کھیلوں کی روح دونوں کے لیے خطرناک ہے۔
ایک بیان میں مصدق ملک نے کہا کہ کھیل ہمیشہ امن، برداشت اور بھائی چارے کی علامت رہے ہیں۔ جب کھلاڑی میدان میں اترتے ہیں تو رنگ، نسل، زبان اور مذہب پس منظر میں چلے جاتے ہیں اور صرف صلاحیت، محنت اور کھیل کا حسن نمایاں ہوتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ کرکٹ جیسے مقبول اور عالمی کھیل کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنا بھارت کا انتہائی گھناؤنا اقدام ہے۔ کھیلوں کو نفرت، تعصب اور سیاسی دباؤ کا ہتھیار بنانا نہ صرف کھیل کی روح کے خلاف ہے بلکہ عالمی اقدار کی بھی نفی ہے۔
وفاقی وزیر نے واضح کیا کہ پاکستان کا احتجاج اور بھارت کے خلاف میچ نہ کھیلنے کا فیصلہ بالکل درست اور اصولی مؤقف ہے۔ ان کے مطابق پاکستان نے ہمیشہ کھیلوں کو سیاست سے دور رکھنے کی بات کی ہے، مگر جب کھیل کو سیاسی دباؤ کا شکار بنایا جائے تو خاموشی ممکن نہیں رہتی۔
واضح رہے کہ بنگلا دیش کرکٹ بورڈ نے 6 فروری سے بھارت اور سری لنکا میں شروع ہونے والے ٹی 20 ورلڈ کپ کے دوران سکیورٹی خدشات کی بنیاد پر اپنی ٹیم بھارت بھیجنے سے انکار کر دیا تھا، جس کے بعد پاکستان نے بنگلا دیش کے اس مؤقف کی حمایت کی۔
تاہم آئی سی سی نے بنگلا دیش کرکٹ بورڈ کے تحفظات کو تسلیم نہیں کیا اور بنگلا دیش کی جگہ اسکاٹ لینڈ کو ٹی 20 ورلڈ کپ 2026 کا حصہ بنا دیا۔ آئی سی سی کی مبینہ بھارت نواز پالیسیوں اور بنگلا دیش کو ٹورنامنٹ سے باہر کرنے کے فیصلے پر پاکستان نے سخت ردعمل دیتے ہوئے بھارت سے میچ نہ کھیلنے کا اعلان کیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کھیلوں کو بنگلا دیش
پڑھیں:
مہاجرین کی نشستوں کے مستقبل پر بڑا فیصلہ قریب، اہم پیش رفت سامنے آگئی
مظفرآباد: مہاجرین کی نشستیں آزاد جموں و کشمیر کی سیاست میں ایک بار پھر توجہ کا مرکز بن گئی ہیں، جہاں ان نشستوں کے مستقبل سے متعلق اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت نے اس معاملے پر نرم رویہ اختیار کرتے ہوئے مکمل خاتمے کے بجائے نشستوں کی تعداد میں کمی کی تجویز پر غور شروع کر دیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ وادی کشمیر سے تعلق رکھنے والے مہاجرین کی چھ نشستیں کم کرنے کی ابتدائی تجویز زیر غور ہے۔ اس پیش رفت کو انتخابی اصلاحات کے حوالے سے ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے، جس سے طویل عرصے سے جاری سیاسی بحث کو کسی نتیجے تک پہنچانے میں مدد مل سکتی ہے۔
اطلاعات کے مطابق وفاقی حکومت جلد آزاد کشمیر کی قیادت کو اپنے مؤقف سے آگاہ کرے گی۔ اس سلسلے میں وزیراعظم آزاد کشمیر کی جانب سے جوائنٹ پبلک ایکشن کمیٹی سے رابطے کا بھی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے تاکہ مختلف سیاسی اور سماجی حلقوں کو اعتماد میں لیا جا سکے۔
دوسری جانب آزاد کشمیر میں انتخابی اصلاحات کے موضوع پر کل ہونے والی آل پارٹیز کانفرنس بھی غیر معمولی اہمیت اختیار کر گئی ہے۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ مہاجرین کی نشستیں کم کرنے کی تجویز پر اتفاق رائے پیدا ہونے سے انتخابی نظام میں اصلاحات کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔
ذرائع کے مطابق اس معاملے پر مختلف سیاسی جماعتوں اور اسٹیک ہولڈرز کے درمیان مشاورت جاری ہے، جبکہ وفاقی حکومت بھی ایسا حل تلاش کرنے کی کوشش کر رہی ہے جو تمام فریقوں کے لیے قابل قبول ہو۔
سیاسی حلقوں کا ماننا ہے کہ اگر اس معاملے پر اتفاق رائے پیدا ہو جاتا ہے تو یہ آزاد کشمیر کی سیاسی تاریخ میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے۔