فلسطین کے حق میں مظاہرے؛ ٹرمپ کا ہارورڈ یونیورسٹی پر ایک ارب ڈالر ہرجانے کا دعویٰ
اشاعت کی تاریخ: 3rd, February 2026 GMT
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ ان کی انتظامیہ ہارورڈ یونیورسٹی پر ایک ارب ڈالر ہرجانے کا دعویٰ کر رہی ہے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق صدر ٹرمپ کا یہ مطالبہ ان وفاقی تحقیقات کے تناظر میں سامنے آیا ہے جس میں نیورسٹی کی پالیسیوں اور کیمپس کے ماحول کے یہود دشمن ہونے کا انکشاف کیا گیا تھا۔
امریکی صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر بیان دیتے ہوئے کہا کہ ہم اب ایک ارب ڈالر ہرجانے کا مطالبہ کر رہے ہیں اور مستقبل میں ہارورڈ یونیورسٹی سے ہمارا کوئی مزید تعلق نہیں ہونا چاہیے۔
انہوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ یہ رقم کس بنیاد پر طے کی گئی یا کن مخصوص نقصانات کے ازالے کے لیے مانگی جا رہی ہے۔
ہارورڈ یونیورسٹی نے فوری طور پر صدر ٹرمپ کے اس نئے مطالبے پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا۔
پس منظر: کیمپس احتجاج اور ٹرمپ انتظامیہ کا دباؤ
ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ گزشتہ کئی ماہ سے ہارورڈ سمیت متعدد امریکی جامعات کو خبردار کر رہی ہے کہ اگر انہوں نے کیمپس میں مبینہ یہود مخالف سرگرمیوں، فلسطین کے حق میں ہونے والے مظاہروں، تنوع (diversity) پروگرامز اور ٹرانس جینڈر پالیسیوں پر نظرثانی نہ کی تو وفاقی فنڈنگ روکی جا سکتی ہے۔
انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ غزہ جنگ کے دوران ہونے والے فلسطین نواز مظاہروں میں بعض مواقع پر یہود دشمن نعروں اور رویوں کو برداشت کیا گیا، جس سے یہودی اور اسرائیلی طلبہ کے لیے ماحول معاندانہ ہو گیا۔
جس پر ٹرمپ حکام اور ہارورڈ یونیورسٹی کی انتظامیہ کے درمیان کئی ماہ سے بات چیت جاری ہے۔
صدر ٹرمپ نے ستمبر میں کہا تھا کہ ایک سمجھوتہ قریب ہے جس میں ہارورڈ کی جانب سے 500 ملین ڈالر کی ادائیگی شامل ہو سکتی ہے۔
ہارورڈ نے بھی گزشتہ سال ٹرمپ انتظامیہ کے خلاف مقدمہ دائر کیا تھا جس پر ایک جج نے قرار دیا کہ حکومت نے یونیورسٹی کی کچھ گرانٹس غیر قانونی طور پر ختم کیں۔
رپورٹس کے مطابق بعض دیگر جامعات حکومت سے سمجھوتہ کر چکی ہیں جن میں کولمبیا یونیورسٹی نے 220 ملین ڈالر سے زائد ادائیگی پر اتفاق کیا۔
اسی طرح براؤن یونیورسٹی نے 50 ملین ڈالر مقامی ورک فورس ڈویلپمنٹ کے لیے دینے کا اعلان کیا ہے۔
دوسری جانب مظاہرین اور بعض یہودی گروپس کا بھی کہنا ہے کہ اسرائیل کی پالیسیوں پر تنقید یا فلسطینیوں کے بنیادی حقوق کی حمایت کو یہود دشمنی قرار دینا درست نہیں۔
ادھر ایک داخلی رپورٹ اور حکومتی تحقیقات کے مطابق ہارورڈ کیمپس میں یہودی اور اسرائیلی طلبہ کو شدید سماجی و تعلیمی دباؤ کا سامنا رہا اور یونیورسٹی انتظامیہ اس صورتحال سے مؤثر طور پر نمٹنے میں ناکام رہی۔
انسانی حقوق کے حلقوں نے بھی ٹرمپ انتظامیہ کی تحقیقات پر آزادی اظہار اور تعلیمی خودمختاری کے حوالے سے تحفظات ظاہر کیے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ہارورڈ یونیورسٹی
پڑھیں:
ٹرمپ کی خام خیالی تھی وہ ہمیں مذاکرات میں لگاکر حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے، ایرانی سفیر
ایرانی سفیر رضا امیری مقدم(فائل فوٹو)۔پاکستان میں متعین ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے کہا کہ ٹرمپ کی خام خیالی تھی کہ وہ ہمیں مذاکرات میں مشغول کرکے حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے۔
ایرانی سفیر نے کہا کہ میناب میں اسکول اور عام شہریوں کو نشانہ بنایا گیا، امریکا اور اسرائیل کو 40 روزہ جنگ کے بعد شکست کا سامنا کرنا پڑا۔
اسلام آباد میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے مزید کہا کہ مذاکرات کے حوالے پاکستان ثالث کے طور پر ابھرا، ہم مذاکرات میں اس لیے آئے کہ ہماری نیت ہے، ٹرمپ کہتے ہیں کہ ہمارے پاس ایٹمی ہتھیار نہیں ہونے چاہئیں۔
ایرانی سفیر نے کہا ہمارے رہبر اعلیٰ نے فتویٰ دیا ہوا ہے کہ ہم ایٹمی ہتھیاروں کو حرام سمجھتے ہیں، مذاکرات کی میز پر امریکی کہتے ہیں آپ یورینیم بھی افزودہ نہیں کرسکتے۔
رضا امیری مقدم نے کہا کہ ایٹمی ہتھیاروں اور پرامن مقاصد کیلئے یورینیم افزودہ کرنا الگ ہے، امریکا اور مغرب کے سامنے ایران کبھی نہیں جھکے گا۔
ایرانی سفیر نے کہا کہ ٹرمپ صبح سے شام تک دیوانوں کی طرح باتیں کرتے رہتے ہیں، ان کی خام خیالی تھی کہ وہ ہمیں مذاکرات میں مشغول کرکے حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے۔