کشمیر اسمبلی میں کشمیری مسلم طلبہ اور شال فروشوں پر بھارت بھر میں تشدد کے مسئلہ کی گونج
اشاعت کی تاریخ: 3rd, February 2026 GMT
مبارک گل نے بھاجپا کا نام لئے بغیر کہا یہ لوگ کشمیر کی زمین تو ہتھیانا چاہتے ہیں لیکن کشمیر کے لوگون کو اپنانے میں کوئی دلچسپی نہیں دکھا رہے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی میں اتراکھنڈ اور بھارت کی دیگر ریاستوں میں کشمیری مسلم طلبہ، تاجروں اور عام شہریوں کو تشدد اور ہراسانی کا نشانہ بنانے کی بڑھتی ہوئی کارروائیوں پر حکمران نیشنل کانفرنس اور اپوزیشن سے وابستہ کئی اراکین اسمبلی نے احتجاج کیا۔ جموں و کشمیر کے وزیراعلٰی عمر عبداللہ نے بھی کشمیریوں کو ہراساں کئے جانے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے یہ معاملہ مرکزی وزیر داخلہ اور شمالی ہند کی ریاستوں کے وزرائے اعلیٰ کے ساتھ اٹھایا ہے۔
آج جونہی بجٹ اجلاس کے دوسرے دن کی کارروائی شروع ہوئی تو حکمران جماعت نیشنل کانفرنس (این سی) کے عیدگاہ حلقے کے ایم ایل اے مبارک گل نے جموں و کشمیر سے باہر کشمیری عوام کو نشانہ بنائے جانے کا مسئلہ اٹھاتے ہوئے کہا کہ حکومت کو اس معاملے کو متعلقہ ریاستی حکومتوں کے ساتھ سنجیدگی سے مسئلہ اٹھانا چاہیئے۔ انہوں نے بھاجپا کا نام لئے بغیر کہا یہ لوگ کشمیر کی زمین تو ہتھیانا چاہتے ہیں لیکن کشمیر کے لوگون کو اپنانے میں کوئی دلچسپی نہیں دکھا رہے ہیں۔
مبارک گل کا ساتھ انکے کپوارہ اسمبلی رکن میر سیف اللہ نے بھی دیا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ انہیں بیرون ریاست سے ٹیلیفون کالز موصول ہورہی ہیں جن مین کہا جارہا ہے کہ بیرون کشمیر عارضی طور رہنے والے کشمیریوں کو انکے کرایے کے کمروں سے باہر نکلنے نہیں دیا جارہا ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ بعض جگہوں پر 50 سے 100 کے قریب رہنے والے کشمیریوں کو اپنے کرایے کے گھروں میں بند کیا گیا ہے اور وہ باہر نکلنے میں خوف محسوس کررہے ہیں۔
اسی دوران پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کے پلوامہ سے منتخب ایم ایل اے وحید الرحمٰن پرہ نے کشمیریوں کو ہراساں کئے جانے کے واقعات پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ کشمیری طلبہ، بالخصوص کشمیری مسلم طلبہ، کو دیگر ریاستوں میں نشانہ بنایا جا رہا ہے اور انہیں کرائے کے کمروں سے زبردستی نکالا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس مسئلے کی جانب توجہ مبزول کرنے کی خاطر انہوں نے ایک تحریک التوا اسمبلی اسپیکر کے دفتر میں جمع کی ہے اور وہ چاہتے ہیں کہ اس حساس معاملے پر ایوان میں بحث کی جائے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: کشمیریوں کو انہوں نے کہا کہ
پڑھیں:
کراچی کے سرکاری کالجز میں انٹرسال اول کیلیے داخلے شروع نہ ہوسکے، سوا لاکھ طلبا منتظر
محکمہ کالج ایجوکیشن سندھ واضح اعلان کے باوجود کراچی میں سرکاری کالجوں میں داخلہ شروع نہیں کرسکا ہے اور کم از کم سوا لاکھ طلبہ انٹر سال اول میں داخلوں کے منتظر ہیں۔
تفصیلات کے مطابق انٹر سال اول میں داخلہ یکم جون سے شروع ہونے تھے اس سلسلے میں 23 مئی کو قومی اخبارات میں اشتہارات جاری کیے گئے تھے جس کے مطابق تمام سرکاری کالجوں میں انٹر سال اول میں نویں جماعت کے نتائج کی بنیاد پر یکم جون سے داخلہ فارم کی رجسٹریشن شروع ہوجانی تھی جبکہ داخلہ فارم رجسٹریشن کی آخری تاریخ 15 جولائی مقرر کی گئی ہے۔
انٹر سال اول میں صرف کراچی کے سرکاری کالجوں میں سوا لاکھ کے قریب طلبہ داخلہ لیتے ہیں جن کے لیے سینٹرلائزڈ ایڈمیشن پالیسی کے تحت 6 مختلف فیکیلٹیز پری انجینئرنگ، پری میڈیکل، کمپیوٹر سائنس ، کامرس ، ہیومینیٹیز اور ہوم اکنامکس میں داخلے دیے جاتے ہیں۔
اس سلسلے میں جب میٹرک کا امتحان دینے والے داخلے کے خواہشمند طلبہ نے www.seccap.dgcs..gos.pk کے پورٹل پر داخلہ رجسٹریشن فارم تک پہنچنے کی کوشش کی تو معلوم ہوا کہ یہ پورٹل ہی بند ہے۔
ادھر "ایکسپریس" نے اس سلسلے میں ڈائریکٹر جنرل کالجز سندھ پروفیسر زاہد راجپر سے جب اس سلسلے میں رابطہ کیا تو ان کا کہنا تھا کہ تکنیکی وجوہات کی بنا پر پورٹل بند ہے ہماری ٹیکنیکل ٹیم کام کررہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پوری امید ہے کہ بدھ کی صبح تک پورٹل کھل جائے جس کے بعد طلبہ داخلے کے لیے اپلائی کرسکیں گے۔
ڈی جی کالجز کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس بار ہم نے تمام سرکاری کالجوں میں "ڈیس ایبل" کوٹہ مختص کیا ہے تاکہ ایسے طلبہ اس کوٹے کی بنیاد پر اپنے قرب و جوار کے کالجوں میں بھی اپلائی کرسکتے ہیں۔