عمران خان اور بشری بی بی کی درخواست؛ جواب جمع نہ کرانے پر سپرنٹنڈنٹ جیل اڈیالہ کو شوکاز نوٹس WhatsAppFacebookTwitter 0 3 February, 2026 سب نیوز

راولپنڈی(آئی پی ایس )عمران خان اور بشری بی بی کی درخواست پر جواب جمع نہ کرانے پر سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کو شوکاز نوٹس جاری کردیا گیا۔تفصیلات کے مطابق بانی پی ٹی آئی عمران خان اور ان کی اہلیہ بشری بی بی کی ذاتی معالجین سے طبی معائنہ کرانے سے متعلق عدالت میں دائر کی گئی درخواست پر جواب جمع نہ کرانے پر سپرنٹنڈنٹ جیل اڈیالہ کو شوکاز نوٹس جاری کردیا گیا۔

عدالت نے حکم دیا کہ سپرنٹنڈنٹ جیل اڈیالہ کل عدالت میں پیش ہوکر جواب اور شوکاز نوٹس کا تحریری جواب جمع کرائیں۔واضح رہے کہ عدالت نے عمران خان اور بشری بی بی کے ذاتی معالجین سے طبی معائنہ کرانے کی درخواست پر جواب طلب کیا تھا، تاہم آج سپرنٹنڈنٹ جیل اڈیالہ پیش نہیں ہوئے اور جواب بھی جمع نہیں کرایا گیا۔وکلا کے توسط سے ذاتی معالجین ڈاکٹر یوسف ،ڈاکٹر خرم اور ڈاکٹر ثمینہ نیازی سے معائنہ کی درخواست دائر کی گئی تھی۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرمشال یوسفزئی ٹی وی پر بیٹھ کر جھوٹ بولتی ہے وہ عمران خان کی خیرخواہ نہیں، ہمشیرہ بانی پی ٹی آئی علیمہ خان مشال یوسفزئی ٹی وی پر بیٹھ کر جھوٹ بولتی ہے وہ عمران خان کی خیرخواہ نہیں، ہمشیرہ بانی پی ٹی آئی علیمہ خان وفاقی وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب سے مزمل اسلم کی ملاقات ، جائز مالی مطالبات کے حصول میں مکمل تعاون کی یقین دہانی نائب وزیراعظم اسحاق ڈار سے چینی سفیر کی ملاقات، علاقائی صورتحال پر تبادلہ خیال پاکستان اور لیبیا کے درمیان دوطرفہ تعلقات کو فروغ دینے پر اتفاق کینڈین ہائی کمشنر کی وزیرمواصلات سے ملاقات، مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق قیدی کو گفتگو سے کوئی نہیں روک سکتا، پابندی کا جیل رول بھی غیر آئینی ہے، سلمان اکرم راجا TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2025, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہماری ٹیم.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Sub News

کلیدی لفظ: جواب جمع نہ کرانے پر سپرنٹنڈنٹ عمران خان اور بشری بی بی سپرنٹنڈنٹ جیل اڈیالہ کو شوکاز نوٹس بشری بی بی کی کی درخواست

پڑھیں:

سابق وفاقی وزیر سردار یار محمد رند کی سفری پابندی کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ

اسلام آباد:

اسلام آباد ہائی کورٹ نے سابق وفاقی وزیر سردار یار محمد رند کی سفری پابندی کے خلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا۔

جسٹس انعام امین منہاس نے درخواست پر سماعت کی، درخواست گزار کی جانب سے بیرسٹر ظفر اللہ جبکہ اسسٹنٹ اٹارنی جنرل، ایف آئی اے اور امیگریشن حکام بھی عدالت پیش ہوئے۔ عدالتی ہدایت پر بیرسٹر ظفر اللہ نے کوئٹہ پولیس کا خط پڑھا۔

جسٹس انعام امین منہاس نے استفسار کیا کہ متعلقہ پولیس کہہ رہی ہے بندہ نہیں چاہیے، ایف آئی اے کو بھی مطلوب نہیں، جن کو چاہیے تھا ان کو بھی اب نہیں چاہیے، پھر ابھی تک نام کیوں نہیں نکالا؟

ایف آئی اے حکام نے جواب دیا کہ ای سی ایل میں نام نہیں ہے، صرف پی این آئی لسٹ میں نام ہے جو 28 مارچ کو ڈالا گیا۔

عدالت نے استفسار کیا کہ اس لسٹ میں نام کتنے دن کے لیے ہوتا ہے اور کب مکمل ہوئی؟ ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ ایک ماہ کے لیے ہوتا ہے اور پھر ایک ماہ کی توسیع لینا ہوتی ہے۔ عدالت نے استفسار کیا کہ زیادہ سے زیادہ 60 روز رکھ سکتے ہیں تو اب جولائی ہے، کتنے ماہ ہوگئے ہیں؟ ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ 5 ماہ ہوگئے، ابھی تک ہمیں آفیشلی کوئی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔

عدالت نے ایف آئی اے افسر سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ اتنے وقت کیسے آپ رکھ سکتے ہیں، کس قانون کے تحت ابھی تک رکھا ہوا ہے۔ جسٹس راجہ انعام امین نے ریمارکس دیے کہ ایسے کتنے ہی کیسز ہمارے پاس آرہے ہیں، کتنی بار لکھ بھی چکے ہیں، سپریم کورٹ کا فیصلہ بھی ہے۔

عدالت نے سردار یار محمد رند کی سفری پابندی لسٹ سے نام نکالنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔

متعلقہ مضامین

  • قانون میں کم عمری کی شادی کیخلاف سزا کا ذکر ہے نکاح منسوخی کا نہیں، جج آئینی عدالت
  • سابق وفاقی وزیر سردار یار محمد رند کی سفری پابندی کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ
  • ماریہ شہباز کیس: وفاقی آئینی عدالت نے نظرثانی درخواست پر اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو نوٹس جاری کر دیے
  • سرداریار محمد رند کی سفری پابندی کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ
  • ایف بی آر کا انکم ٹیکس ریٹرنز جمع کرانے سے متعلق اہم اعلان
  • تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • 5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • عطا اللہ تارڑ نے اب تک معافی نہیں مانگی، وزیراعظم وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لیں، سحر کامران
  • انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا جواب شدید اور وسیع ہوگا، ایران
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ