ملکی برآمدات میں بہتری کے باوجود تجارتی خسارہ نمایاں حد تک بڑھنے کا انکشاف
اشاعت کی تاریخ: 4th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
رواں مالی سال کے ابتدائی 7 ماہ کے دوران پاکستان کے تجارتی خسارے میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس نے معاشی ماہرین اور پالیسی سازوں کی توجہ اپنی جانب مبذول کرا لی ہے۔
وفاقی ادارہ شماریات کی جانب سے جاری کردہ تازہ اعداد و شمار کے مطابق جولائی سے جنوری کے عرصے میں تجارتی خسارہ 28 فیصد بڑھ کر 22 ارب ڈالر سے تجاوز کر گیا ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق جنوری 2026 میں ایک مثبت پیش رفت یہ سامنے آئی کہ پاکستانی برآمدات پہلی بار 3 ارب ڈالر کی حد عبور کر گئیں۔ ماہِ جنوری میں برآمدات کا حجم 35 فیصد اضافے کے ساتھ 3.
اسی دوران درآمدات میں بھی معمولی کمی دیکھی گئی اور وہ 5 فیصد کم ہو کر 5.8 ارب ڈالر رہیں۔
ماہانہ بنیادوں پر دیکھا جائے تو جنوری میں تجارتی خسارہ 29 فیصد کمی کے بعد 2.7 ارب ڈالر تک محدود رہا، تاہم سالانہ تناظر میں تصویر مختلف نظر آتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق جولائی سے جنوری کے دوران تجارتی خسارہ گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں 17 ارب ڈالر سے بڑھ کر 22 ارب ڈالر سے تجاوز کر گیا ہے۔
رواں مالی سال کے پہلے سات ماہ میں برآمدات مجموعی طور پر 7 فیصد کمی کے بعد 18.19 ارب ڈالر رہیں جب کہ اسی عرصے میں درآمدات میں 9.42 فیصد اضافہ ہوا اور وہ 40 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئیں۔ گزشتہ سال اسی مدت میں درآمدات کا حجم 36.77 ارب ڈالر تھا، جس سے درآمدی دباؤ میں اضافے کا واضح اندازہ ہوتا ہے۔
اعداد و شمار یہ بھی ظاہر کرتے ہیں کہ جنوری 2025 کے مقابلے میں پاکستانی برآمدات میں 3.73 فیصد اضافہ ہوا، جو مستقبل کے لیے حوصلہ افزا اشارہ سمجھا جا رہا ہے۔ اس حوالے سے مشیر وزیرِ خزانہ خرم شہزاد کا کہنا ہے کہ ماہانہ بنیادوں پر برآمدات میں اضافہ اور درآمدات میں کمی معیشت میں بہتری کے آثار ہیں۔
انہوں نے کہا کہ توانائی کی لاگت میں کمی اور شرحِ سود میں نرمی سے آئندہ مہینوں میں برآمدات کو مزید فروغ ملنے کا امکان ہے، تاہم مجموعی تجارتی خسارے پر قابو پانے کے لیے مسلسل اور مربوط معاشی پالیسیوں کی ضرورت برقرار رہے گی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: تجارتی خسارہ ارب ڈالر سے
پڑھیں:
بٹ کوائن کی تاریخی گراوٹ، سرمایہ کاروں کے کروڑوں ڈالر ڈوب گئے
دنیا کی سب سے بڑی اور مقبول ترین کرپٹو کرنسی ’بٹ کوائن‘ کی قیمت میں اچانک تاریخی گراوٹ دیکھی گئی ہے، جس کے بعد یہ 70 ہزار ڈالر کی نفسیاتی سطح سے بھی نیچے گر گیا ہے۔
مارکیٹ رپورٹ کے مطابق اس اچانک کمی کے نتیجے میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کرپٹو مارکیٹ سے تقریباً 80 کروڑ (800 ملین) ڈالر مالیت کی لیوریجڈ ٹریڈنگ پوزیشنز یکدم ختم (لیکویڈیٹ) ہو گئی ہیں، جس سے سرمایہ کاروں کو شدید ترین نقصان کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
قیمتوں میں گراوٹ اور مارکیٹ کیپٹلائزیشن میں کمیمارکیٹ کے تازہ ترین ڈیٹا کے مطابق منگل کو ’بٹ کوائن‘ کی قیمت گر کر تقریباً 69,400 ڈالر کی کم ترین سطح پرآگئی، جو گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 4.4 فیصد کی نمایاں ترین کمی کو ظاہر کرتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:ایران امریکا مذاکرات کا دوسرا دور، بٹ کوائن کی قیمت پر کیا اثرات مرتب ہورہے ہیں؟
مارکیٹ کیپٹلائزیشن کے لحاظ سے دنیا کی سرفہرست 10 کرپٹو کرنسیوں میں یہ سب سے بڑی گراوٹ ریکارڈ کی گئی ہے۔ بٹ کوائن کے اس زوال کے اثرات پوری کرپٹو مارکیٹ پر مرتب ہوئے، جس کے باعث مجموعی ڈیجیٹل مارکیٹ ویلیو 3 فیصد سے زیادہ کمی کے بعد تقریباً 2.47 ٹریلین ڈالر تک نیچے آگئی ہے۔
ٹریڈرزکے کروڑوں ڈالر ڈوب گئےکرپٹو مارکیٹ کے اعداد و شمار فراہم کرنے والے معتبر عالمی ادارے ’کوائن گلاس‘ کے مطابق حالیہ فروخت کے شدید دباؤ کی وجہ سے 24 گھنٹوں میں 800 ملین ڈالر کی پوزیشنز مارکیٹ سے آؤٹ ہوئیں۔
ڈیٹا کے مطابق لانگ پوزیشنزمیں تقریباً 700 ملین ڈالر (قیمت بڑھنے کی امید پر لگائے گئے سودے) جبکہ شارٹ پوزیشنز میں تقریباً 100 ملین ڈالر (قیمت گرنے کی امید پر لگائے گئے سودے) شامل ہیں۔
سب سے زیادہ نقصان بٹ کوائن سے منسلک ٹریڈرز کو برداشت کرنا پڑا، جن کی تقریباً 500 ملین ڈالر مالیت کی پوزیشنز ڈوب گئیں، جو کہ مجموعی مارکیٹ لیکویڈیشنز کا سب سے بڑا حصہ ہے۔
’ای ٹی ایف‘ آؤٹ فلو دباؤ میں اضافہکرپٹو کرنسی سے وابستہ مبصرین اور تجزیہ کاروں کے مطابق اس بڑی فروخت کی سب سے بڑی وجہ اسپاٹ بٹ کوائن ایکسچینج ٹریڈ فنڈ (ای ٹی ایف) سے سرمایہ کاروں کا مسلسل پیسہ نکالنا ہے۔
مزید پڑھیں:مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے دوران بٹ کوائن مضبوط، قیمت 80 ہزار ڈالر تک پہنچنے کا امکان
اسپاٹ بٹ کوائن ای ٹی ایف سے مسلسل 11 تجارتی سیشنز سے سرمایہ کا اخراج (نیٹ آؤٹ فلو) ریکارڈ کیا جا رہا ہے، جبکہ اسپاٹ ’ایتھیریم ای ٹی ایف‘ سے بھی مسلسل 15 سیشنز سے سرمایہ نکالا جا رہا ہے۔
کرپٹو تجزیہ کار ’ایمبر سی این‘ کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ جب سے اسپاٹ ای ٹی ایف مصنوعات کا آغاز ہوا ہے، بٹ کوائن اور ایتھیریم کی قیمتیں ای ٹی ایف فنڈز کے بہاؤ سے بہت زیادہ منسلک ہو چکی ہیں، یہی وجہ ہے کہ فنڈز کے اخراج کا براہِ راست اور فوری اثر قیمتوں پر پڑ رہا ہے۔
ایتھیریم مارکیٹ میں نسبتاً مستحکمدلچسپ بات یہ ہے کہ اس شدید مندی کے دوران دوسری بڑی کرپٹو کرنسی ’ایتھیریم‘ نے مارکیٹ میں نسبتاً بہتر اور مستحکم کارکردگی دکھائی۔ ایتھیریم کی قیمت تقریباً 1,970 ڈالر کے قریب برقرار رہی اور اس میں بٹ کوائن کے مقابلے میں کم اتار چڑھاؤ دیکھا گیا۔
ماہرینِ معیشت کا کہنا ہے کہ اگر ای ٹی ایف سے سرمایہ کے اخراج کا یہ سلسلہ نہ رکا تو کرپٹو مارکیٹ پر دباؤ برقرار رہ سکتا ہے، یہی وجہ ہے کہ عالمی سرمایہ کار آنے والے چند دنوں میں مارکیٹ کے رجحان پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اخراج ای ٹی ایف بٹ کوائن ڈالر سرمایہ کاروں عالمی سرمایہ کرپٹو مارکیٹ گراوٹ ماہرین معیشت ملین ڈالر