مہاجرین مقبوضہ کشمیر کا مطالبات کے حق میں مظفرآباد میں احتجاجی دھرنا
اشاعت کی تاریخ: 4th, February 2026 GMT
دھرنا دینے والوں نے مطالبہ کیا کہ مہاجرین کا ملازمتوں اور تعلیمی اداروں میں 6 فیصد کوٹہ بحال کیا جائے، مہاجرین کے گزارہ الاؤنس میں اضافہ ناگزیر ہو چکا ہے لہٰذا اس حوالے سے اپنی ذمہ داریاں پوری کی جائیں۔ اسلام ٹائمز۔ مہاجرین مقبوضہ کشمیر نے اپنے مطالبات کے حق میں آزادی چوک میں احتجاجی دھرنا دے دیا۔مظاہرین کا مطالبہ ہے کہ 1989ء کے مہاجرین کی آباد کاری تاحال ممکن نہیں ہو سکی، حکومت پاکستان نوٹس لے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ مہاجرین کا ملازمتوں اور تعلیمی اداروں میں 6 فیصد کوٹہ بحال کیا جائے، مہاجرین کے گزارہ الاؤنس میں اضافہ ناگزیر ہو چکا ہے لہٰذا اس حوالے سے اپنی ذمہ داریاں پوری کی جائیں۔ انہوں نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ وزیراعظم پاکستان اور فیلڈ مارشل 36سالوں سے مشکلات کے شکار مہاجرین کے مسائل کے حل کے لئے اپنا کردار ادا کریں۔ مظاہرین کا مطالبہ ہے کہ یوم یکجہتی کشمیر کے موقع پر مہاجرین کے مسائل کے حل کے حوالے سے نوٹیفکیشن جاری کیا جائے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: مہاجرین کے
پڑھیں:
آزاد کشمیر کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے 54 ارب روپے سے زائد فنڈز تجویز
اسلام آباد: پی ایس ڈی پی 2026-27 کے تحت وفاقی حکومت نے آزاد جموں و کشمیر میں ترقیاتی، تعلیمی، صحت، توانائی، مواصلات اور بنیادی ڈھانچے کے مختلف منصوبوں کے لیے 54 ارب 17 کروڑ 37 لاکھ روپے سے زائد فنڈز مختص کرنے کی تجویز پیش کر دی ہے۔
بجٹ دستاویزات کے مطابق جاری ترقیاتی منصوبوں کے لیے 43 ارب 10 کروڑ 54 لاکھ روپے جبکہ نئے منصوبوں کے لیے 3 ارب 94 کروڑ 45 لاکھ روپے سے زائد فنڈز رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ آزاد کشمیر بلاک ایلوکیشن کے لیے 33 ارب روپے اور وزیراعظم کے خصوصی ترقیاتی پیکج کے لیے 5 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
پی ایس ڈی پی 2026-27 میں تعلیمی شعبے کو خصوصی اہمیت دی گئی ہے۔ آزاد کشمیر کے چار اضلاع میں دانش سکولوں کے قیام اور توسیع کے منصوبوں کے لیے 6 ارب 27 کروڑ روپے سے زائد فنڈز تجویز کیے گئے ہیں۔ ضلع باغ کے ہاڑی گہل میں دانش سکول کے لیے 2 ارب 14 کروڑ روپے، بھمبر میں 60 کروڑ روپے، وادی نیلم کے شاردا میں ایک ارب 55 کروڑ روپے جبکہ حویلی کہوٹہ میں دانش سکول کے قیام کے لیے 2 ارب 9 کروڑ روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔
توانائی کے شعبے میں جگراں-II ہائیڈرو پاور منصوبے کے لیے ایک ارب 14 کروڑ 94 لاکھ روپے، شاردا-II منصوبے کے لیے 10 کروڑ روپے اور نگدر ہائیڈرو پاور منصوبے کے لیے 30 کروڑ روپے تجویز کیے گئے ہیں۔ دواریاں ہائیڈرو پاور منصوبہ بھی ترقیاتی پروگرام میں شامل ہے۔
بنیادی ڈھانچے کی بہتری کے لیے آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کمپلیکس، رٹھوعہ ہریام پل اور نوسیری لیسوا بائی پاس روڈ سمیت متعدد منصوبوں کے لیے فنڈز رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔
صحت کے شعبے میں میرپور، مظفرآباد اور راولاکوٹ کے میڈیکل کالجوں کے انفراسٹرکچر اور سہولیات کی بہتری کے لیے کروڑوں روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ میرپور واٹر سپلائی و سیوریج اسکیم، سالڈ ویسٹ مینجمنٹ اور ایل او سی متاثرین کی بحالی کے منصوبوں کو بھی شامل کیا گیا ہے۔
دستاویزات کے مطابق آزاد کشمیر میں لینڈ ریکارڈ کمپیوٹرائزیشن، آسان خدمت مرکز مظفرآباد، کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ کی استعداد کار میں اضافے اور گورنمنٹ کالجز آف ٹیکنالوجی کے قیام کے منصوبوں کے لیے بھی فنڈز تجویز کیے گئے ہیں۔
حکومت نے آئندہ مالی سال کے ترقیاتی پروگرام میں تعلیم، صحت، توانائی، سڑکوں کے انفراسٹرکچر اور شہری سہولیات کے منصوبوں کو خصوصی ترجیح دی ہے۔