data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

اسلام آباد:وزیراعظم شہباز شریف نے واضح کیا ہے کہ پاکستان نے ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ میں بھارت کے ساتھ میچ نہ کھیلنے کا فیصلہ مکمل غور و فکر کے بعد کیا ہے، تاہم اصولی طور پر کھیل کے میدان میں سیاست نہیں ہونی چاہیے۔ انہوں نے یہ بات وفاقی کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہی، جہاں ملکی و علاقائی صورتحال سمیت سیکیورٹی امور پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔

وزیراعظم نے کہا کہ ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ کے حوالے سے پاکستان نے اپنا مؤقف واضح کر دیا ہے اور بھارت کے خلاف میچ نہ کھیلنے کا فیصلہ کسی جذباتی ردعمل کے تحت نہیں بلکہ سوچ سمجھ کر کیا گیا ہے، کھیل کو سیاست سے الگ رکھنا چاہیے، تاہم بعض حالات میں قومی مفادات اور اصولی مؤقف کو سامنے رکھنا ناگزیر ہو جاتا ہے۔ وزیراعظم نے اس موقع پر بنگلا دیش کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو بنگلا دیش کے ساتھ کھڑے ہونا چاہیے۔

وفاقی کابینہ کے اجلاس میں گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے بلوچستان کی حالیہ صورتحال پر بھی تفصیلی روشنی ڈالی، بلوچستان میں فتنہ خوارج اور فتنہ ہندوستان سے وابستہ دہشت گرد عناصر نے بزدلانہ حملے کیے، جن کا ہماری بہادر مسلح افواج نے بھرپور اور مؤثر جواب دیا۔

 وزیراعظم کے مطابق جوابی کارروائی میں 180 دہشت گرد ہلاک ہوئے، جبکہ دہشت گرد حملوں کے نتیجے میں 17 جوان اور 31 معصوم شہری شہید ہوئے۔

وزیراعظم نے شہدا کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ نہتے شہریوں، مزدوروں اور بچوں کو نشانہ بنانے والے انسانیت کے دشمن ہیں اور ان کا کوئی جواز نہیں۔ انہوں نے کہا کہ معرکۂ حق میں دشمن کو شکست سے دوچار کیا گیا ہے اور ہمارے شہدا کی قربانیاں ہرگز رائیگاں نہیں جائیں گی۔

ان کا کہنا تھا کہ پوری قوم دہشت گردی کے خلاف سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی طرح کھڑی ہے اور ملک سے دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک یہ جدوجہد جاری رہے گی۔ وزیراعظم نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ریاست دہشت گردی کے ناسور کے خاتمے کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے گی اور قوم کے جان و مال کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔

ویب ڈیسک وہاج فاروقی.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: کرتے ہوئے

پڑھیں:

جرمنی کا بڑا فیصلہ، یکم اگست سے توسیع شدہ افغان پاسپورٹ تسلیم نہیں کیے جائیں گے

جرمنی کی وفاقی وزارت داخلہ نے اعلان کیا ہے کہ یکم اگست 2026 یا اس کے بعد توسیع کیے جانے والے افغان پاسپورٹس کو جرمنی میں درست سفری دستاویز کے طور پر تسلیم نہیں کیا جائے گا۔

وزارت داخلہ کی ترجمان ایلینا سنگر نے افغانستان انٹرنیشنل کو جاری بیان میں کہا کہ یہ فیصلہ افغان سفارتی مشنز میں پاسپورٹ کے حصول کے طریقہ کار میں ہونے والی تبدیلیوں، بین الاقوامی قانونی تقاضوں اور بین الاقوامی شہری ہوا بازی تنظیم (ICAO) کی سفارشات کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ جرمنی کے رہائشی قانون (Residence Act) کی دفعہ 3(1) کے تحت ملک میں داخل ہونے یا رہائش اختیار کرنے والے غیر ملکیوں کے لیے لازم ہے کہ ان کے پاس ایک درست اور تسلیم شدہ پاسپورٹ یا اس کے متبادل منظور شدہ سفری دستاویز موجود ہو۔

وزارت داخلہ نے واضح کیا کہ یکم اگست 2026 سے پہلے توسیع کیے گئے افغان پاسپورٹس اس نئی پالیسی سے متاثر نہیں ہوں گے اور بدستور قابل قبول رہیں گے۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ جرمنی میں اپنے رہائشی اجازت نامے (ریذیڈنس پرمٹ) کی تجدید کے خواہش مند افغان شہریوں کو بھی ایک درست اور تسلیم شدہ سفری دستاویز پیش کرنا ہوگی۔

تاہم جرمنی کے مقامی امیگریشن حکام ہر درخواست کا انفرادی بنیادوں پر جائزہ لیتے رہیں گے تاکہ یہ طے کیا جا سکے کہ متعلقہ افغان شہری کے لیے افغان سفارتی مشن سے پاسپورٹ حاصل کرنا ممکن اور مناسب ہے یا نہیں۔

اگر متعلقہ اتھارٹی اس نتیجے پر پہنچتی ہے کہ کسی افغان شہری کے لیے افغان سفارت خانے یا قونصل خانے سے پاسپورٹ حاصل کرنا ممکن یا مناسب نہیں، تو ایسے فرد کو ٹریول ڈاکیومنٹ فار فارنرز (غیر ملکیوں کے لیے سفری دستاویز) جاری کی جا سکتی ہے۔

جرمن وزارت داخلہ نے اس بات پر بھی زور دیا کہ 1951 کے جنیوا ریفیوجی کنونشن کے تحت تسلیم شدہ افغان مہاجرین کو افغان سفارتی مشنز سے رجوع کرنے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ ایسے افراد جرمنی کے قانونی تقاضے پورے کرنے کے لیے ریفیوجی ٹریول ڈاکیومنٹ حاصل کر سکتے ہیں۔

وزارت کے مطابق اس وقت یہ اندازہ لگانا ممکن نہیں کہ نئی پالیسی سے کتنے افغان شہری متاثر ہوں گے، تاہم نئے افغان پاسپورٹس کے اجرا کے لیے درخواستیں بدستور دی جا سکتی ہیں۔

جرمن وزارت داخلہ نے یہ بھی واضح کیا کہ اس فیصلے کا جرمنی میں طالبان کی جانب سے مقرر کردہ سفارتی عملے کی موجودگی یا افغان شہریوں کی ملک بدری سے متعلق جرمن حکومت کے پروگرام سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

متعلقہ مضامین

  • پٹرول کی قیمت میں 4 روپے اضافے پر شہری مایوس، فوری ریلیف کا مطالبہ
  • جوز بٹلر نے یونیورس باس کو بھی پیچھے چھوڑ دیا
  • معرکہ حق میں بھارت کو کتنا نقصان پہنچا؟ احتجاج میں شامل بھارتی طلبہ نے بھی پاکستان کے مؤقف کی حمایت کردی
  • سپریم کورٹ کو نیب کیسز سننے کا اختیار نہیں، عدالت عظمیٰ کا بڑا فیصلہ
  • سپریم کورٹ کو نیب کیسز سننے کا اختیار نہیں،  عدالت عظمیٰ کا بڑا فیصلہ
  • جرمنی کا بڑا فیصلہ، یکم اگست سے توسیع شدہ افغان پاسپورٹ تسلیم نہیں کیے جائیں گے
  • سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • کاوا مینز والی بال چیمپئن شپ: قومی ٹیم نے دوسرے روز بنگلا دیش کو شکست دے دی