ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ میں بھارت سے نہ کھیلنے کا فیصلہ سوچ سمجھ کر کیا،وزیراعظم
اشاعت کی تاریخ: 4th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد:وزیراعظم شہباز شریف نے واضح کیا ہے کہ پاکستان نے ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ میں بھارت کے ساتھ میچ نہ کھیلنے کا فیصلہ مکمل غور و فکر کے بعد کیا ہے، تاہم اصولی طور پر کھیل کے میدان میں سیاست نہیں ہونی چاہیے۔ انہوں نے یہ بات وفاقی کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہی، جہاں ملکی و علاقائی صورتحال سمیت سیکیورٹی امور پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔
وزیراعظم نے کہا کہ ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ کے حوالے سے پاکستان نے اپنا مؤقف واضح کر دیا ہے اور بھارت کے خلاف میچ نہ کھیلنے کا فیصلہ کسی جذباتی ردعمل کے تحت نہیں بلکہ سوچ سمجھ کر کیا گیا ہے، کھیل کو سیاست سے الگ رکھنا چاہیے، تاہم بعض حالات میں قومی مفادات اور اصولی مؤقف کو سامنے رکھنا ناگزیر ہو جاتا ہے۔ وزیراعظم نے اس موقع پر بنگلا دیش کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو بنگلا دیش کے ساتھ کھڑے ہونا چاہیے۔
وفاقی کابینہ کے اجلاس میں گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے بلوچستان کی حالیہ صورتحال پر بھی تفصیلی روشنی ڈالی، بلوچستان میں فتنہ خوارج اور فتنہ ہندوستان سے وابستہ دہشت گرد عناصر نے بزدلانہ حملے کیے، جن کا ہماری بہادر مسلح افواج نے بھرپور اور مؤثر جواب دیا۔
وزیراعظم کے مطابق جوابی کارروائی میں 180 دہشت گرد ہلاک ہوئے، جبکہ دہشت گرد حملوں کے نتیجے میں 17 جوان اور 31 معصوم شہری شہید ہوئے۔
وزیراعظم نے شہدا کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ نہتے شہریوں، مزدوروں اور بچوں کو نشانہ بنانے والے انسانیت کے دشمن ہیں اور ان کا کوئی جواز نہیں۔ انہوں نے کہا کہ معرکۂ حق میں دشمن کو شکست سے دوچار کیا گیا ہے اور ہمارے شہدا کی قربانیاں ہرگز رائیگاں نہیں جائیں گی۔
ان کا کہنا تھا کہ پوری قوم دہشت گردی کے خلاف سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی طرح کھڑی ہے اور ملک سے دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک یہ جدوجہد جاری رہے گی۔ وزیراعظم نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ریاست دہشت گردی کے ناسور کے خاتمے کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے گی اور قوم کے جان و مال کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کرتے ہوئے
پڑھیں:
لاہور میں وین ڈرائیور سے بدتمیزی ٹریفک وارڈن کو مہنگی پڑ گئی
لاہور میں نجی کوریئر کمپنی کی وین کے ڈرائیور سے بدتمیزی کرنے پر ٹریفک وارڈن کو معطل کر دیا گیا۔
سی ٹی او لاہور سید عبدالرحیم شیرازی نے فوری ایکشن لیتے ہوئے واقعے کی تحقیقات کے لیے ایس پی صدر کو انکوائری کا حکم دے دیا۔
ٹریفک پولیس افسر کا کہنا تھا کہ انکوائری رپورٹ کی روشنی میں مزید کارروائی ہوگی، شہریوں سے حسنِ سلوک پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
سی ٹی او لاہور نے ٹریفک پولیس میں نظم و ضبط اور عوامی احترام اولین ترجیح قرار دیتے ہوئے کہا کہ اختیارات کے ناجائز استعمال کی اجازت نہیں دی جائے گی، انکوائری مکمل ہونے پر حقائق عوام کے سامنے لائے جائیں گے۔
شہری کے مطابق ٹریفک وارڈن نے رکنے کا اشارہ کیا لیکن اشارہ نظر نہیں آیا، تاہم آگے جا کر رکا جس پر ٹریفک وارڈن نے گاڑی کے اندر سوار ہو کر تشدد کا نشانہ بنایا اور گالم گلوچ کی۔ موقع پر وارڈن نے آن لائن چالان بھی جمع کروایا۔