بسنت کی تیاریاں: لاہور میں ایک ارب سے زائد کی ڈور اور پتنگوں کی فروخت
اشاعت کی تاریخ: 4th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
لاہور: سیف کائٹ فلائنگ ایسوسی ایشن نے کہا ہے کہ بسنت کی تیاریوں کے سلسلے میں شہر میں ایک ارب سے زائد کی ڈور اور پتنگیں فروخت ہوگئی ہیں۔
ایسوسی ایشن ایڈووکیٹ کے لیگل ایڈوائزر ملک فیضان نے کہا کہ بسنت سے قبل ڈیڑھ ارب سے زائد مالیت کی ڈور اور گڈی فروخت ہوجائے گی اور لاہور میں ڈور پتنگیں نایاب اور مانگ میں مزید اضافہ ہوگیا ہے۔
لیگل ایڈوائزر نے بتایا کہ پون تاوا 250 روپے، ایک تاوا 450 سے 500 روپے میں فروخت ہونے لگا، ڈیڑھ تاوا گڈا 700 روپے سے 800 روپے میں فروخت ہونے لگا ہے۔
خیال رہے کہ حکومت پنجاب نے 6 فروری کو بسنت کا جشن منانے کے لیے صوبے بھر میں عام تعطیل کا اعلان کیا ہے۔
وزیراعلیٰ مریم نواز نے گزشتہ روز سوشل میڈیا پر بیان میں شہریوں اور پنجاب کے عوام کو لاہور لبرٹی چوک میں 7 فروری کو بسنت منانے کی دعوت دی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
نابالغ بچے کا نان نفقہ کسی معاہدے سے ختم نہیں کیا جا سکتا: لاہور ہائیکورٹ
لاہور ہائی کورٹ---فائل فوٹولاہور ہائی کورٹ نے قرار دیا ہے کہ باپ نابالغ بچے کے مستقبل کے نان نفقے کا حق کسی معاہدے یا رضامندی نامے کے ذریعے ختم نہیں کر سکتا۔
لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے درخواست پر تفصیلی تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔
عدالت نے معاہدے کی بنیاد پر بچے کا نان نفقہ ختم کرنے سے متعلق باپ کی اپیل خارج کرتے ہوئے ٹرائل کورٹ، فیملی کورٹ اور اپیلٹ کورٹ کے فیصلے برقرار رکھے ہیں۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ درخواست گزار کے مطابق بورڈنگ کارڈ جاری ہونے کے بعد اچانک آف لوڈ کیا گیا اور صرف اس خدشے پر سفر سے روکا گیا کہ شاید دبئی سے واپس نہ آئے۔
عدالتی فیصلے کے مطابق فریقین کی شادی 2002ء میں ہوئی تھی جبکہ 2005ء میں طلاق ہو گئی، طلاق کے بعد خاندان کے بڑوں نے دونوں فریقین کے درمیان ایک معاہدہ کروایا جس کے تحت شوہر بچے کے نان نفقے کے حوالے سے 60 ہزار روپے ادا کرے گا۔
عدالتی حکم نامے کے مطابق خاتون نے 2019ء میں بچے کے نان نفقے کا دعویٰ دائر کیا جس پر درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ معاہدے کے باوجود دعویٰ دائر کرنا غیر قانونی ہے تاہم عدالت نے قرار دیا کہ مالی تنگی بھی باپ کی نان نفقے کی ذمے داری ختم نہیں کر سکتی اور نابالغ بچے کا نان نفقہ باپ پر مستقل جاری رہنے والا فریضہ ہے۔
فیصلے میں کہا گیا ہے کہ کسی نجی معاہدے یا رضامندی نامے کے ذریعے نابالغ بچے کا نان نفقے کا حق ختم نہیں کیا جا سکتا۔
عدالت نے واضح کیا ہے کہ نان نفقہ باپ پر صرف قانونی ہی نہیں بلکہ اخلاقی اور مذہبی ذمے داری بھی ہے جبکہ غیر ادا شدہ نان نفقہ باپ پر قابلِ نفاذ قرض ہے جو ختم نہیں ہو سکتا۔
لاہور ہائی کورٹ نے باپ کی درخواست خارج کرتے ہوئے فیصلے کی کاپی لاء اینڈ جسٹس کمیشن اور وزارتِ قانون و انصاف کو بھی بھیجنے کا حکم دیا ہے۔