Jasarat News:
2026-07-24@01:58:46 GMT

بلوچستان، یوم کشمیر اور پنجاب کا بسنت فیسٹیول

اشاعت کی تاریخ: 5th, February 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

ملکی حالات کے تناظر میں پنجاب میں بسنت کے جشن کا اہتمام ایک مجرمانہ اقدام سمجھا جائے گا کیونکہ یہ تو واضح ہو گیا ہے کہ بلوچستان میں 200 سے زیادہ لوگوں کی جان گئی ہے اور نو سے زیادہ اضلاع میں دہشت گردی کے واقعات کو زیادہ دن نہیں گزرے۔ پنجاب حکومت بسنت کے نام پر ناچ گانوںکے ساتھ پتنگ اُڑانے کا جشن منا رہی ہے۔ ایسے موقع پر جشن کا اہتمام بلوچستان کے عوام کو کیا پیغام دے گا کہ بلوچستان میں ماتم بپا ہے اور پنجاب میں جشن منایا جا رہا ہے؟ قومی یکجہتی کے بجائے صوبائی تقسیم کو فروغ مل رہا ہے، جو ملکی سلامتی کے لیے خطرناک ہے۔ پاکستان ایک اسلامی فلاحی ریاست ہے جہاں ہر تہوار اور رسم کی شرعی حیثیت کا جائزہ لینا لازمی ہے۔ بسنت، 6 سے 8 فروری 2026 تک تین روزہ فیسٹیول کی صورت میں لاہور سمیت پورے پنجاب میں سرکاری تعطیل اور تقریبات کی صورت میں منایا جائے گا، دراصل ہندوؤں کا بسنت پنچمی تہوار ہے۔ یہ موسم بہار کے نام پر پیلے کپڑے پہننے، سرسوتی دیوی کی پوجا کرنے اور پتنگ بازی کا جشن ہے۔ پیلا لباس سرسوتی دیوی کی خوشنودی کے لیے پہنا جاتا ہے۔ اسلامی تعلیمات اسے فضول خرچی، غیر ضروری رسوم اور غیر ملکی ثقافت کی نقل قرار دیتی ہیں۔ ہم دستیاب معلومات کی روشنی میں بسنت کی شرعی، ثقافتی، سماجی اور معاشی حیثیت کا تجزیہ کریں گے، جو ثابت کرے گا کہ یہ چند اشرافی طبقات کی خوشنودی اور تعلیمی اداروں کی غلط ترغیب کا نتیجہ ہے۔ واضح رہے کہ ہندو دیو مالائی روایات میں سرسوتی تعلیم کی دیوی ہے اس لیے پاکستان کے تعلیمی اداروں میں بسنت کا منایا جانا کس رجحان کی نشاندہی کرتا ہے یہ آپ کو سمجھ جانا چاہیے۔

اسلام میں تہوار صرف دو ہیں: عید الفطر اور عید الاضحیٰ، جو عبادات اور قربانیوں پر مبنی ہیں۔ قرآن مجید میں سورۂ المائدہ (آیت 2) میں فرمایا گیا: ’’اللہ کے مہینوں کو پیشہ و رسم نہ کرو‘‘۔ بسنت کوئی شرعی بنیاد نہیں رکھتا؛ یہ ہندو کیلنڈر کے ماگھ مہینے کی پانچویں تاریخ ہے، جہاں سرسوتی (علم کی دیوی) کی پرستش ہوتی ہے۔ پاکستان میں اسے پتنگ بازی اور موسیقی کی تقریبات میں تبدیل کر دیا گیا، مگر یہ تبدیلی اس کی ہندو جڑوں کو چھپا نہیں سکتی۔ بنوری ٹاؤن اور دیگر اسلامی مکاتب فکر کا فتویٰ ہے کہ پتنگ بازی نہ صرف فضول بلکہ جان و مال کو خطرے میں ڈالنے والی ہے، جو اسلام میں حرام ہے۔ رسول اللہ نے فرمایا: ’’جو شخص اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو، وہ اچھی بات کہے یا خاموش رہے‘‘ (بخاری)۔ بسنت کا شور شرابہ، فضول خرچی اور تفریح اس حکم کی خلاف ورزی ہے۔

پاکستانی ثقافت اسلامی اقدار، صوفیانہ روایات اور قومی یکجہتی پر مبنی ہے۔ بسنت کا تہوار پنجاب کے کچھ علاقوں میں 25 سال بعد بحال ہوا، مگر یہ لاہور کے اشرافی محلہ کی روایت تھی، نہ کہ عوامی اور اسلامی ثقافت۔ بھارت اور پاکستان کے پنجاب میں بسنت قدر مشترک ہے، جہاں بظاہر بہار کی خوشی میں پیلے رنگ کا استعمال ہوتا ہے۔ پاکستان میں اسے ’’موسمی تہوار‘‘ کہہ کر پیش کیا جاتا ہے، مگر اس کی اصل ہندو پوجا سے جڑی ہے، جسے مسلم روایات سے ملا کر مصنوعی ثقافت بنانے کی کوشش کی گئی۔ 2026 میں پنجاب حکومت نے 6 فروری کو تعطیل کا اعلان کیا ہے، جو صرف صوبے تک محدود رہے گی، جبکہ لاہور اس کا مرکز بن گیا ہے۔ اس سے قبل 5 فروری کو یوم یکجہتی کشمیر منایا جاتا ہے، جس کے لیے بھی عام تعطیل کا اعلان ہوا ہے۔ یوم یکجہتی کشمیر اس لیے منایا جاتا ہے کہ بھارت میں ہندوتوا کے علمبردار مسلمانوں کے خون سے ہولی کھیل رہے ہیں، اور دوسرے دن ہی پاکستانی پنجاب میں ایک ہندو تہوار کے لیے نہ صرف چھٹی ہوگی بلکہ سرکاری اور نجی طور پر اربوں روپے کی فضول خرچی بھی ہوگی۔

بسنت کی سب سے بڑی خصوصیت غیر ضروری اخراجات ہیں، جو اسلامی معیشت میں حرام ہیں۔ لاہور میں بسنت فیسٹیول 2026 پر صوبائی حکومت کی جانب سے ایک ارب روپے سے زائد (91 کروڑ روپے یا Rs.

910 million سے زیادہ) کا محتاط تخمینہ لگایا گیا، جو سجاوٹ، ٹریفک انتظام، سیکورٹی اور عوامی سہولتوں پر خرچ ہوں گے۔ افتتاحی اور اختتامی تقریبات پر الگ سے 30 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں، جبکہ شہر کی وسیع سجاوٹ، ایک لاکھ سے زائد سیفٹی وائرز اور لاجسٹکس پر 70 سے 80 کروڑ روپے استعمال ہوں گے۔ پتنگ اور اس کی ڈور کی تیاری پر لاکھوں روپے ضائع ہوں گے، جہاں 34 کروڑ سے زائد پتنگیں بنائی گئیں اور ڈور کی قیمت 10-12 ہزار روپے فی پنا پہنچ گئی۔ سورۂ الاسراء: آیت 27 میں فضول خرچ کرنے والوں کو سخت تنبیہ کی گئی ہے۔ یہ اخراجات غریب عوام پر بوجھ ڈالتے ہیں، جبکہ چند امیر طبقات لطف اندوز ہوتے ہیں۔ پتنگ کی ڈور سے گلا کٹنے کے کئی واقعات بھی ہوتے ہیں۔

گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور (جی سی یو) نے ہفتہ بھر کی تقریبات کا اعلان کیا ہے: ڈراما پرفارمنسز، میوزیکل ایوننگز، پتنگ سازی ورکشاپس، فوڈ فیسٹیول، میورل پینٹنگ اور لائیو پرفارمنسز۔ یہ طلبہ کی ’’تخلیقی صلاحیتوں‘‘ کے نام پر شرعی حدود کی خلاف ورزی ہے۔ وائس چانسلر ڈاکٹر محمد عمر چودھری نے اسے محفوظ بسنت کا حصہ کہا، مگر یہ ہندو تہوار کو تعلیمی نصاب میں گھسیڑنے کی کوشش ہے۔ لاہور کالج فار ویمن میں بھی پتنگ بازی پر سیمینارز ہو رہے ہیں۔ تعلیم کا مقصد ایمان، اخلاق اور مفید علم ہے، نہ کہ پتنگ بازی اور موسیقی۔ مشہور قول ہے کہ ’’علم حاصل کرو، خواہ چین جانا پڑے‘‘، یہاں علم سے مراد ہنر ہیں، مگر پنجاب میں تعلیم کے نام پر ہندو رسوم کی نقل ہو رہی ہے۔ ایسے پروگرام قومی شناخت کو کمزور کرتے ہیں۔ سماجی و حفاظتی خطرات بسنت پتنگ بازی جان لیوا ہے۔ ماضی میں ہزاروں حادثات ہوئے، جہاں خطرناک ڈور سے بچے اور بالغ ہلاک ہوئے۔ 2026 میں سخت ضوابط (صرف روئی کی ڈور، ڈیجیٹل رجسٹریشن) تھے، مگر 6-8 فروری کو شہر بند ہوا اور کوئیک رسپانس ٹیمیں تعینات کی گئیں۔ لاہور میں اندرون شہر کی 105 عمارتیں خالی کی گئیں اور دیگر شہروں سے حفاظتی سامان لایا گیا۔ یہ تہوار اب بھی ’’خونی کھیل‘‘ ہے، جو طبقاتی تقسیم بڑھاتا ہے: امیر محلے مناتے ہیں، غریب دیکھتے ہیں۔

وزیراعلیٰ مریم نواز نے پنجاب بھر میں تعطیل دی، جو 4-8 فروری تک لانگ ویک اینڈ بنا دی۔ 500 بسیں اور رکشے مفت، 24 روٹس پر سروس اور 100 ٹریفک کیمرے لگائے گئے۔ یہ ووٹ بینک کی خوشامد ہے، نہ کہ قومی فائدہ۔ دیگر صوبوں میں کوئی شناخت نہیں، جو ثابت کرتا ہے کہ یہ پنجابی اشرافیہ کا تہوار ہے۔ بسنت ہندو تہوار ہے جسے پاکستان میں جشن کا روپ دیا گیا اور فضول خرچی کا بھرپور اہتمام کیا گیا ہے۔ اسلامی نقطہ نظر سے یہ عمل نہ صرف حرام ہے، ثقافتی طور پر اجنبی اور سماجی طور پر نقصان دہ ہے۔ ایک ارب روپے سے زائد کے سرکاری اخراجات قومی خزانے پر لوٹ مار کے مترادف ہیں۔ جو کہ نئے شعبے میں اس سے ان کئی گناہ زیادہ رقم خرچ کر کے لوگ پتنگیں اڑائیں گے اور تباہی پھیلائیں گے۔ تعلیمی اداروں کو ایسی تقریبات سے گریز کرنا چاہیے۔ حکومت اس بلاجواز تعطیل کو ختم کرے اور صوفیانہ محافل یا قومی کھیل فروغ دے۔ پاکستان اسلامی اقدار پر چلے، نہ کہ ہندو رسوم کی نقل میں فضول خرچی کا مقابلہ کیا جائے۔

وجیہ احمد صدیقی سیف اللہ

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: پتنگ بازی فضول خرچی کے نام پر جاتا ہے بسنت کا کی گئی کے لیے

پڑھیں:

فیلڈ مارشل کا بلوچستان میں دہشت گردی کو پوری طاقت سے کچلنے کے عزم کا اظہار

فوٹو: آئی ایس پی آر 

فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے بلوچستان میں دہشت گردی کو پوری طاقت سے کچلنے کے عزم کا اظہار  کیا ہے۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے مطابق 20ویں نیشنل ورکشاپ بلوچستان کے شرکاء کی جی ایچ کیو آمد کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے فیلڈ مارشل نے کہا کہ بیرونی سرپرستی میں پراکسی عناصر بلوچستان میں تشدد کو ہوا دینے، استحکام کو نقصان پہنچانے اور امن خراب کرنے کی کوشش کرتے رہے ہیں، تاہم ان کے ناپاک عزائم کو مسلح افواج کے مضبوط اور فیصلہ کن جواب اور عوام کے اتحاد سے ناکام بنادیا جائے گا۔

فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا کہنا ہے کہ بلوچستان پاکستان کا فخر ہے، یہ صوبہ بے پناہ قدرتی وسائل سے مالا مال ہے، بلوچستان کے متحرک، باہمت، ثابت قدم اور محبِ وطن عوام اس کی سب سے بڑی طاقت ہیں۔

انہوں نے کہا کہ سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مسلسل کوششیں بلوچستان میں دیرپا امن لائیں گی، فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے خلاف ٹارگیٹڈ آپریشنز جاری رہیں گے۔

آئی ایس پی آر کے مطابق فیلڈ مارشل نے ملک کے مستقبل کی سمت کے تعین کے لیے قومی اتحاد اور ثابت قدمی کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی مسلح افواج عوام کے اتحاد، عزم اور ثابت قدمی کی بدولت ان مذموم عزائم کو ناکام بنائیں گی۔

متعلقہ مضامین

  • نتیجہ خیز آپریشن شعبان!
  • نذیر احمد جنجوعہ قائم مقام سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان مقرر
  • خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، پنجاب اور کشمیر میں تیز بارشوں کی پیشگوئی، لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ
  • مستونگ: سیشن جج اور گن مین قاتلانہ حملے میں شہید، ایڈیشنل سیشن جج شدید زخمی
  • فیلڈ مارشل عاصم منیر کا بلوچستان میں پائیدار امن کے عزم کا اعادہ
  • مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
  • بلوچستان، جج کے قتل کے بعد کالعدم بی ایل اے اور داعش کا گٹھ جوڑ سامنے آگیا، اقوام متحدہ سے کارروائی کا مطالبہ
  • جماعت اسلامی کے سیکریٹری جنرل امیرالعظیم انتقال کرگئے
  • جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ  کی نوجوان خاتون کے ساتھ نازیبا ویڈیو سامنے آگئی
  • فیلڈ مارشل کا بلوچستان میں دہشت گردی کو پوری طاقت سے کچلنے کے عزم کا اظہار