بیرسٹر سلطان محمود چودھری بھی رخصت ہوگئے
اشاعت کی تاریخ: 6th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
آزاد جموں و کشمیر کے صدر بیرسٹر سلطان محمود چودھری انتقال کر گئے‘ وہ طویل علالت کے باعث اسلام آباد میں زیر علاج تھے‘ مرحوم کی عمر71 سال تھی‘ یہ آزاد جموں و کشمیر کے پہلے صدر ہیں جو منصب پر رہتے ہوئے دنیا فانی سے رخصت ہوئے ہیں‘ ان کی نمازِ جنازہ میرپور میں ادا کی گئی‘ اور آبائی گائوں کھڑی شریف چیچیاں میں سپرد خاک کیے گئے‘ بیرسٹر سلطان محمود کے والد چودھری نورحسین اور دادا چودھری نیک عالم بھی کشمیر کے سیاسی اور سماجی کارکن رہے ہیں‘ بیرسٹر سلطان محمود چودھری نے 1983 میں عملی سیاست کا آغاز کیا۔ وہ اپنے طویل سیاسی کیریئر کے دوران آزاد مسلم کانفرنس، لبریشن لیگ، پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان تحریک انصاف سے وابستہ رہے۔ وہ آبائی حلقے میرپور سے مجموعی طور پر نو مرتبہ رکن قانون ساز اسمبلی منتخب ہوئے۔ بیرسٹر سلطان محمود 1996 سے 2001 تک آزاد کشمیر کے وزیراعظم کے منصب پر بھی فائز رہے، 25 اگست 2021 کو وہ آزاد جموں و کشمیر کے صدر منتخب ہوئے۔ فروری 2015 میں انہوں نے پاکستان تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کی۔ 2016 کے انتخابات میں انہیں اپنے 25 سالہ سیاسی کیریئر میں پہلی مرتبہ انتخابی شکست کا سامنا کرنا پڑا، تاہم 2019 کے ضمنی انتخابات میں وہ دوبارہ قانون ساز اسمبلی کے رکن منتخب ہو گئے۔ مرحوم جگر کے کینسر میں مبتلا تھے‘ ان کے انتقال پر وزیراعظم آزاد کشمیر نے تین روزہ سرکاری سوگ کا اعلان کیا اور ریاستی پرچم سرنگوں رکھا گیا۔
مرحوم صدر سلطان محمود نے قانون کی اعلیٰ تعلیم برطانیہ سے حاصل کی۔ بیرسٹر سلطان محمود نے عملی سیاست کا آغاز 1983 میں کیا اور 1985 میں پہلی بار آزاد جموں و کشمیر اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے 9 مرتبہ اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے، جو آزاد کشمیر کی سیاسی تاریخ میں ایک ریکارڈ ہے انہوں نے ریاستی حکومت کے عہدیدار ہوتے ہوئے اور ایک سیاسی راہنماء کی حیثیت سے مسئلہ کشمیر کو بین الاقوامی سطح پر بھرپور انداز میں اُجاگر کیا اقوام متحدہ، یورپی پارلیمنٹ، امریکا اور برطانیہ سمیت عالمی فورموں پر کشمیری عوام کے حق خودارادیت کے لیے بھرپور آواز بلند کی اور بھارتی مظالم کو دنیا کے سامنے بے نقاب کیا‘ بیرسٹر سلطان محمود چودھری ایک طویل عرصہ سے راولپنڈی میں مقیم رہے اور ابتدائی تعلیم بھی راولپنڈی شہر میں ہی حاصل کی‘ محترم قاری خلیل احمد سے قرآن حکیم کی ناظرہ تعلیم حاصل کی‘ فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر بھی قاری خلیل احمد کے شاگردوں میں شامل ہیں‘ انہوں نے انہی کی زیر تعلیم رہ کر قرآن مجید حفظ کیا‘ قاری خلیل احمد کے صاحب زادے حافظ نسیم محمود خلیل ان دنوں الخلیل قرآن کمپلیکس کے مہتمم ہیں‘ ان کے ساتھ بیرسٹر سلطان محمود چودھری کا بچپن بھی گزار ہے‘ بچپن میں ہم جولی ہم عصر دوست مرحوم کو گڈو کے نام سے پکارتے تھے۔ بہر حال سلطان محمود چودھری ایک تاریخ اپنے دوستوں اور لواحقین کے لیے چھوڑ گئے ہیں ایک تاریخ وہ خود اپنے ساتھ ہی لے گئے ہیں۔
بلاشبہ زندگی کے بے شمار رنگ ہیں اور بے شمار امتحان اور بے شمار چیلنجز بھی‘ زندہ انسانوں کو دن میں کئی کئی بار امتحانوں سے گزرنا پڑتا ہے۔ اب بیرسٹر سلطان محمود دنیا کے تمام امتحانوں سے بے نیاز ہوگئے ہیں، زندگی سے شکوے شکایت کے بجائے صبر اور شکر کے جذبات سے ساتھ زندہ رہا جائے تو اللہ بھی ہر امتحان میں سلامتی کے ساتھ گزار دیتا ہے۔ انسان کے لیے صحت بھی امتحان ہے اور بیماری بھی امتحان ہے، بس ایک صبر اور شکر ہی انسانوں کو مشکل لمحات سے باہر نکالتے ہیں شکر اور صبر کا ساتھ ہو تو ایمان اور یقین متزلزل نہیں ہوتے دوسری جانب شیاطین ہر جانب سے حملہ آور ہوتے ہیں ابلیس اسے مایوسی کی اندھی اورگہری کھائیوں میں دھکیلنے کی کوشش کرتا ہے۔ اس لمحے انسان کے پاس دو ہی راستے بچتے ہیں کہ وہ اپنے خالق ومالک کے سامنے سرنڈرکردے یا ابلیس کے سامنے۔ جس نے اللہ کے سامنے سرنڈر کیا وہی سرخرو ہوجاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ مرحوم کی کامل بخشش فرمائے۔ آمین‘ بیماری انسانوں کے گناہ جھاڑتی ہے‘ توبہ کا دروازاہ کھلا رکھتی ہے مرحوم نے بہت تکلیف کاٹی انہوں نے اس دوران صبر کیا اور اپنے ربّ سے ہی مدد مانگی وہی ربّ ہے جو معاف بھی کرتا ہے اور رحم بھی فرماتا ہے۔ ربّ کے لیے کچھ بھی ناممکن نہیں‘ وہ ایک سینئر سیاستدان ہونے کے ساتھ ساتھ زیرک اور باوقار سیاسی کارکن کے طور پر جانے جاتے تھے۔ عوامی خدمت کا جذبہ اُن کی سیاست کا بنیادی وصف تھا جس کی جھلک اُن کی پوری سیاسی زندگی میں نمایاں طور پر دکھائی دیتی ہے۔ طویل اور متحرک سیاسی سفر کے دوران اُنہوں نے کشمیر کی تحریک آزادی کے لیے قابل ِ قدر خدمات انجام دیں اور مختلف ذمے داریاں نہایت دیانتداری اور سنجیدگی سے نبھائیں۔ اب تحریک آزادی کشمیر کا بوجھ زندہ انسانوں کے کندھوں پر ہے‘ مرحوم کے انتقال پر مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں نے تعزیتی پیغامات میں اُن کی سیاسی بصیرت، جمہوری خدمات اور عوامی خدمت کے جذبے کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے اہل ِ خانہ سے دِلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کیا۔ اللہ تعالیٰ مرحوم کو اپنے جوارِ رحمت میں جگہ عطا فرمائے اور لواحقین کو صبر ِ جمیل دے۔ آمین۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: بیرسٹر سلطان محمود چودھری منتخب ہوئے انہوں نے کے سامنے کشمیر کے
پڑھیں:
جانتی ہوں، عثمان ہادی کو کس نے قتل کروایا؟، ممتا بنر جی کے مودی سرکار سے متعلق سنسی خیز انکشافات
بھارتی ریاست مغربی بنگال کی سابق وزیراعلیٰ اور ترنمول کانگریس کی سربراہ ‘ممتا بنرجی’ نے بنگلہ دیش کی انقلابی تحریک کے مرکزی رہنما عثمان ہادی کے قتل کے حوالے سے انتہائی چونکا دینے والے انکشافات کیے ہیں۔
منگل کو ممتا بنر جی نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ اس ہائی پروفائل قتل میں ملوث اصل چہروں سے واقف ہیں، تاہم قومی اور سفارتی اثرات کے باعث وہ فی الحال نام ظاہر نہیں کر رہیں۔
بی جے پی حکومت پر سنگین الزاماتمنگل کو وسطی کولکتہ میں ایک بڑے احتجاجی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے ممتا بنرجی نے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی وفاقی حکومت پر پہلی بار کھل کر الزامات کی بوچھاڑ کی۔ انہوں نے کہا کہ مرکز کی مودی حکومت عثمان ہادی کے قتل کیس سے متعلق انتہائی حساس معلومات اور شواہد کو عوام سے چھپا رہی ہے۔
میگھالیہ سرحد سے داخلہ اور اسپیشل ٹاسک فورس کی کارروائیسابق وزیراعلیٰ نے سنسنی خیز تفصیلات بتاتے ہوئے مزید دعویٰ کیا کہ بنگلہ دیش کی تنظیم ’انقلاب منچ‘ کے مرکزی کردار عثمان ہادی کے قتل میں ملوث ملزمان بھارتی ریاست میگھالیہ کی سرحد کے راستے مغربی بنگال میں داخل ہوئے تھے۔ ان کی آمد کی اطلاع ملتے ہی مغربی بنگال کی ’اسپیشل ٹاسک فورس‘ (ایس ٹی ایف) نے فوری کارروائی کرتے ہوئے ملزمان کو گرفتار کر لیا تھا۔
امیت شاہ کا فون اور خاموش رہنے کی درخواستممتا بنرجی نے یہ بھی انکشاف کیا کہ ملزمان کی گرفتاری کے فوراً بعد انہیں بھارتی وزیر داخلہ ’امیت شاہ‘ کا فون موصول ہوا تھا۔
یہ بھی پڑھیں:عثمان ہادی قتل کیس کے مرکزی ملزمان کا عدالت میں الزامات سے انکار
انہوں نے دعویٰ کیا کہ ’امیت شاہ‘ نے مجھ سے درخواست کی کہ اس کیس کی تفصیلات اور ملزمان کی شناخت کو عوام کے سامنے نہ لایا جائے کیونکہ یہ معاملہ براہِ راست ’قومی مفاد‘ سے جڑا ہوا ہے‘۔
ممتا بنرجی کا کہنا تھا کہ وہ طویل عرصے سے ملک اور خطے کے مفاد میں خاموش تھیں، لیکن وفاقی حکومت کی جانب سے حالیہ دنوں میں مبینہ سیاسی دباؤ اور انتقامی کارروائیوں کے بعد اب وہ سچ بولنے پر مجبور ہو گئی ہیں۔
دوسری جانب نئی دہلی میں وفاقی حکومت کی طرف سے ممتا بنرجی کے ان سنگین الزامات پر فوری طور پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔
مجھے سب کچھ معلوم ہےاپنے خطاب کے دوران ممتا بنرجی نے سوال اٹھایا کہ عثمان ہادی کے قتل کا حتمی حکم کس نے دیا تھا؟ انہوں نے واضح اشارہ دیا کہ وہ سازش کاروں کے ناموں سے اچھی طرح واقف ہیں۔
نام نہ بتانے کی وجہ بتاتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’میں جانتی ہوں کہ قتل کس نے کروایا اور کن لوگوں کے نام سامنے آئے تھے۔ حکومتیں بدل سکتی ہیں، لیکن مجھے سب کچھ معلوم ہے۔ اگر میں نے ابھی نام ظاہر کر دیے تو بنگلہ دیش میں شدید سیاسی اثرات اور بھونچال آ سکتا ہے‘۔
مزید پڑھیں:عثمان ہادی قتل کیس: مرکزی ملزم فیصل کے معاون کو بھارت میں گرفتار کر لیا گیا
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مغربی بنگال میں حالیہ اسمبلی انتخابات کے بعد پیدا ہونے والی شدید سیاسی کشیدگی کے دوران ممتا بنرجی کے اس بیان نے نہ صرف بھارتی سیاست کو گرما دیا ہے، بلکہ بھارت اور بنگلہ دیش کے مابین حساس سفارتی تعلقات پر بھی سوالیہ نشانات کھڑے کر دیے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
الزامات امیت شاہ بنگلہ دیش ترنمول کانگریس سنگین سیاسی عثمان ہادی۔ مغربی بنگال ممتا بنر جی مودی سرکار