9 مئی کیس: وزیراعلیٰ سہیل آفریدی سے منسوب شواہد پر تنازع شدت اختیار کر گیا
اشاعت کی تاریخ: 6th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
پشاور میں 9 مئی کے مقدمے میں وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے مبینہ طور پر ملوث ہونے سے متعلق معاملہ مزید سنگین ہو گیا ہے۔
پنجاب فارنزک لیب سے موصول رپورٹ کے مطابق شواہد سہیل آفریدی سے منسلک قرار دیے گئے ہیں جبکہ نادرا کی تازہ رپورٹس میں بھی انہی کے حوالے سے شواہد کی نشاندہی کی گئی ہے، جس پر عدالت نے 14 فروری کو مکمل رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔
پولیس کا مؤقف ہے کہ اگر عدالت کی جانب سے واضح احکامات جاری ہوئے تو وزیراعلیٰ سہیل آفریدی سے باقاعدہ تفتیش کی جائے گی۔ اس پیش رفت کے بعد سوشل میڈیا پر یہ سوال بھی زیر بحث ہے کہ آیا خیبر پختونخوا پولیس نے یہ شواہد خود پنجاب فارنزک لیب بھجوائے یا یہ اقدام عدالتی حکم کے تحت کیا گیا۔
وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے موقف اختیار کیا ہے کہ خیبر پختونخوا پولیس نے کوئی مواد ازخود نہیں بھجوایا بلکہ عدالت نے ایک سیل بند لفافہ، جس میں یو ایس بی موجود تھی، تفتیشی افسر کے حوالے کر کے فارنزک لیب بھیجنے کی ہدایت کی۔ ان کے مطابق نہ وکیل کو یو ایس بی کے مندرجات سے آگاہ کیا گیا اور نہ ہی پولیس افسر کو اس مواد کی تفصیل معلوم تھی۔
انہوں نے کہا کہ عدالت نے فارنزک ماہرین کو صرف یہ رائے دینے کا حکم دیا تھا کہ آیا ویڈیو میں موجود شخص سہیل آفریدی ہے یا نہیں، جس پر ماہرین نے تصدیق کی کہ ویڈیو میں موجود شخص وہی ہیں۔ تاہم اصل سوال یہ ہے کہ آیا اس ویڈیو اور تصاویر کا 9 مئی کے پشاور واقعات سے کوئی تعلق بنتا ہے یا نہیں۔
چیف کیپیٹل پولیس پشاور میاں سعید کے مطابق پولیس پہلے ہی تفتیش مکمل کر کے چالان عدالت میں جمع کرا چکی تھی، بعد ازاں مخالف وکیل کی جانب سے شواہد پیش کرنے پر عدالت نے یو ایس بی پولیس کے حوالے کی اور فارنزک لیب و نادرا کو بھجوانے کی ہدایت دی۔ ان کا کہنا ہے کہ دونوں رپورٹس عدالت میں جمع کرا دی گئی ہیں اور آئندہ کارروائی عدالت کے احکامات کے مطابق کی جائے گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: سہیل آفریدی فارنزک لیب عدالت نے کے مطابق
پڑھیں:
مردان: گھر سے خاتون سمیت 3 افراد کی لاشیں برآمد
مردان: خیبرپختونخوا کے ضلع مردان کے علاقے شیخ ملتون سیکٹر بی میں ایک گھر سے خاتون سمیت تین افراد کی لاشیں برآمد ہونے کا واقعہ سامنے آیا ہے۔
ریسکیو 1122 کے مطابق اطلاع موصول ہوتے ہی میڈیکل ٹیم فوری طور پر موقع پر پہنچ گئی اور پولیس کی موجودگی میں کارروائی کا آغاز کیا گیا۔
ریسکیو حکام کے مطابق تینوں لاشوں کو قانونی کارروائی اور ضروری معائنے کے لیے مردان میڈیکل کمپلیکس (ایم ایم سی) اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق جاں بحق افراد کی شناخت جلال، زوجہ جلال اور مصطفیٰ کے ناموں سے ہوئی ہے۔
واقعے کی وجوہات فوری طور پر سامنے نہیں آسکیں، جبکہ پولیس نے معاملے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ پوسٹ مارٹم اور تفتیشی عمل مکمل ہونے کے بعد واقعے کی اصل نوعیت واضح ہو سکے گی۔
پولیس اور متعلقہ ادارے مختلف پہلوؤں سے واقعے کا جائزہ لے رہے ہیں، جبکہ اہلِ علاقہ میں واقعے کے بعد تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔