Islam Times:
2026-06-03@01:15:07 GMT

ٹرمپ کسی کا نہیں

اشاعت کی تاریخ: 6th, February 2026 GMT

ٹرمپ کسی کا نہیں

اسلام ٹائمز: ٹرمپ کے لئے شرم کا مقام ہے کہ وہ امن کے نام پر اور دوسرے ملکوں میں شرپسندوں کی حمایت میں فوجی حملوں کی دھمکیاں دے رہا ہے اور اپنے ملک میں پرامن شہریوں کو نیشنل گارڈ کے ذریعے کچلنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ پوری دنیا میں امن کے قیام کے نام پر جنگ کا بگل بجانے والا ٹرمپ اپنے ملک میں ورلڈ کپ کے ٹورنامنٹ کو پرامن ماحول میں منعقد نہیں کرسکتا۔ وہ کسی دوسرے ملک اور خطے میں کس طرح امن کی بحالی کا دعویٰ کرسکتا ہے۔ تحریر: داؤد ایگدری

امریکی صدر نے متنازع فیصلے سے ورلڈ کپ کا ماحول خاصا گرم کر دیا ہے۔ ٹرمپ جہاں دنیا بھر میں اپنے مخالفین کو اسلحہ کی بنیاد پر ڈرا دھمکا رہا ہے، اس نے یہی کام اپنے ملک میں بھی شروع کر رکھا ہے۔ ٹرمپ نے گذشتہ روز یہ اعلان کیا ہے کہ وہ ورلڈ کپ کے 5 میزبان شہروں میں نیشنل گارڈ تعینات کرنے کے لیے تیار ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کے گذشتہ روز کے یہ بیانات اس وقت سامنے آئے ہیں، جب دنیا کے مختلف ممالک نے ملک میں سکیورٹی کے فقدان کی وجہ سے  ورلڈ کپ کے بائیکاٹ  کی بات کی ہے۔ امریکی صدر پر جہاں ایک ماہ میں دو امریکی شہریوں کو بدترین طریقے سے قتل کرنے اور امیگریشن پولیس کی اندھی حمایت کی وجہ سے ملک کی فضا کو غیر محفوظ بنانے کا الزام لگایا جا رہا ہے، وہیں اب اس نئے فیصلے سے  ٹرمپ پر تنقیدیں کی جا رہی ہیں۔

ٹرمپ کی طرف سے پہلے بھی نیشنل گارڈ کی مدد سے امریکی شہروں کے احتجاج کو دبانے اور مارشل لاء نافذ کرنے کی تاریخ موجود ہے۔ گارڈین اخبار لکھتا ہے کہ ٹرمپ کے بیانات سے ورلڈ کپ سے قبل تناؤ میں اضافہ ہوا ہے، کیونکہ اس ٹورنامنٹ کے میزبان شہروں میں نیشنل گارڈ کی موجودگی سے تماشائیوں کے خلاف جان کو لاحق خطرات کا امکان بڑھ سکتا ہے۔ ٹرمپ کھلے عام کہتے ہیں کہ "ہم جو بھی ضروری ہوگا، وہ کریں گے۔" امریکی صدر کے یہ بیانات ورلڈ کپ کے تماشائیوں کے لیے براہ راست خطرہ ہیں۔ ٹرمپ نے اس سے قبل لاس اینجلس میں پولیس کی بربریت کے خلاف مظاہروں کو روکنے کے لیے نیشنل گارڈ کے 2000 دستے تعینات کیے تھے، جس کی وجہ سے شہر میں پرتشدد جھڑپیں ہوئیں۔

سکیورٹی ماہر جیمز نیلسن کا خیال ہے کہ ورلڈ کپ کی میزبانی کرنے والے شہروں میں نیشنل گارڈ کو تعینات کرنے کی تیاری کے ٹرمپ کے حکم کا مقصد سکیورٹی کو برقرار رکھنا اور ٹورنامنٹ کے دوران افراتفری کو روکنا ہے۔ تاہم، مرر کے رپورٹر رابرٹ جیفری کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کا یہ اقدام ورلڈ کپ کے شائقین کے لیے خطرہ ہے اور ٹورنامنٹ کو عسکری بنانا اور عدم تحفظ کے احساس کو فروغ دینا ہے۔ نیویارک ٹائمز کا خیال ہے کہ سب سے اہم قانونی رکاوٹیں جو ٹرمپ کے ورلڈ کپ کو فوجی بنانے کے متنازعہ فیصلے کو روک سکتی ہیں، وہ وفاقی عدالت، ریاستی گورنرز اور امریکی کانگریس کی مداخلت ہے۔

یقیناً فیفا اور انسانی حقوق کی تنظیمیں بیرون ملک سے بھی اس فیصلے کو منسوخ کرنے کے لیے دباؤ ڈال سکتی ہیں۔ ٹرمپ کے لئے شرم کا مقام ہے کہ وہ امن کے نام پر اور دوسرے ملکوں میں شرپسندوں کی حمایت میں فوجی حملوں کی دھمکیاں دے رہا ہے اور اپنے ملک میں پرامن شہریوں کو نیشنل گارڈ کے ذریعے کچلنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ پوری دنیا میں امن کے قیام کے نام پر جنگ کا بگل بجانے والا ٹرمپ اپنے ملک میں ورلڈ کپ کے ٹورنامنٹ کو پرامن ماحول میں منعقد نہیں کرسکتا۔ وہ کسی دوسرے ملک اور خطے میں کس طرح امن کی بحالی کا دعویٰ کرسکتا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: اپنے ملک میں نیشنل گارڈ ورلڈ کپ کے نے ملک میں دوسرے ملک کے نام پر ٹرمپ کے امن کے رہا ہے کے لیے

پڑھیں:

آبنائے ہرمز بحالی پر بھی ایران سے پابندیاں نہیں ہٹائینگے: مارکوروبیو

امریکی سیکریٹری خارجہ مارکو روبیو کا کہنا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات میں ایرانی ’جوہری پروگرام (Irani atomic programme)کے وہ پہلو بھی شامل ہیں، جس کا وہ (ایران) ایک مہینے یا سال قبل تک ذکر کرنے سے بھی انکار کر رہا تھا۔‘

امریکی وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ اسلامی جمہوریہ کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نہ صرف زندہ ہیں بلکہ بظاہر تیزی سے سرگرم بھی ہو رہے ہیں۔

مارکو روبیو نے سینیٹ کی خارجہ تعلقات کمیٹی کو بتایا کہ ’میرے خیال میں اس بات کے آثار ہیں کہ وہ کسی نہ کسی سطح پر بڑھتا ہوا کردار ادا کر رہے ہیں۔

ایرانی ٹیلی ویژن کے مطابق، مجتبیٰ خامنہ ای کو 20 مارچ کے بعد سے عوامی سطح پر نہیں دیکھا گیا۔

وہ امریکی اور اسرائیلی حملوں کی پہلی لہر میں زخمی ہوئے تھے۔ ان کے والد علی خامنہ ای بھی اسی حملے میں مارے گئے تھے۔

مزید پڑھیں:عید تعطیلات کے بعد کاروباری اوقات کار پھر تبدیل کردئیے گئے

اسلامی جمہوریہ کے سپریم لیڈر کے دفتر میں بین الاقوامی امور کے نائب نے ایک ماہ قبل کہا تھا کہ مجتبیٰ خامنہ ای کی صحت بالکل ٹھیک ہے اور وہ ’معاملات کے انتظام میں مصروف‘ ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا
  • ٹرمپ کے بدلتے پینترے
  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • ایران کے جوہری پروگرام پر انتہائی ٹیکنیکل مذاکرات میں مہینے لگ سکتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ
  • آبنائے ہرمز بحالی پر بھی ایران سے پابندیاں نہیں ہٹائینگے: مارکوروبیو
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  •  محسن نقوی  کا نیشنل پولیس اکیڈمی اسلام آباد کا دورہ، ایم سی ایم سی کورس پر نظرثانی کی اصولی منظوری
  • ورلڈ کپ تیاریوں کے لیے سست وکٹوں پر تنقید مسترد، مائیک ہیسن کا دوٹوک مؤقف