اسلام ٹائمز: ٹرمپ کے لئے شرم کا مقام ہے کہ وہ امن کے نام پر اور دوسرے ملکوں میں شرپسندوں کی حمایت میں فوجی حملوں کی دھمکیاں دے رہا ہے اور اپنے ملک میں پرامن شہریوں کو نیشنل گارڈ کے ذریعے کچلنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ پوری دنیا میں امن کے قیام کے نام پر جنگ کا بگل بجانے والا ٹرمپ اپنے ملک میں ورلڈ کپ کے ٹورنامنٹ کو پرامن ماحول میں منعقد نہیں کرسکتا۔ وہ کسی دوسرے ملک اور خطے میں کس طرح امن کی بحالی کا دعویٰ کرسکتا ہے۔ تحریر: داؤد ایگدری
امریکی صدر نے متنازع فیصلے سے ورلڈ کپ کا ماحول خاصا گرم کر دیا ہے۔ ٹرمپ جہاں دنیا بھر میں اپنے مخالفین کو اسلحہ کی بنیاد پر ڈرا دھمکا رہا ہے، اس نے یہی کام اپنے ملک میں بھی شروع کر رکھا ہے۔ ٹرمپ نے گذشتہ روز یہ اعلان کیا ہے کہ وہ ورلڈ کپ کے 5 میزبان شہروں میں نیشنل گارڈ تعینات کرنے کے لیے تیار ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کے گذشتہ روز کے یہ بیانات اس وقت سامنے آئے ہیں، جب دنیا کے مختلف ممالک نے ملک میں سکیورٹی کے فقدان کی وجہ سے ورلڈ کپ کے بائیکاٹ کی بات کی ہے۔ امریکی صدر پر جہاں ایک ماہ میں دو امریکی شہریوں کو بدترین طریقے سے قتل کرنے اور امیگریشن پولیس کی اندھی حمایت کی وجہ سے ملک کی فضا کو غیر محفوظ بنانے کا الزام لگایا جا رہا ہے، وہیں اب اس نئے فیصلے سے ٹرمپ پر تنقیدیں کی جا رہی ہیں۔
ٹرمپ کی طرف سے پہلے بھی نیشنل گارڈ کی مدد سے امریکی شہروں کے احتجاج کو دبانے اور مارشل لاء نافذ کرنے کی تاریخ موجود ہے۔ گارڈین اخبار لکھتا ہے کہ ٹرمپ کے بیانات سے ورلڈ کپ سے قبل تناؤ میں اضافہ ہوا ہے، کیونکہ اس ٹورنامنٹ کے میزبان شہروں میں نیشنل گارڈ کی موجودگی سے تماشائیوں کے خلاف جان کو لاحق خطرات کا امکان بڑھ سکتا ہے۔ ٹرمپ کھلے عام کہتے ہیں کہ "ہم جو بھی ضروری ہوگا، وہ کریں گے۔" امریکی صدر کے یہ بیانات ورلڈ کپ کے تماشائیوں کے لیے براہ راست خطرہ ہیں۔ ٹرمپ نے اس سے قبل لاس اینجلس میں پولیس کی بربریت کے خلاف مظاہروں کو روکنے کے لیے نیشنل گارڈ کے 2000 دستے تعینات کیے تھے، جس کی وجہ سے شہر میں پرتشدد جھڑپیں ہوئیں۔
سکیورٹی ماہر جیمز نیلسن کا خیال ہے کہ ورلڈ کپ کی میزبانی کرنے والے شہروں میں نیشنل گارڈ کو تعینات کرنے کی تیاری کے ٹرمپ کے حکم کا مقصد سکیورٹی کو برقرار رکھنا اور ٹورنامنٹ کے دوران افراتفری کو روکنا ہے۔ تاہم، مرر کے رپورٹر رابرٹ جیفری کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کا یہ اقدام ورلڈ کپ کے شائقین کے لیے خطرہ ہے اور ٹورنامنٹ کو عسکری بنانا اور عدم تحفظ کے احساس کو فروغ دینا ہے۔ نیویارک ٹائمز کا خیال ہے کہ سب سے اہم قانونی رکاوٹیں جو ٹرمپ کے ورلڈ کپ کو فوجی بنانے کے متنازعہ فیصلے کو روک سکتی ہیں، وہ وفاقی عدالت، ریاستی گورنرز اور امریکی کانگریس کی مداخلت ہے۔
یقیناً فیفا اور انسانی حقوق کی تنظیمیں بیرون ملک سے بھی اس فیصلے کو منسوخ کرنے کے لیے دباؤ ڈال سکتی ہیں۔ ٹرمپ کے لئے شرم کا مقام ہے کہ وہ امن کے نام پر اور دوسرے ملکوں میں شرپسندوں کی حمایت میں فوجی حملوں کی دھمکیاں دے رہا ہے اور اپنے ملک میں پرامن شہریوں کو نیشنل گارڈ کے ذریعے کچلنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ پوری دنیا میں امن کے قیام کے نام پر جنگ کا بگل بجانے والا ٹرمپ اپنے ملک میں ورلڈ کپ کے ٹورنامنٹ کو پرامن ماحول میں منعقد نہیں کرسکتا۔ وہ کسی دوسرے ملک اور خطے میں کس طرح امن کی بحالی کا دعویٰ کرسکتا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: اپنے ملک میں نیشنل گارڈ ورلڈ کپ کے نے ملک میں دوسرے ملک کے نام پر ٹرمپ کے امن کے رہا ہے کے لیے
پڑھیں:
سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی سے مشروط کردیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک ’’تاریخی جست‘‘ ثابت ہوگی۔
نیتن یاہو نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ سعودی عرب کی ابراہام معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام اور تعاون کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے سول جوہری پروگرام کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔
کچھ دیر قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودیہ ابراہام معاہدوں میں شامل نہیں ہوجاتا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
یاد ہے کہ ایک روز قبل جب جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب کے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے نہیں جوڑا تھا تاہم بعد میں انھوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔
ادھر سعودی حکومت نے تاحال صدر ٹرمپ کے تازہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا تاہم ریاض متعدد مواقع پر واضح کرچکا ہے کہ وہ اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ عمل اور واضح راستہ موجود نہ ہو۔
سعودی عرب کا مؤقف رہا ہے کہ 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد فلسطینی ریاست کا قیام، مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنانا اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کا تحفظ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔
ابراہام معاہدے کیا ہیں؟
ابراہام معاہدے 2020 میں امریکی ثالثی کے تحت طے پائے تھے جن کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔ بعد ازاں قازقستان نے بھی معاہدے کی حمایت کا اعلان کیا تاہم سعودی عرب اب تک اس کا حصہ نہیں بنا۔
ان معاہدوں کا مقصد اسرائیل کے عرب و مسلم ممالک کے ساتھ سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا تھا لیکن غزہ جنگ اور فلسطینی مسئلے کے باعث سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا عمل روک رکھا ہے۔