سندھ طاس معاہدے کی معطلی سے جموں و کشمیر کو کوئی فائدہ نہیں ملا، عمر عبداللہ
اشاعت کی تاریخ: 6th, February 2026 GMT
وزیراعلٰی نے کہا کہ جموں و کشمیر کی معیشت زراعت پر مبنی ہے، تاہم زرعی زمین میں مسلسل کمی ایک بڑا چیلنج بن چکی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ جموں و کشمیر کے وزیراعلٰی عمر عبداللہ نے کہا ہے کہ سندھ طاس معاہدے (انڈس واٹر ٹریٹی) کی معطلی کے باوجود جموں و کشمیر کو اب تک کوئی ٹھوس فائدہ حاصل نہیں ہو سکا، کیونکہ موجودہ پن بجلی منصوبوں کی پیداواری صلاحیت میں اضافہ ممکن نہیں ہے۔ جموں میں کنونشن سینٹر میں پوسٹ بجٹ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ دریائے جہلم پر وولر جھیل کے مقام پر بیراج کی تعمیر ناگزیر ہے، جس کے ذریعہ لوئر جہلم، اوڑی-1 اور اوڑی-2 پن بجلی منصوبوں کی پیداوار میں اضافہ کیا جا سکتا ہے، اسی طرح دریائے چناب سے اکھنور کے قریب پانی موڑ کر جموں کے مزید علاقوں کو سیراب کیا جا سکتا ہے۔
جموں و کشمیر کے وزیراعلٰی کے ساتھ ان کی کابینہ، مشیران اور محکمہ مالیات کے افسران بھی موجود تھے۔ انہوں نے کہا کہ متعدد چیلنجز کے باوجود حکومت نے ایسا بجٹ تیار کیا ہے جو جموں و کشمیر کے غریب عوام کو ریلیف فراہم کرنے پر مرکوز ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ برس بیسرن پہلگام میں دہشت گرد حملے اور اگست و ستمبر کے دوران آنے والے سیلاب نے جموں و کشمیر کی معیشت کو شدید نقصان پہنچایا، جس کے باعث معاشی سرگرمیاں ٹھپ ہو گئیں۔
ریاستی درجہ بحال نہ ہونے سے متعلق سوال پر عمر عبداللہ نے کہا کہ وہ اب بھی پرامید ہیں کہ جموں و کشمیر کو دوبارہ ریاست کا درجہ دیا جائے گا اور انہوں نے اس امید سے دستبردار ہونے کی بات کبھی نہیں کی۔ وزیراعلٰی نے کہا کہ جموں و کشمیر کی معیشت زراعت پر مبنی ہے، تاہم زرعی زمین میں مسلسل کمی ایک بڑا چیلنج بن چکی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ زمین کے استعمال پر مکمل پابندی عائد نہیں کی جا سکتی، کیونکہ عوام کو اپنے گھروں کی تعمیر اور زمین کے استعمال کا حق حاصل ہے، البتہ حکومت زرعی اور باغبانی زمین کے تحفظ کے لئے ہر ممکن کوشش کر رہی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ پاہلگام اور شوپیاں کے لئے مجوزہ ریلوے منصوبوں کو اس لئے معطل کرایا گیا کیونکہ یہ زرخیز زرعی اور باغبانی زمین سے گزر رہے تھے۔ انہوں نے اس فیصلے پر ریلوے وزیر اشونی ویشنو کا شکریہ ادا کیا۔ ڈیلی ویجروں کی مستقلی سے متعلق سوال پر عمر عبداللہ نے کہا کہ ایک کمیٹی مرحلہ وار پالیسی تیار کر رہی ہے تاکہ انہیں کسی قانونی پیچیدگی میں نہ ڈالا جائے۔ نریندر مودی کی تعریف پر کانگریس کی ناراضگی کے سوال پر وزیراعلٰی نے کہا کہ ان کی تربیت احترام پر مبنی ہے اور جو بھی جموں و کشمیر کی مدد کرتا ہے، وہ اس کی ستائش کریں گے۔
انہوں نے سابق وزیر اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ کا بھی حوالہ دیا جنہوں نے دو مرکزی جامعات فراہم کیں۔ صحت کے شعبہ پر گفتگو کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ وہ بڑے نجی اسپتالوں کے حق میں نہیں ہیں، بلکہ سرکاری میڈیکل کالجوں اور ایمس کو مضبوط بنانے کو ترجیح دیتے ہیں تاکہ عوام کو سستی اور معیاری صحت سہولیات فراہم کی جا سکیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: عمر عبداللہ نے کہا جموں و کشمیر کی نے کہا کہ انہوں نے
پڑھیں:
ایران سے مذاکرات کے امکانات روشن ہیں، معاہدے کا حتمی نہیں کہہ سکتے، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ جوہری مذاکرات کی بحالی کے امکانات روشن ہیں اور ایران بعض ایسے نکات پر بات چیت کے لیے آمادہ ہو گیا ہے جن پر وہ ماضی میں گفتگو سے انکار کرتا رہا تھا تاہم اس بات کی کوئی ضمانت نہیں دی جا سکتی کہ مذاکرات کسی قابل قبول معاہدے پر منتج ہوں گے۔
یہ بھی پڑھیں: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
سینیٹ کی خارجہ تعلقات کمیٹی کے سامنے اپنے بیان میں مارکو روبیو نے کہا کہ ایران نے اپنے جوہری پروگرام کے بعض پہلوؤں پر بات چیت پر آمادگی ظاہر کی ہے جو چند ماہ قبل تک ممکن نہیں سمجھی جا رہی تھی۔
انہوں نے کہا کہ ایران ایسے معاملات پر مذاکرات کے لیے تیار ہوا ہے جن کا ذکر کرنے سے بھی وہ پہلے گریز کرتا تھا تاہم یہ اس بات کی ضمانت نہیں کہ بالآخر کوئی ایسا معاہدہ طے پا جائے گا جو سب کے لیے قابل قبول ہو۔
روبیو کے مطابق ایرانی قیادت کے اندر پائی جانے والی غیر یقینی صورتحال بھی مذاکراتی عمل کو پیچیدہ بنا رہی ہے۔
تاہم امریکی وزیر خارجہ کی امید افزا باتیں ایسے وقت سامنے آئی ہیں جب ایران اور امریکا کے درمیان بالواسطہ رابطوں میں نئی رکاوٹیں پیدا ہونے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق اسرائیل کی جانب سے بیروت پر حملوں کی دھمکیوں کے بعد ایران نے ثالثوں کے ساتھ رابطے معطل کر دیے ہیں۔
ادھر امریکا کی میزبانی میں اسرائیل اور لبنان کے درمیان سیاسی مذاکرات کا نیا دور بھی جاری ہے جبکہ اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے پہلے سے موجود نازک جنگ بندی کو مزید غیر یقینی بنا دیا ہے۔
مزید پڑھیے: لبنان جنگ بندی پراتفاق ہونے کے بعد امریکا، ایران مذاکرات دوبارہ تیز رفتاری سے شروع ہو گئے ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ کا اعلان
مارکو روبیو نے کانگریس میں 2 روزہ بریفنگ کے دوران ایران، مشرق وسطیٰ، کیوبا، غیر ملکی امداد اور دیگر خارجہ پالیسی امور پر قانون سازوں کے سوالات کے جوابات دیے۔
ایران جنگ پر سوالاتکانگریس میں اپنی پہلی عوامی پیشی کے دوران روبیو کو ایران کے خلاف امریکی اور اسرائیلی کارروائیوں سے متعلق سخت سوالات کا سامنا بھی کرنا پڑا۔
متعدد ڈیموکریٹ ارکان نے جنگ کے آغاز سے قبل کانگریس کی منظوری نہ لینے پر تنقید کی جبکہ بیشتر ریپبلکن ارکان نے ایران کے خلاف کارروائی کی حمایت کی۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے خلاف فوجی کارروائی کے فیصلے پر بھی بحث جاری ہے خصوصاً ایسے وقت میں جب انہوں نے ماضی میں مشرق وسطیٰ میں طویل جنگوں سے گریز کا وعدہ کیا تھا۔
جنگ کے معاشی اثراتایران کے ساتھ جاری کشیدگی کے باعث آبنائے ہرمز میں تیل بردار جہازوں کی آمدورفت متاثر ہوئی ہے جس کے نتیجے میں عالمی منڈی میں تیل اور گیس کی قیمتوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔
مزید پڑھیں: ٹرمپ نے ایران جنگ بندی معاہدے کی شرائط مزید سخت کر دیں، تہران کے جواب کا انتظار، امریکی میڈیا
ماہرین کے مطابق دنیا کی تقریباً 20 فیصد تیل اور قدرتی گیس کی تجارت آبنائے ہرمز کے ذریعے ہوتی ہے اس لیے خطے میں کسی بھی قسم کی کشیدگی عالمی معیشت پر براہ راست اثر ڈال سکتی ہے۔
کیوبا سے متعلق بھی سخت مؤقفمارکو روبیو کو سماعت کے دوران کیوبا کے حوالے سے بھی سوالات کا سامنا کرنا پڑا۔ سماعت کے آغاز پر چند مظاہرین نے ’کیوبا کو جینے دو‘ اور ’کیوبن عوام کا قتل بند کرو‘ جیسے نعرے لگائے جنہیں بعد ازاں کمرے سے باہر نکال دیا گیا۔
یہ بھی پڑھیے: ایران ڈیل کے قریب ہیں، مگر جلد بازی نقصان دہ ہوگی، صدر ٹرمپ کا فوکس نیوز کو انٹرویو میں دعویٰ
روبیو، جو کیوبن تارکین وطن خاندان سے تعلق رکھتے ہیں، طویل عرصے سے کیوبا کو امریکی قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیتے رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ کیوبا کے امریکا کے مخالف ممالک کے ساتھ تعلقات واشنگٹن کے لیے تشویش کا باعث ہیں۔
امریکی انتظامیہ نے حالیہ دنوں میں کیوبا کے سابق صدر راول کاسترو کے خلاف فوجداری الزامات بھی عائد کیے ہیں جس پر کیوبا کی حکومت نے شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے اسے سیاسی اقدام قرار دیا ہے۔
مزید پڑھیں: ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی معاہدہ تیار، ٹرمپ کی منظوری باقی، امریکی نیوز ویب سائٹ کا دعویٰ
مارکو روبیو بدھ کے روز بھی کانگریس کی مختلف کمیٹیوں کے سامنے پیش ہو کر امریکی محکمہ خارجہ کے بجٹ اور خارجہ پالیسی سے متعلق معاملات پر بریفنگ دیں گے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو ایران امریکا تنازع ایران امریکا مذاکرات ایران امریکا معاہدہ