وزیراعلٰی نے کہا کہ جموں و کشمیر کی معیشت زراعت پر مبنی ہے، تاہم زرعی زمین میں مسلسل کمی ایک بڑا چیلنج بن چکی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ جموں و کشمیر کے وزیراعلٰی عمر عبداللہ نے کہا ہے کہ سندھ طاس معاہدے (انڈس واٹر ٹریٹی) کی معطلی کے باوجود جموں و کشمیر کو اب تک کوئی ٹھوس فائدہ حاصل نہیں ہو سکا، کیونکہ موجودہ پن بجلی منصوبوں کی پیداواری صلاحیت میں اضافہ ممکن نہیں ہے۔ جموں میں کنونشن سینٹر میں پوسٹ بجٹ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ دریائے جہلم پر وولر جھیل کے مقام پر بیراج کی تعمیر ناگزیر ہے، جس کے ذریعہ لوئر جہلم، اوڑی-1 اور اوڑی-2 پن بجلی منصوبوں کی پیداوار میں اضافہ کیا جا سکتا ہے، اسی طرح دریائے چناب سے اکھنور کے قریب پانی موڑ کر جموں کے مزید علاقوں کو سیراب کیا جا سکتا ہے۔

جموں و کشمیر کے وزیراعلٰی کے ساتھ ان کی کابینہ، مشیران اور محکمہ مالیات کے افسران بھی موجود تھے۔ انہوں نے کہا کہ متعدد چیلنجز کے باوجود حکومت نے ایسا بجٹ تیار کیا ہے جو جموں و کشمیر کے غریب عوام کو ریلیف فراہم کرنے پر مرکوز ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ برس بیسرن پہلگام میں دہشت گرد حملے اور اگست و ستمبر کے دوران آنے والے سیلاب نے جموں و کشمیر کی معیشت کو شدید نقصان پہنچایا، جس کے باعث معاشی سرگرمیاں ٹھپ ہو گئیں۔

ریاستی درجہ بحال نہ ہونے سے متعلق سوال پر عمر عبداللہ نے کہا کہ وہ اب بھی پرامید ہیں کہ جموں و کشمیر کو دوبارہ ریاست کا درجہ دیا جائے گا اور انہوں نے اس امید سے دستبردار ہونے کی بات کبھی نہیں کی۔ وزیراعلٰی نے کہا کہ جموں و کشمیر کی معیشت زراعت پر مبنی ہے، تاہم زرعی زمین میں مسلسل کمی ایک بڑا چیلنج بن چکی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ زمین کے استعمال پر مکمل پابندی عائد نہیں کی جا سکتی، کیونکہ عوام کو اپنے گھروں کی تعمیر اور زمین کے استعمال کا حق حاصل ہے، البتہ حکومت زرعی اور باغبانی زمین کے تحفظ کے لئے ہر ممکن کوشش کر رہی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ پاہلگام اور شوپیاں کے لئے مجوزہ ریلوے منصوبوں کو اس لئے معطل کرایا گیا کیونکہ یہ زرخیز زرعی اور باغبانی زمین سے گزر رہے تھے۔ انہوں نے اس فیصلے پر ریلوے وزیر اشونی ویشنو کا شکریہ ادا کیا۔ ڈیلی ویجروں کی مستقلی سے متعلق سوال پر عمر عبداللہ نے کہا کہ ایک کمیٹی مرحلہ وار پالیسی تیار کر رہی ہے تاکہ انہیں کسی قانونی پیچیدگی میں نہ ڈالا جائے۔ نریندر مودی کی تعریف پر کانگریس کی ناراضگی کے سوال پر وزیراعلٰی نے کہا کہ ان کی تربیت احترام پر مبنی ہے اور جو بھی جموں و کشمیر کی مدد کرتا ہے، وہ اس کی ستائش کریں گے۔

انہوں نے سابق وزیر اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ کا بھی حوالہ دیا جنہوں نے دو مرکزی جامعات فراہم کیں۔ صحت کے شعبہ پر گفتگو کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ وہ بڑے نجی اسپتالوں کے حق میں نہیں ہیں، بلکہ سرکاری میڈیکل کالجوں اور ایمس کو مضبوط بنانے کو ترجیح دیتے ہیں تاکہ عوام کو سستی اور معیاری صحت سہولیات فراہم کی جا سکیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: عمر عبداللہ نے کہا جموں و کشمیر کی نے کہا کہ انہوں نے

پڑھیں:

عطا اللہ تارڑ نے اب تک معافی نہیں مانگی، وزیراعظم وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لیں، سحر کامران

پاکستان پیپلز پارٹی کی رکن قومی اسمبلی سحر کامران کا کہنا ہے کہ وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں پیش آنے والے واقعے پر اب تک معافی نہیں مانگی جبکہ وزیراعظم کو اپنے وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لینا چاہیے۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان کے اگلے وزیراعظم بلاول بھٹو زرداری، سینیٹر سحر کامران نے دعویٰ کیوں کیا؟

وی ایکسکلوسیو میں گفتگو کرتے ہوئے سحر کامران نے بتایا کہ قائمہ کمیٹی کے اجلاس کے دوران انہوں نے وزارت اور متعلقہ سیکریٹری سے سوال کیا تھا کہ کمیٹی کے اجلاس میں تقریباً 12 ارب روپے مالیت کے 14 منصوبوں کی منظوری لی گئی تاہم بعد میں معلوم ہوا کہ بجٹ میں 14 ارب روپے سے زائد مالیت کے 17 منصوبے منظور کیے گئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ان کا صرف یہ سوال تھا کہ وہ 3 اضافی منصوبے کون سے تھے جو قائمہ کمیٹی کے سامنے پیش نہیں کیے گئے۔ ان کے بقول انہوں نے پاکستان ٹیلی ویژن (پی ٹی وی) سے متعلق بھی ایجنڈے کے مطابق چند سوالات کیے لیکن اسی دوران وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ اونچی آواز میں گفتگو کرنے لگے جس سے انہیں شدید تضحیک کا احساس ہوا۔

سحر کامران کا کہنا تھا کہ انہوں نے اس صورتحال پر واک آؤٹ کرنے کا فیصلہ کیا تاہم ان کے مطابق عطا اللہ تارڑ نے دوبارہ بلند آواز میں کہا کہ ’یہ ممبر کمیٹی کو ہائی جیک کرنا چاہتی ہیں‘، حالانکہ ان کے بقول انہوں نے ایسا کوئی اقدام نہیں کیا تھا۔

مزید پڑھیے: امریکا ایران مذاکرات، پیپلز پارٹی کا کردار پسِ منظر میں کیوں؟

رکن قومی اسمبلی نے مزید کہا کہ یہ پہلا موقع نہیں تھا کہ عطا اللہ تارڑ کے رویے پر انہیں اعتراض ہوا ہو۔ ان کے مطابق اس سے قبل بھی ایک پارلیمانی سوال کے جواب میں وزیر اطلاعات نے ان کے سوال کا متعلقہ جواب نہیں دیا تھا۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ جب انہوں نے قومی اسمبلی میں اس معاملے کی نشاندہی کی تو عطا اللہ تارڑ نے جواب دیا کہ میرا یہی کام ہے کہ سوال جیسا بھی ہو جواب میں اپنی مرضی کا دیتا ہوں۔

سحر کامران نے سپیکر قومی اسمبلی کے رویے پر بھی اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ انہیں ایوان میں جانبداری محسوس ہوئی۔

انہوں نے کہا کہ اس سے قبل بھی ایک وفاقی وزیر کی جانب سے پاکستان پیپلز پارٹی کی سینیٹر شیری رحمان کے ساتھ بھی نامناسب رویہ اختیار کیا گیا تھا۔

سحر کامران نے وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ وہ وزرا کے رویے کا نوٹس لیں اور پارلیمانی روایات کے مطابق ارکان کے ساتھ احترام پر مبنی طرز عمل یقینی بنائیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی نے جمہوریت اور آئین کی بالادستی کے لیے بے شمار قربانیاں دی ہیں۔ ان کے بقول پارٹی آج بھی جمہوریت کے استحکام کی خاطر وفاقی حکومت کی اتحادی ہے تاہم اسی وجہ سے کابینہ کا حصہ نہیں بنی۔

مزید پڑھیں: عطا تارڑ کا بڑا ایکشن: واجبات کی ادائیگی تک نجی ٹی وی کے اشتہارات بند کا اعلان

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کی ملک کے تمام صوبوں کے علاوہ گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں بھی نمایاں نمائندگی موجود ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

رکن قومی اسمبلی سحر کامران سحر کامران کو عطا تارڑ سے شکایت وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ

متعلقہ مضامین

  • سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
  • عطا اللہ تارڑ نے اب تک معافی نہیں مانگی، وزیراعظم وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لیں، سحر کامران
  • آزاد کشمیر انتخابات: استحکام پارٹی‘ مرکزی مسلم لیگ‘ جموں کشمیر یونائیٹڈ موومنٹ کا اتحاد 
  • استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد طے
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم