Islam Times:
2026-06-02@22:19:17 GMT

امریکہ کو مذاکرات کی میز پر واپس کیوں آنا پڑا؟

اشاعت کی تاریخ: 7th, February 2026 GMT

امریکہ کو مذاکرات کی میز پر واپس کیوں آنا پڑا؟

اسلام ٹائمز: امریکہ آج اپنے کمزور ترین دور سے گزر رہا ہے۔ بلاشبہ، امریکہ ایک چیز میں اچھا ہے اور وہ میڈیا وار، نفسیاتی جنگ، جھوٹی اور جعلی خبروں میں مذکورہ ماندہ اوزار ہیں۔ ایسے ٹولز جو بالآخر انکے حکام اور میڈیا کو مزید بدنام کرنے کے لیے کام کرتے ہیں۔ تاہم، ہمیں مذاکرات کے حوالے سے نفسیاتی کارروائیوں کی کئی لہروں کی توقع رکھنی چاہیئے۔ تحریر: حامد موفق بہروزی

مسلسل دھمکیاں دینے اور خطے میں جنگی جہاز بھیجنے کے بعد ٹرمپ آخرکار ایران پر حملے سے کیوں پیچھے ہٹ گیا اور مذاکرات کی میز پر کیوں واپس آگیا۔؟ جب ٹرمپ نے اچانک کہا، "چونکہ ایران نے پھانسیاں منسوخ کر دی ہیں، اس لیے ہم نے فی الحال حملہ کرنے سے گریز کیا ہے،" ایران پر حملہ کرنے کی تمام دھمکیوں، شور شرابے اور اشاروں کے بعد، رہبر انقلاب نے اس گیم کا نہایت ہوشیاری سے جواب دیا۔ ان بیانات کے بعد اپنی پہلی تقریر میں رہبر انقلاب نے واضح طور پر کہا: "ایرانی قوم نے فتنہ کی کمر توڑ دی ہے اور فتنہ گروں کی کمر بھی توڑ دے گی، چاہے وہ ملکی ہوں یا غیر ملکی۔ کسی مجرم کو بخشا نہیں جائے گا۔" اس موقف کا واضح پیغام تھا: ٹرمپ کے ہاتھ خالی ہیں۔ رہبر انقلاب نے بنیادی طور پر اسی رسی کو  کمزور کر دیا،  جسے ٹرمپ نے ایران کو دھمکی دینے کی بھاری قیمت سے بچنے کے لیے پکڑا تھا۔

یہ شروع سے ہی واضح تھا کہ ٹرمپ کا دعویٰ فریب ہے۔ کیونکہ ایران میں عدالتی عمل میں مقدمات کے تمام پہلوؤں کا بغور جائزہ لینے کی وجہ سے وقت لگتا ہے اور کوئی فیصلہ اتنی جلدی جاری نہیں ہوتا اور نہ ہی فوری طور پر اس پر عملدرآمد ہوتا ہے۔ لیکن اس واضح موقف نے ٹرمپ کو باضابطہ طور پر رنگ کے کونے میں ڈال دیا۔ اس تقریر کے بعد ٹرمپ مکمل تعطل کا شکار ہوگیا۔ اس کے پاس نہ تو حملہ کرنے کی صلاحیت تھی، کیونکہ اگر اس کے پاس ہوتی تو حملہ کو منسوخ کرنے کے لیے مضحکہ خیز بہانے بنانے کی ضرورت نہ ہوتی اور نہ ہی اپنے عہدوں سے باوقار پسپائی۔ ٹرمپ نے اس نفسیاتی اور ہائبرڈ جنگ میں شکست کے امکان کا صحیح اندازہ لگائے بغیر اس معاملے کو بےوقار بنا دیا تھا۔

ریاست ہائے متحدہ امریکہ کو ان تمام خطرات، اختراعات اور فضائی حملے کے انتباہات کے لیے ایک کامیابی کی ضرورت تھی۔ ورنہ اس کے پاس سوائے بے عزتی کے کچھ نہیں بچے گا۔ ایک ہی راستہ تھا کہ وہ مذاکرات کے راستے پر واپس آجائے، تاکہ وہ یہ دعویٰ کر سکیں کہ یہ سارا ہنگامہ "بیکار" نہیں تھا۔ ایران نے بھی اپنی شرائط عائد کرکے مذاکرات کرنے پر آمادگی ظاہر کی یعنی پابندیاں ہٹانے کے لیے مذاکرات۔ مذاکرات کا آغاز کیسے ہوا۔ مذاکرات سے پہلے ٹرمپ نے درج ذیل شرائط رکھی: ایران کو اسرائیل کے ساتھ اپنے تعلقات بہتر کرنے چاہئیں۔ امریکہ مذاکرات کے لیے جگہ کا تعین کرے گا اور بات چیت کا موضوع صرف جوہری نہیں ہوگا بلکہ میزائل اور علاقائی مسائل کو زیر بحث لایا جائے گا۔

لیکن ان میں سے کوئی بھی شرط قبول نہیں کی گئی اور امریکہ پسپائی پر مجبور ہوگیا۔ یہ امریکہ کی حقیقت ہے۔ ایک ایسی طاقت جو صرف آرنلڈ اور ہرکیولس کی طرح پوز بناتی ہے، لیکن اس میں حرکت کرنے کی حقیقی طاقت نہیں ہے۔ ٹرمپ کا امریکہ آج شدید دباؤ میں ہے۔ پچھلے ایک سال میں، ٹرمپ نے امریکی عوام کے لیے تقریباً کوئی ٹھوس کامیابی حاصل نہیں کی۔ ٹرمپ کے وعدے یکے بعد ہوا میں تحلیل ہو رہے ہیں۔ یوکرین میں تین روزہ جنگ ختم نہیں ہوئی اور نہ ہی چین کے خلاف محصولات کے نتائج برآمد ہوئے ہیں اور نہ ہی یمن تباہ ہوا ہے نہ ہی گرین لینڈ، منیاپولس اور ہائی پروفائل پروجیکٹس کی مہم جوئی کہیں بھی پہنچی ہے۔

وینزویلا اب بھی مادورو حکومت کے ساتھ کھڑا ہے اور دوسری طرف ایپسٹین کیس کے دباؤ نے ٹرمپ کو پہلے سے زیادہ جکڑ لیا ہے۔ امریکہ آج اپنے کمزور ترین دور سے گزر رہا ہے۔ بلاشبہ، امریکہ ایک چیز میں اچھا ہے اور وہ میڈیا وار، نفسیاتی جنگ، جھوٹی اور جعلی خبروں میں مذکورہ ماندہ اوزار ہیں۔ ایسے ٹولز جو بالآخر ان کے حکام اور میڈیا کو مزید بدنام کرنے کے لیے کام کرتے ہیں۔ تاہم، ہمیں مذاکرات کے حوالے سے نفسیاتی کارروائیوں کی کئی لہروں کی توقع رکھنی چاہیئے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: مذاکرات کے اور نہ ہی ہے اور کے لیے کے بعد

پڑھیں:

ووٹ ملے نہ ملے گلگت بلتستان میں سہولیات فراہم کروں گا: نواز شریف

ویب ڈیسک :مسلم لیگ ن کے صدر اور سابق وزیر اعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ ووٹ ملے نہ ملے گلگت بلتستان میں سہولیات فراہم کروں گا۔
سابق وزیر اعظم نواز شریف نے گلگت میں عوامی جلسے سے خطاب کے دوران کہا ہے کہ میں وہ نواز شریف ہوں جو کسی پر تنقید کرکے نہیں بلکہ کارکردگی پر ووٹ مانگتا ہوں، گلگت بلتستان کی سڑکوں کی حالت دیکھ کر افسوس ہوا،پوچھنا چاہتا ہوں کہ گلگت بلتستان کو نظر انداز کیوں کیا گیا ؟

پاکستان آسٹریلیا دوسرا ون ڈے، قذافی اسٹیڈیم میں سیکیورٹی و ٹریفک انتظامات مکمل

میاں نوازشریف نے کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عوامی جوش و جذبہ دیکھ کر خوشی ہوئی ،ہم نےگلگت اور ملحقہ علاقوں میں بہترین شاہراہیں بچھائی تھیں۔

چاہتا ہوں جی بی میں ترقی اور لوگوں کو روزگار ملے، 50 ارب روپے کی لاگت سے گلگت سے سکردو تک سڑک تعمیر کی گئی تھی ،گلگت کے عوام کا پیسہ ان پر کیوں نہیں لگایا گیا؟ہم نے ہائیڈرل پاور منصوبے شروع کیے، اب تک مکمل کیوں نہیں ہوئے؟

متعلقہ مضامین

  • ٹرمپ کے بدلتے پینترے
  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • ایران کے جوہری پروگرام پر انتہائی ٹیکنیکل مذاکرات میں مہینے لگ سکتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • ایران سے مذاکرات کے امکانات روشن ہیں، معاہدے کا حتمی نہیں کہہ سکتے، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو
  • ٹرمپ کی خام خیالی تھی وہ ہمیں مذاکرات میں لگاکر حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے، ایرانی سفیر
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • ووٹ ملے نہ ملے گلگت بلتستان میں سہولیات فراہم کروں گا: نواز شریف
  • امریکا ایران غیر یقینی صورتحال: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار
  • ایران، امریکا مذاکرات: یورپی یونین بھی پاکستان کے کردار کی معترف لیکن مسئلے کا حل تاحال تاخیر کا شکار کیوں؟