Islam Times:
2026-07-23@23:43:00 GMT

امریکہ کو مذاکرات کی میز پر واپس کیوں آنا پڑا؟

اشاعت کی تاریخ: 7th, February 2026 GMT

امریکہ کو مذاکرات کی میز پر واپس کیوں آنا پڑا؟

اسلام ٹائمز: امریکہ آج اپنے کمزور ترین دور سے گزر رہا ہے۔ بلاشبہ، امریکہ ایک چیز میں اچھا ہے اور وہ میڈیا وار، نفسیاتی جنگ، جھوٹی اور جعلی خبروں میں مذکورہ ماندہ اوزار ہیں۔ ایسے ٹولز جو بالآخر انکے حکام اور میڈیا کو مزید بدنام کرنے کے لیے کام کرتے ہیں۔ تاہم، ہمیں مذاکرات کے حوالے سے نفسیاتی کارروائیوں کی کئی لہروں کی توقع رکھنی چاہیئے۔ تحریر: حامد موفق بہروزی

مسلسل دھمکیاں دینے اور خطے میں جنگی جہاز بھیجنے کے بعد ٹرمپ آخرکار ایران پر حملے سے کیوں پیچھے ہٹ گیا اور مذاکرات کی میز پر کیوں واپس آگیا۔؟ جب ٹرمپ نے اچانک کہا، "چونکہ ایران نے پھانسیاں منسوخ کر دی ہیں، اس لیے ہم نے فی الحال حملہ کرنے سے گریز کیا ہے،" ایران پر حملہ کرنے کی تمام دھمکیوں، شور شرابے اور اشاروں کے بعد، رہبر انقلاب نے اس گیم کا نہایت ہوشیاری سے جواب دیا۔ ان بیانات کے بعد اپنی پہلی تقریر میں رہبر انقلاب نے واضح طور پر کہا: "ایرانی قوم نے فتنہ کی کمر توڑ دی ہے اور فتنہ گروں کی کمر بھی توڑ دے گی، چاہے وہ ملکی ہوں یا غیر ملکی۔ کسی مجرم کو بخشا نہیں جائے گا۔" اس موقف کا واضح پیغام تھا: ٹرمپ کے ہاتھ خالی ہیں۔ رہبر انقلاب نے بنیادی طور پر اسی رسی کو  کمزور کر دیا،  جسے ٹرمپ نے ایران کو دھمکی دینے کی بھاری قیمت سے بچنے کے لیے پکڑا تھا۔

یہ شروع سے ہی واضح تھا کہ ٹرمپ کا دعویٰ فریب ہے۔ کیونکہ ایران میں عدالتی عمل میں مقدمات کے تمام پہلوؤں کا بغور جائزہ لینے کی وجہ سے وقت لگتا ہے اور کوئی فیصلہ اتنی جلدی جاری نہیں ہوتا اور نہ ہی فوری طور پر اس پر عملدرآمد ہوتا ہے۔ لیکن اس واضح موقف نے ٹرمپ کو باضابطہ طور پر رنگ کے کونے میں ڈال دیا۔ اس تقریر کے بعد ٹرمپ مکمل تعطل کا شکار ہوگیا۔ اس کے پاس نہ تو حملہ کرنے کی صلاحیت تھی، کیونکہ اگر اس کے پاس ہوتی تو حملہ کو منسوخ کرنے کے لیے مضحکہ خیز بہانے بنانے کی ضرورت نہ ہوتی اور نہ ہی اپنے عہدوں سے باوقار پسپائی۔ ٹرمپ نے اس نفسیاتی اور ہائبرڈ جنگ میں شکست کے امکان کا صحیح اندازہ لگائے بغیر اس معاملے کو بےوقار بنا دیا تھا۔

ریاست ہائے متحدہ امریکہ کو ان تمام خطرات، اختراعات اور فضائی حملے کے انتباہات کے لیے ایک کامیابی کی ضرورت تھی۔ ورنہ اس کے پاس سوائے بے عزتی کے کچھ نہیں بچے گا۔ ایک ہی راستہ تھا کہ وہ مذاکرات کے راستے پر واپس آجائے، تاکہ وہ یہ دعویٰ کر سکیں کہ یہ سارا ہنگامہ "بیکار" نہیں تھا۔ ایران نے بھی اپنی شرائط عائد کرکے مذاکرات کرنے پر آمادگی ظاہر کی یعنی پابندیاں ہٹانے کے لیے مذاکرات۔ مذاکرات کا آغاز کیسے ہوا۔ مذاکرات سے پہلے ٹرمپ نے درج ذیل شرائط رکھی: ایران کو اسرائیل کے ساتھ اپنے تعلقات بہتر کرنے چاہئیں۔ امریکہ مذاکرات کے لیے جگہ کا تعین کرے گا اور بات چیت کا موضوع صرف جوہری نہیں ہوگا بلکہ میزائل اور علاقائی مسائل کو زیر بحث لایا جائے گا۔

لیکن ان میں سے کوئی بھی شرط قبول نہیں کی گئی اور امریکہ پسپائی پر مجبور ہوگیا۔ یہ امریکہ کی حقیقت ہے۔ ایک ایسی طاقت جو صرف آرنلڈ اور ہرکیولس کی طرح پوز بناتی ہے، لیکن اس میں حرکت کرنے کی حقیقی طاقت نہیں ہے۔ ٹرمپ کا امریکہ آج شدید دباؤ میں ہے۔ پچھلے ایک سال میں، ٹرمپ نے امریکی عوام کے لیے تقریباً کوئی ٹھوس کامیابی حاصل نہیں کی۔ ٹرمپ کے وعدے یکے بعد ہوا میں تحلیل ہو رہے ہیں۔ یوکرین میں تین روزہ جنگ ختم نہیں ہوئی اور نہ ہی چین کے خلاف محصولات کے نتائج برآمد ہوئے ہیں اور نہ ہی یمن تباہ ہوا ہے نہ ہی گرین لینڈ، منیاپولس اور ہائی پروفائل پروجیکٹس کی مہم جوئی کہیں بھی پہنچی ہے۔

وینزویلا اب بھی مادورو حکومت کے ساتھ کھڑا ہے اور دوسری طرف ایپسٹین کیس کے دباؤ نے ٹرمپ کو پہلے سے زیادہ جکڑ لیا ہے۔ امریکہ آج اپنے کمزور ترین دور سے گزر رہا ہے۔ بلاشبہ، امریکہ ایک چیز میں اچھا ہے اور وہ میڈیا وار، نفسیاتی جنگ، جھوٹی اور جعلی خبروں میں مذکورہ ماندہ اوزار ہیں۔ ایسے ٹولز جو بالآخر ان کے حکام اور میڈیا کو مزید بدنام کرنے کے لیے کام کرتے ہیں۔ تاہم، ہمیں مذاکرات کے حوالے سے نفسیاتی کارروائیوں کی کئی لہروں کی توقع رکھنی چاہیئے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: مذاکرات کے اور نہ ہی ہے اور کے لیے کے بعد

پڑھیں:

ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر

ایس یو سی کے مرکزی رہنماء نے رہبر معظم آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای سے تجدیدِ عہد کا اظہار بھی کیا اور اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ حق، عدل، وحدتِ امت اور مظلوموں کی حمایت کے اصولوں پر ثابت قدم رہتے ہوئے اسلامی اقدار کے فروغ کے لیے اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے رہیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ ڈیرہ اسماعیل خان جامعۃ النجف کوٹلی امام حسین میں گرمیوں کی چھٹیوں سے استفادہ کرتے ملت جعفریہ کے بچوں کے لیے پرنسپل جامعتہ النجف علامہ محمد رمضان توقیر کی نگرانی بیس روزہ دین شناسی شارٹ کورس کا اہتمام کیا گیا۔ جس میں ڈیرہ شہر اور مضافات سے کثیر تعداد میں بچوں نے شرکت کی۔اس دین شناسی شارٹ کورس میں بچوں کو قرآن وحدیث،وضو،صوم ،صلوات اور بنیادی فقہی احکام سے روشناس کرایا گیا۔ جس میں جامعتہ النجف کے دیگر مدرسین محنت و لگن کے ساتھ بچوں کی رہنمائی کرتے رہیں۔ دین شناسی شارٹ کورس کے آخر میں مدرسین نے اپنی محنت اور طلاب کرام کی کارکردگی کو جانچنے کے لیے بچوں سے امتحان لیا۔اساتذہ کی محنت اور بچوں کی محنت قابلِ تعریف تھی۔تقسیم تقریب انعامات کا اہتمام کیا گیا۔

پرنسپل جامعہ علامہ محمد رمضان توقیر نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اساتذہ کی محنت اور طلاب کرام کی امتحانات میں تسلی بخش نتائج کو سراہتے ہوئے کہا کہ انشاء اللہ اس طرح دین مبین کی خدمت کا سلسلہ جاری رکھیں گے اور ملت کے جوانوں کی دینی تعلیم و تربیت کے لیے ہمہ وقت کوشاں رہیں گے۔ اس موقع پر رہبرِ انقلاب کی دینی و انقلابی خدمات اور ایران کی استقامت اور ثابت قدمی کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ اسی قرآن و سنت کی آگاہی اور خدا تعالیٰ کی وحدانیت کے پختہ عقیدہ کی وجہ سے ایران کی حکومت اور عوام شیطان بزرگ کے خلاف استقامت اور جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے دن بدن حاوی ہوتی جا رہا ہے، جو قابلِ تعریف ہے۔ لیکن کچھ ناقدین آج بھی ایران کی استقامت اور کامیابیوں سے پریشان ہیں اور شیطان بزرگ کی خوشنودی کے لیے ایران پر تنقید کر رہے ہیں کہ ایران عرب ممالک پر حملہ کر رہا ہے۔

علامہ محمد رمضان توقیر نے کہا کہ ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے۔ اس موقع پر نئے رہبر آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای سے تجدیدِ عہد کا اظہار بھی کیا گیا اور اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ حق، عدل، وحدتِ امت اور مظلوموں کی حمایت کے اصولوں پر ثابت قدم رہتے ہوئے اسلامی اقدار کے فروغ کے لیے اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے رہیں گے۔ تقریب تقسیم انعامات میں مدرسین اور معززین علاقہ نے شرکت کی اور امتحان میں نمایاں پوزیشن حاصل کرنے والے طلاب کرام کو انعامات سے نوازا گیا اور انکی حوصلہ افزائی کی گئی۔ امتِ مسلمہ کے اتحاد، ایران کی فتح و نصرت، پاکستان کی سلامتی اور شہدائے اسلام، بالخصوص رہبر شہید کے لئے دعا کی گئی۔

متعلقہ مضامین

  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا
  • آبنائے ہرمز میں ہر حملے کے بدلے ایک پل یا پاور پلانٹ تباہ کریں گے، ٹرمپ کی ایران کو نئی دھمکی
  • حملہ ہوا تو خلیج میں امریکہ سے منسلک پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنائیں گے، ایران
  • ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم