Islam Times:
2026-07-24@05:10:21 GMT

امریکہ کو مذاکرات کی میز پر واپس کیوں آنا پڑا؟

اشاعت کی تاریخ: 7th, February 2026 GMT

امریکہ کو مذاکرات کی میز پر واپس کیوں آنا پڑا؟

اسلام ٹائمز: امریکہ آج اپنے کمزور ترین دور سے گزر رہا ہے۔ بلاشبہ، امریکہ ایک چیز میں اچھا ہے اور وہ میڈیا وار، نفسیاتی جنگ، جھوٹی اور جعلی خبروں میں مذکورہ ماندہ اوزار ہیں۔ ایسے ٹولز جو بالآخر انکے حکام اور میڈیا کو مزید بدنام کرنے کے لیے کام کرتے ہیں۔ تاہم، ہمیں مذاکرات کے حوالے سے نفسیاتی کارروائیوں کی کئی لہروں کی توقع رکھنی چاہیئے۔ تحریر: حامد موفق بہروزی

مسلسل دھمکیاں دینے اور خطے میں جنگی جہاز بھیجنے کے بعد ٹرمپ آخرکار ایران پر حملے سے کیوں پیچھے ہٹ گیا اور مذاکرات کی میز پر کیوں واپس آگیا۔؟ جب ٹرمپ نے اچانک کہا، "چونکہ ایران نے پھانسیاں منسوخ کر دی ہیں، اس لیے ہم نے فی الحال حملہ کرنے سے گریز کیا ہے،" ایران پر حملہ کرنے کی تمام دھمکیوں، شور شرابے اور اشاروں کے بعد، رہبر انقلاب نے اس گیم کا نہایت ہوشیاری سے جواب دیا۔ ان بیانات کے بعد اپنی پہلی تقریر میں رہبر انقلاب نے واضح طور پر کہا: "ایرانی قوم نے فتنہ کی کمر توڑ دی ہے اور فتنہ گروں کی کمر بھی توڑ دے گی، چاہے وہ ملکی ہوں یا غیر ملکی۔ کسی مجرم کو بخشا نہیں جائے گا۔" اس موقف کا واضح پیغام تھا: ٹرمپ کے ہاتھ خالی ہیں۔ رہبر انقلاب نے بنیادی طور پر اسی رسی کو  کمزور کر دیا،  جسے ٹرمپ نے ایران کو دھمکی دینے کی بھاری قیمت سے بچنے کے لیے پکڑا تھا۔

یہ شروع سے ہی واضح تھا کہ ٹرمپ کا دعویٰ فریب ہے۔ کیونکہ ایران میں عدالتی عمل میں مقدمات کے تمام پہلوؤں کا بغور جائزہ لینے کی وجہ سے وقت لگتا ہے اور کوئی فیصلہ اتنی جلدی جاری نہیں ہوتا اور نہ ہی فوری طور پر اس پر عملدرآمد ہوتا ہے۔ لیکن اس واضح موقف نے ٹرمپ کو باضابطہ طور پر رنگ کے کونے میں ڈال دیا۔ اس تقریر کے بعد ٹرمپ مکمل تعطل کا شکار ہوگیا۔ اس کے پاس نہ تو حملہ کرنے کی صلاحیت تھی، کیونکہ اگر اس کے پاس ہوتی تو حملہ کو منسوخ کرنے کے لیے مضحکہ خیز بہانے بنانے کی ضرورت نہ ہوتی اور نہ ہی اپنے عہدوں سے باوقار پسپائی۔ ٹرمپ نے اس نفسیاتی اور ہائبرڈ جنگ میں شکست کے امکان کا صحیح اندازہ لگائے بغیر اس معاملے کو بےوقار بنا دیا تھا۔

ریاست ہائے متحدہ امریکہ کو ان تمام خطرات، اختراعات اور فضائی حملے کے انتباہات کے لیے ایک کامیابی کی ضرورت تھی۔ ورنہ اس کے پاس سوائے بے عزتی کے کچھ نہیں بچے گا۔ ایک ہی راستہ تھا کہ وہ مذاکرات کے راستے پر واپس آجائے، تاکہ وہ یہ دعویٰ کر سکیں کہ یہ سارا ہنگامہ "بیکار" نہیں تھا۔ ایران نے بھی اپنی شرائط عائد کرکے مذاکرات کرنے پر آمادگی ظاہر کی یعنی پابندیاں ہٹانے کے لیے مذاکرات۔ مذاکرات کا آغاز کیسے ہوا۔ مذاکرات سے پہلے ٹرمپ نے درج ذیل شرائط رکھی: ایران کو اسرائیل کے ساتھ اپنے تعلقات بہتر کرنے چاہئیں۔ امریکہ مذاکرات کے لیے جگہ کا تعین کرے گا اور بات چیت کا موضوع صرف جوہری نہیں ہوگا بلکہ میزائل اور علاقائی مسائل کو زیر بحث لایا جائے گا۔

لیکن ان میں سے کوئی بھی شرط قبول نہیں کی گئی اور امریکہ پسپائی پر مجبور ہوگیا۔ یہ امریکہ کی حقیقت ہے۔ ایک ایسی طاقت جو صرف آرنلڈ اور ہرکیولس کی طرح پوز بناتی ہے، لیکن اس میں حرکت کرنے کی حقیقی طاقت نہیں ہے۔ ٹرمپ کا امریکہ آج شدید دباؤ میں ہے۔ پچھلے ایک سال میں، ٹرمپ نے امریکی عوام کے لیے تقریباً کوئی ٹھوس کامیابی حاصل نہیں کی۔ ٹرمپ کے وعدے یکے بعد ہوا میں تحلیل ہو رہے ہیں۔ یوکرین میں تین روزہ جنگ ختم نہیں ہوئی اور نہ ہی چین کے خلاف محصولات کے نتائج برآمد ہوئے ہیں اور نہ ہی یمن تباہ ہوا ہے نہ ہی گرین لینڈ، منیاپولس اور ہائی پروفائل پروجیکٹس کی مہم جوئی کہیں بھی پہنچی ہے۔

وینزویلا اب بھی مادورو حکومت کے ساتھ کھڑا ہے اور دوسری طرف ایپسٹین کیس کے دباؤ نے ٹرمپ کو پہلے سے زیادہ جکڑ لیا ہے۔ امریکہ آج اپنے کمزور ترین دور سے گزر رہا ہے۔ بلاشبہ، امریکہ ایک چیز میں اچھا ہے اور وہ میڈیا وار، نفسیاتی جنگ، جھوٹی اور جعلی خبروں میں مذکورہ ماندہ اوزار ہیں۔ ایسے ٹولز جو بالآخر ان کے حکام اور میڈیا کو مزید بدنام کرنے کے لیے کام کرتے ہیں۔ تاہم، ہمیں مذاکرات کے حوالے سے نفسیاتی کارروائیوں کی کئی لہروں کی توقع رکھنی چاہیئے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: مذاکرات کے اور نہ ہی ہے اور کے لیے کے بعد

پڑھیں:

ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا

ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا WhatsAppFacebookX 0 23 July, 2026 سب نیوز

نیویارک (آئی پی ایس )امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا۔اپنے سوشل میڈیا اکانٹ پر جاری بیان میں ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ امریکا کے محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان جو سول جوہری معاہدہ طے کیا جا رہا ہے، اس میں کسی بھی قسم کی یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں ہوگی۔

ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ یہ معاہدہ صرف پرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا، بالکل ویسا ہی جیسے ایران، متحدہ عرب امارات اور بعض دیگر ممالک کے پاس موجود سول جوہری پروگرام ہیں۔امریکی صدر نے واضح کیا کہ اس معاہدے کی منظوری دی جائے گی لیکن اس کی ایک بنیادی شرط یہ ہوگی کہ سعودی عرب باعزت، کامیاب اور نہایت قابل احترام معاہدہ ابراہیمی میں شامل ہو۔

ٹرمپ کا مزید کہنا تھا کہ امریکا کو پرامن مقاصد کے لیے قائم کیے جانے والے ایسے سول جوہری مراکز پر کوئی اعتراض نہیں، بشرطیکہ ان میں یورینیم کی افزودگی نہ کی جائے۔اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ سعودی عرب کا معاہدہ ابراہیمی میں شامل ہونا مشرق وسطی میں امن کے لیے ایک تاریخی پیش رفت ثابت ہوگا۔

ایکس پر جاری بیان میں کہا گیا کہ ایران کے خلاف امریکا اور اسرائیل کی مشترکہ فوجی کارروائی اور ایران کے حمایت یافتہ دہشت گرد نیٹ ورک کو اسرائیل کی جانب سے شدید نقصان پہنچانیکے بعد اب امن کے دائرے کو مزید وسیع کرنیکا ایک نیا موقع پیدا ہوگیا ہے۔ تاہم اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر نے امریکا اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے سول جوہری معاہدیکا کوئی ذکر نہیں کیا۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookX پچھلی خبرآزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع اگلی خبرصدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید... صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی جدہ قونصل خانے میں اہم انتظامی تبدیلی، فرینہ ارشد نے ڈپٹی قونصل جنرل کا عہدہ سنبھال لیا TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2026, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہماری ٹیم

متعلقہ مضامین

  • ایرانی اثاثے ضبط کرنے کی ٹرمپ کی دھمکی خطرناک نظیر ہے، عباس عراقچی کا سخت ردعمل
  • امریکا کے ایران پر مسلسل 13ویں شب بھی حملے، ٹرمپ نے مزید بڑی کارروائی کا عندیہ دے دیا، تہران کا سخت ردعمل
  • ایران سے جنگ نے ایک اور مشکل کھڑی کر دی، امریکا کے تیل کے ذخائر 45 سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گئے
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا
  • حملہ ہوا تو خلیج میں امریکہ سے منسلک پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنائیں گے، ایران
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم