data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

کراچی (رپورٹ/ محمد علی فاروق) کراچی میں قانون کی رکھوالی کرنے والے خود قانون شکن بن گئے۔ بولٹن مارکیٹ سے ایک مزدور نوجوان کو اغواء کے انداز میں اٹھانے کا واقعہ ابھی ٹھنڈا بھی نہ ہوا تھا کہ ضلع کورنگی میں پولیس کی مبینہ بھتا خوری اور منشیات کی سرپرستی سے متعلق حساس اداروں کی خفیہ رپورٹ منظرِ عام پر آ گئی جس نے ناصرف پولیس کے سیاہ چہرے کو بے نقاب کیا بلکہ اس خطرناک حقیقت کو بھی عیاں کر دیا کہ شہر کی نوجوان نسل‘ خصوصاً طلبہ و طالبات منظم انداز میں نشے کے دلدل میں دھکیلی جا رہے ہیں۔ خفیہ ایجنسی کی آئی آر کے مطابق تھانہ شاہ فیصل کالونی میں تعینات انٹیلی جنس اہلکار فراز اور ہیڈ کانسٹیبل وقاص پر گٹکا، ماوا اور منشیات کے منظم نیٹ ورک کی سہولت کاری، تحفظ فراہم کرنے اور ہفتہ وار بھتا وصولی کے سنگین الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ علاقے میں قائم متعدد کیبنوں سے فی کیبن 10 ہزار روپے ہفتہ وار وصول کیے جاتے رہے جبکہ غیرقانونی کاروبار پولیس کی مبینہ چھتری تلے بلاخوف و خطر پھلتا پھولتا رہا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ خفیہ رپورٹ میں ممنوع اشیاء کی ترسیل‘ فروخت اور محفوظ نقل و حرکت کے مکمل طریقہ کار کی نشاندہی موجود ہے جس کے تحت تعلیمی اداروں کے اطراف‘ ہاسٹلز‘ کوچنگ سینٹرز اور بس اسٹاپس کے قریب قائم کیبنوں کو ’’سیف پوائنٹس‘‘ کے طور پر استعمال کیا جاتا رہا۔ رپورٹ کے مطابق انہیں مقامات سے نوجوان طلبہ و طالبات کو گٹکا، ماوا اور دیگر نشہ آور اشیاء تک آسان رسائی فراہم کی گئی جس کے نتیجے میں نشے کی لت تیزی سے پھیلتی گئی۔ مزید انکشاف یہ بھی ہے کہ اس پورے نیٹ ورک کے پیچھے صرف نچلے درجے کے جرائم پیشہ عناصر ہی نہیں بلکہ مبینہ طور پر وائٹ کالر بااثر افراد‘ دکانوں کے نام پر کیبن مالکان اور مالی سرپرست بھی شامل ہیں جو پولیس اہلکاروں کے ذریعے ناصرف تحفظ حاصل کرتے رہے بلکہ کریک ڈاؤن کی پیشگی اطلاع پا کر اپنا کاروبار محفوظ بناتے رہے۔ ذرائع کے مطابق انہیں بااثر حلقوں کی سفارشات کے باعث ماضی میں معطل ہونے والے اہلکار دوبارہ تعینات ہوئے جس نے محکمانہ احتساب کو محض فائلوں کی حد تک محدود کر دیا۔ خفیہ رپورٹ میں منشیات و گٹکا نیٹ ورک سے وابستہ متعدد افراد کے نام بھی درج ہیں جن میں ریتہ پلاٹ نمبر 2 کے ریحان عرف بیٹری، کاشف لنگڑا، شاہ فیصل کالونی نمبر 5 کا مظہر پارٹ، ناتھا خان گوٹھ کا ماجد، بریلی کالونی نمبر 5 کا نعمان عرف نومی‘ علی اصغر عرف اچو، دانش، ناتھا خان گوٹھ کے شبیر، عامر پام، چاولہ پل کا نصیر عرف نصیرا، قرۃالعین عرف عینی، عمران عرف پاپا، تیلی پاڑہ کے امجد اور انیس شہزاد شامل ہیں۔ ذرائع کے مطابق انہیں عناصر کا مال متعدد کیبنوں پر فروخت ہوتا رہا اور پورا نیٹ ورک مبینہ طور پر پولیس اور بااثر سرپرستوں کے تحفظ میں سرگرم رہا۔ اسی پس منظر میں بولٹن مارکیٹ سے دکان کے ملازم اویس ولد عبدالرشید کو سی آئی اے صدر کے اہلکاروں کی جانب سے چوری کے جھوٹے الزام میں سرِعام منہ پر کپڑا ڈال کر موٹر سائیکل پر اٹھا لینا محض ایک واقعہ نہیں بلکہ اسی خوف، دباؤ اور طاقت کے ناجائز استعمال پر مبنی نظام کی ایک کڑی قرار دیا جا رہا ہے جہاں ایک طرف منشیات فروش محفوظ ہیں اور دوسری طرف مزدور اور نوجوان آسان ہدف۔ بولٹن مارکیٹ تاجر اتحاد کے چیئرمین شریف میمن کا کہنا ہے کہ پولیس کا یہ رویہ صرف غیرقانونی نہیں بلکہ سماجی تباہی کا راستہ ہموار کر رہا ہے۔ ‘‘جب قانون نافذ کرنے والے خود منشیات مافیا کے سہولت کار بن جائیں تو نوجوان نسل کا مستقبل داو پر لگ جاتا ہے۔ اگر کسی پر الزام تھا تو قانون کے مطابق کارروائی ہونی چاہیے تھی، اغواء کے انداز میں نہیں۔’’ انہوں نے ایڈیشنل آئی جی سندھ سے فوری نوٹس، شفاف انکوائری اور ملوث اہلکاروں و ان کے سرپرست وائٹ کالر عناصر کے خلاف مثال قائم کرنے والی کارروائی کا مطالبہ کیا۔ واضح رہے کہ آئی آر اینٹلی جنس رپورٹ کوپیپر لیس کردیاگیا ہے ذرائع کے مطابق خفیہ ایجنسی کی رپورٹ کا اعلیٰ سطح پر جائزہ لیا جا رہا ہے، تاہم شہری، تعلیمی اور سماجی حلقوں کا کہنا ہے کہ صرف بیانات کافی نہیں۔ مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ واضح ٹائم لائن کے ساتھ نتائج سامنے لائے جائیں، مبینہ کیبنوں، سپلائی چین اور مالی سرپرستوں کے خلاف فوری کریک ڈاؤن ہو، اور اگر الزامات درست ثابت ہوں تو وردی اور سوٹ میں چھپے مافیا کو قانون کے کٹہرے میں لا کر سخت سزا دی جائے—تاکہ نوجوان نسل خصوصاً طلبہ و طالبات کو منشیات اور گٹکا جیسے ناسور سے بچایا جا سکے۔

محمد علی فاروق گلزار.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: کے مطابق نیٹ ورک رہا ہے

پڑھیں:

جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ  کی نوجوان خاتون کے ساتھ نازیبا ویڈیو سامنے آگئی

لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ  کی نوجوان خاتون کے ساتھ  نازیبا ویڈیو سامنے آنے پر تنازعہ کھڑا ہو گیا۔ پہلے تو اس ویڈیو کو فیک اور آرٹیفیشل انٹیلی جنس کی تخلیق  بتایا گیا لیکن جب ویڈیو اصل نکل آئی تو ممتاز سینئیر سیاست دان نے دوسری شادی  کرنے کا دعویٰ کیا۔ خاتون کے غیر شادی شدہ ہونے کی دستاویز نے سیاستدان کو زیادہ مشکل میں ڈال دیا۔  بنگلہ دیش کی پارلیمنٹ کے رکن، جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے سینئیر سیاستدان غازی نذرالاسلام کی   ایک نوجوان خاتون کے ساتھ ویڈیو وائرل ہونے کے بعد ایک کی مبینہ دوسری شادی کے معاملے پر تنازع  ان کے دوسری شادی کا اعتراف کر لینے کے بعد کم نہیں ہوا۔ اب جماعت اسلامی نے اعلان کیا ہے کہ وہ اس سارے معاملہ کی تحقیقات کروا رہی ہے

عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گئی

 بنگلہ دیش کے  میڈیا کے مطابق غازی نذرالاسلام کی سوشل میڈیا پر ایک نوجوان خاتون کے ساتھ ویڈیو وائرل ہو گئی تھی۔ پہلے تو ان کے حامیوں نے اس ویڈیو کو ڈیپ فیک اور آڑٹیفیشل انٹیلیجنس سے بنائی گئی  ویڈیو قرار دیا، لیکن جب  تنقید کرنے والے  خاموش نہیں ہوئے تو بعض لوگوں نے اس ویڈیو کی سافٹ وئیرز کی مدد سے ویریفیکیشن کی۔ فیکٹ چیک کرنے والے ایک  ادارے  نے بتا دیا کہ ویکڈو بالکل اصلی ہے۔  نذر الاسلام کی نوجوان خاتون کے ساتھ  ویڈیو کے مصنوعی ذہانت سے تیار ہونے یا اس میں کوئی تبدیلی کیے جانے کے شواہد نہیں مل۔ اس کے بعد لوگوں کی ساری توجہ ویڈیو   میں شامل افراد اور ان کے باہمی تعلق پر مرکوز ہوگئی۔ جب سوشل میڈیا پر  تنقید کافی برھ گئی تو    جماعت اسلامی کے سینئیر سیاست دان اور رکن پارلیمنٹ نے ویڈیو کلپ میں اپنے ساتھ دکھائی دینے والی نوجوان خاتون کو اپنی بیوی قرار دے دیا۔  غازی نذرالاسلام نے اپنے بیان میں کہا کہ خاتون ان کی دوسری بیوی ہے  اور ان کی شادی 17 جون کو دونوں خاندانوں اور ان کی پہلی بیوی کی رضامندی سے ہوئی تھی۔

چیئرمین یورپی یونین پاک فرینڈشپ فیڈریشن یورپ کی ہیوی انڈسٹریز ٹیکسلا کے چیئرمین سے ملاقات

 نذر الاسلام نے یہ مؤقف اختیار کیا کہ اس وائرل ویڈیو کو خفیہ طور پر ریکارڈ کرکے بھتہ خوری اور سیاسی کردار کشی کےلیے منظرِ عام پر لایا گیا۔ جماعت اسلامی کے اس سینئیر رکنِ پارلیمنٹ کی پہلی بیوی نے اس موقع پر شوہر کا ساتھ دیا اور  ایک ویڈیو بیان میں اپنے عمر رسیدہ  شوہر کے مؤقف کی  تصدیق کی کہ ان کے شوہر نے نوجوان لڑکی مریم بیگم سے دوسری شادی کرلی ہے۔ مریم بیگم نے بھی ایک علیحدہ ویڈیو میں خود کو غازی نذرالاسلام کی بیوی  قرار دیتے ہوئے کہا کہ شادی 17 جون کو دونوں خاندانوں اور نذر الاسلام کی پہلی بیوی کی موجودگی میں ہوئی تھی۔

پی سی بی نے ڈومیسٹک کرکٹ کے نئے سیزن کا شیڈول جاری کر دیا

 بنگلہ دیشی میڈیا  میں سامنے آنے والی رپورٹوں کے مطابق غازی نذرالاسلام اور ان کے خاندان کی تصدیق کے باوجود سوشل میڈیا پر خاتون مریم بیگم  سے متعلق  قانونی دستاویزات منظر عام پر آئی ہیں، جن کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوسکی اور نہ ہی رکن پارلیمنٹ یا خاتون اور ان کے اہلخانہ نے دستاویز ات میں موجود تضاد پر کوئی وضاحت دی ہے۔ شادی کے پانچ دن بعد نذر الاسلام نے بیوی کو کنوارا ظاہر کر کے اسکی سرکاری نوکری کی سفارش کی؟ ایک دستاویز میں نذر السلام کے ساتھ نظز آنے والی لڑکی مریم کی ازدواجی حیثیت ’غیر شادی شدہ‘ درج ہے اور اس دستاویز  پر غازی نذرالاسلام کی جانب سے 22 جون، یعنی اپنی بتائی ہوئی مبینہ شادی  کی تاریخ کے پانچ روز بعد، سرکاری ملازمت کے لیے سفارش بھی موجود دکھائی دیتی ہے۔ 

دہشتگردی کے خاتمے تک فتنۃ الخوارج و فتنۃ الہندوستان کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی، فیلڈ مارشل

 بنگلہ دیش کے میڈیا کے مطابق یہ خاتون سرکاری ملازمت کی خواہاں تھیں اور غازی نذرالاسلام نے ان کی درخواست کی سفارش کی تھی۔  غازی نذرالاسلام نے ان تمام کہانیوں نظر انداز کرتے ہوئے ایک اور پیچیدہ کہانی سے پردہ اٹھا دیا جو  دال میں کافی کچھ کالا ہونے کی نشاندہی کرتی ہے۔ عمر رسیدہ سیاستدان نذر الاسلام نے یہ دعویٰ کیا کہ 13 جولائی کو وہ ڈھاکا کے موگ بازار میں ایک دفتر گئے تھے جہاں ان کی دونوں بیویاں بھی موجود تھیں۔

 نذر الاسلام نے الزام لگایا کہ  ڈرائیور، دوسری  کے ماموں اور چند نامعلوم افراد نے انہیں یرغمال بنا کر ایک لاکھ ٹکا بھتہ وصول کیا،  ان لوگوں نے نذر الاسلام کے بقول مزید رقم کا مطالبہ کیا اور  ان لوگوں نے ہی ان کی مریم کے ساتھ خفیہ طور پر نجی ویڈیو ریکارڈ کرکے بعد میں سوشل میڈیا پر پھیلا دی۔  نذر الاسلام کے اس دعوے میں کمزوری یہ ہے کہ ویڈیو کلپ مین نذر الاسلام کو اس خاتون کے ساتھ اپنے کمرے میں بیٹھے اور بوس و کنار کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔  لوگ یہ سوال کر رہے ہیں کہ بازار کے کسی دفتر  میں یرغمال بنا کر بھتہ لینے والوں کی رسائی ان کے گھر کے کمرے تک کیسے تھی۔  

پاکستان نے کابل فضائی حملوں پر ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ مسترد کر دی

  اس سکینڈل کے سوشل میڈیا اور میڈیا میں بہت زیادہ ڈسکس ہونے کے بعد آخر کار جماعت اسلامی بنگلہ دیش نے کہا ہے کہ وہ اس سارے معاملے کی معلومات اکٹھی کر رہی ہے اور حقائق سامنے آنے کے بعد تنظیم کے اندر تادیبی کارروائی کا فیصلہ کیا جائے گا۔ جماعت اسلامی کے اسسٹنٹ سیکریٹری جنرل احسان الحق محبوب زبیر کے مطابق پارٹی میڈیا رپورٹس، رکنِ پارلیمنٹ، ان کی دونوں بیویوں اور خاتون کے والد کے بیانات کا جائزہ لے رہی ہے۔

مزید :

متعلقہ مضامین

  • سٹی کورٹ: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں تفتیش مکمل کر کے رپورٹ پیش کرنے کا حکم
  • اسکردو: سیلفی بناتے کچورا جھیل میں گرے موبائل کو نکالتے ہوئے نوجوان گر کر جاں بحق
  • مانجھی خیل چیک پوسٹ حملہ، گورنر خیبرپختونخوا نے رپورٹ طلب کر لی
  • کراچی، نوجوان لڑکی کو گھر میں گھس کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا، والد کی مدعیت میں مقدمہ درج
  • رحیم یارخان: لاپتا نوجوان کی لاش گرفتار ایس ایچ او کی نشاندہی پر برآمد
  • 25 جولائی کو گریٹر اقبال پارک میں پیپلز پارٹی کے جلسہ ؛ بلاول بھٹو ویڈیو لنک سے خطاب کریں گے ؛فیصل میر
  • فیصل آباد:حکومت سے مذاکرات ناکام ہونے پر پیٹرول پمپ مالکان کا پمپس بند رکھنے کا اعلان
  • مقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ
  • جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ  کی نوجوان خاتون کے ساتھ نازیبا ویڈیو سامنے آگئی
  • ولیکا اسپتال میں ایچ آئی وی کا ایک اور کیس رپورٹ، 18 ماہ کے بچے میں بیماری کی تصدیق