تھانہ شاہ فیصل کالونی پولیس کی سرپرستی میں جرائم کا کاروبار عروج پر
اشاعت کی تاریخ: 7th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی (رپورٹ/ محمد علی فاروق) کراچی میں قانون کی رکھوالی کرنے والے خود قانون شکن بن گئے۔ بولٹن مارکیٹ سے ایک مزدور نوجوان کو اغواء کے انداز میں اٹھانے کا واقعہ ابھی ٹھنڈا بھی نہ ہوا تھا کہ ضلع کورنگی میں پولیس کی مبینہ بھتا خوری اور منشیات کی سرپرستی سے متعلق حساس اداروں کی خفیہ رپورٹ منظرِ عام پر آ گئی جس نے ناصرف پولیس کے سیاہ چہرے کو بے نقاب کیا بلکہ اس خطرناک حقیقت کو بھی عیاں کر دیا کہ شہر کی نوجوان نسل‘ خصوصاً طلبہ و طالبات منظم انداز میں نشے کے دلدل میں دھکیلی جا رہے ہیں۔ خفیہ ایجنسی کی آئی آر کے مطابق تھانہ شاہ فیصل کالونی میں تعینات انٹیلی جنس اہلکار فراز اور ہیڈ کانسٹیبل وقاص پر گٹکا، ماوا اور منشیات کے منظم نیٹ ورک کی سہولت کاری، تحفظ فراہم کرنے اور ہفتہ وار بھتا وصولی کے سنگین الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ علاقے میں قائم متعدد کیبنوں سے فی کیبن 10 ہزار روپے ہفتہ وار وصول کیے جاتے رہے جبکہ غیرقانونی کاروبار پولیس کی مبینہ چھتری تلے بلاخوف و خطر پھلتا پھولتا رہا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ خفیہ رپورٹ میں ممنوع اشیاء کی ترسیل‘ فروخت اور محفوظ نقل و حرکت کے مکمل طریقہ کار کی نشاندہی موجود ہے جس کے تحت تعلیمی اداروں کے اطراف‘ ہاسٹلز‘ کوچنگ سینٹرز اور بس اسٹاپس کے قریب قائم کیبنوں کو ’’سیف پوائنٹس‘‘ کے طور پر استعمال کیا جاتا رہا۔ رپورٹ کے مطابق انہیں مقامات سے نوجوان طلبہ و طالبات کو گٹکا، ماوا اور دیگر نشہ آور اشیاء تک آسان رسائی فراہم کی گئی جس کے نتیجے میں نشے کی لت تیزی سے پھیلتی گئی۔ مزید انکشاف یہ بھی ہے کہ اس پورے نیٹ ورک کے پیچھے صرف نچلے درجے کے جرائم پیشہ عناصر ہی نہیں بلکہ مبینہ طور پر وائٹ کالر بااثر افراد‘ دکانوں کے نام پر کیبن مالکان اور مالی سرپرست بھی شامل ہیں جو پولیس اہلکاروں کے ذریعے ناصرف تحفظ حاصل کرتے رہے بلکہ کریک ڈاؤن کی پیشگی اطلاع پا کر اپنا کاروبار محفوظ بناتے رہے۔ ذرائع کے مطابق انہیں بااثر حلقوں کی سفارشات کے باعث ماضی میں معطل ہونے والے اہلکار دوبارہ تعینات ہوئے جس نے محکمانہ احتساب کو محض فائلوں کی حد تک محدود کر دیا۔ خفیہ رپورٹ میں منشیات و گٹکا نیٹ ورک سے وابستہ متعدد افراد کے نام بھی درج ہیں جن میں ریتہ پلاٹ نمبر 2 کے ریحان عرف بیٹری، کاشف لنگڑا، شاہ فیصل کالونی نمبر 5 کا مظہر پارٹ، ناتھا خان گوٹھ کا ماجد، بریلی کالونی نمبر 5 کا نعمان عرف نومی‘ علی اصغر عرف اچو، دانش، ناتھا خان گوٹھ کے شبیر، عامر پام، چاولہ پل کا نصیر عرف نصیرا، قرۃالعین عرف عینی، عمران عرف پاپا، تیلی پاڑہ کے امجد اور انیس شہزاد شامل ہیں۔ ذرائع کے مطابق انہیں عناصر کا مال متعدد کیبنوں پر فروخت ہوتا رہا اور پورا نیٹ ورک مبینہ طور پر پولیس اور بااثر سرپرستوں کے تحفظ میں سرگرم رہا۔ اسی پس منظر میں بولٹن مارکیٹ سے دکان کے ملازم اویس ولد عبدالرشید کو سی آئی اے صدر کے اہلکاروں کی جانب سے چوری کے جھوٹے الزام میں سرِعام منہ پر کپڑا ڈال کر موٹر سائیکل پر اٹھا لینا محض ایک واقعہ نہیں بلکہ اسی خوف، دباؤ اور طاقت کے ناجائز استعمال پر مبنی نظام کی ایک کڑی قرار دیا جا رہا ہے جہاں ایک طرف منشیات فروش محفوظ ہیں اور دوسری طرف مزدور اور نوجوان آسان ہدف۔ بولٹن مارکیٹ تاجر اتحاد کے چیئرمین شریف میمن کا کہنا ہے کہ پولیس کا یہ رویہ صرف غیرقانونی نہیں بلکہ سماجی تباہی کا راستہ ہموار کر رہا ہے۔ ‘‘جب قانون نافذ کرنے والے خود منشیات مافیا کے سہولت کار بن جائیں تو نوجوان نسل کا مستقبل داو پر لگ جاتا ہے۔ اگر کسی پر الزام تھا تو قانون کے مطابق کارروائی ہونی چاہیے تھی، اغواء کے انداز میں نہیں۔’’ انہوں نے ایڈیشنل آئی جی سندھ سے فوری نوٹس، شفاف انکوائری اور ملوث اہلکاروں و ان کے سرپرست وائٹ کالر عناصر کے خلاف مثال قائم کرنے والی کارروائی کا مطالبہ کیا۔ واضح رہے کہ آئی آر اینٹلی جنس رپورٹ کوپیپر لیس کردیاگیا ہے ذرائع کے مطابق خفیہ ایجنسی کی رپورٹ کا اعلیٰ سطح پر جائزہ لیا جا رہا ہے، تاہم شہری، تعلیمی اور سماجی حلقوں کا کہنا ہے کہ صرف بیانات کافی نہیں۔ مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ واضح ٹائم لائن کے ساتھ نتائج سامنے لائے جائیں، مبینہ کیبنوں، سپلائی چین اور مالی سرپرستوں کے خلاف فوری کریک ڈاؤن ہو، اور اگر الزامات درست ثابت ہوں تو وردی اور سوٹ میں چھپے مافیا کو قانون کے کٹہرے میں لا کر سخت سزا دی جائے—تاکہ نوجوان نسل خصوصاً طلبہ و طالبات کو منشیات اور گٹکا جیسے ناسور سے بچایا جا سکے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کے مطابق نیٹ ورک رہا ہے
پڑھیں:
غزہ میں غذائی بحران مزید سنگین، 14 لاکھ افراد کے شدید غذائی قلت کا شکار ہونے کا خدشہ
غزہ میں انسانی بحران مزید شدت اختیار کرتا جا رہا ہے اور رواں سال دسمبر تک تقریباً 14 لاکھ افراد کو شدید غذائی قلت کا سامنا ہونے کا خدشہ ہے۔ یہ تعداد اپریل سے جون 2026 کے دوران 12 لاکھ تھی۔ یہ انکشاف انٹیگریٹڈ فوڈ سکیورٹی فیز کلاسیفیکیشن (IPC) کی تازہ رپورٹ میں کیا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق غزہ کی 67 فیصد آبادی شدید غذائی عدم تحفظ کا شکار ہو سکتی ہے، جبکہ 2 لاکھ 12 ہزار افراد غذائی بحران کے انتہائی ہنگامی مرحلے میں زندگی گزار رہے ہیں۔
آئی پی سی کے مطابق گزشتہ سال اکتوبر میں ہونے والی جنگ بندی کے بعد امدادی سرگرمیوں میں اضافے سے حالات میں وقتی بہتری آئی تھی اور مئی کے دوران تقریباً 14 لاکھ 90 ہزار افراد تک غذائی امداد پہنچائی گئی۔ تاہم امداد کی مقدار ضرورت سے کہیں کم ہے، روزگار کے مواقع تقریباً ختم ہو چکے ہیں اور 83 فیصد خاندانوں کے پاس آمدنی کا کوئی مستقل ذریعہ موجود نہیں، جس کے باعث آبادی کی اکثریت مکمل طور پر امدادی سامان پر انحصار کرنے پر مجبور ہے۔
یہ بھی پڑھیے ایمنسٹی انٹرنیشنل کا نیتن یاہو کی گرفتاری کا مطالبہ، آئی سی سی میں مقدمہ چلانے پر زور
رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ اپریل 2027 تک 5 سال سے کم عمر 74 ہزار 200 بچے شدید غذائی قلت کا شکار ہو سکتے ہیں، جن میں 11 ہزار 432 بچوں کی حالت انتہائی تشویشناک ہونے کا خدشہ ہے اور انہیں فوری طبی و غذائی امداد درکار ہوگی۔
رپورٹ کے مطابق اس وقت غزہ میں ہر 5 میں سے صرف ایک بچے کو مناسب خوراک میسر ہے، جبکہ تقریباً نصف خاندانوں کو روزانہ فی فرد 15 لیٹر سے بھی کم پانی دستیاب ہے، جو عالمی انسانی معیار سے کہیں کم ہے۔
اسی طرح 24 ہزار 600 سے زائد حاملہ خواتین اور دودھ پلانے والی مائیں شدید غذائی قلت کا شکار ہیں اور انہیں فوری ہنگامی غذائی امداد کی ضرورت ہے۔
آئی پی سی کے مطابق جاری جنگ کے نتیجے میں غزہ کا بنیادی ڈھانچہ بھی بری طرح تباہ ہو چکا ہے۔ تقریباً 75 فیصد رہائشی مکانات مکمل یا جزوی طور پر تباہ ہو گئے ہیں، 70 فیصد سڑکیں ناقابل استعمال ہو چکی ہیں، 95 فیصد زرعی ڈھانچہ متاثر ہوا ہے، جبکہ 92 فیصد سے زائد کاروباری ادارے تباہ یا بند ہو چکے ہیں۔
رپورٹ میں ورلڈ بینک، یورپی یونین اور اقوام متحدہ کے مشترکہ تخمینے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ 7 اکتوبر 2023 سے جاری اسرائیلی فوجی کارروائیوں کے نتیجے میں غزہ میں 35.2 ارب ڈالر مالیت کا بنیادی ڈھانچہ تباہ ہو چکا ہے، 22.7 ارب ڈالر کا معاشی نقصان ہو چکا ہے، جبکہ غزہ کی بحالی اور تعمیرِ نو کے لیے کم از کم 71.4 ارب ڈالر درکار ہوں گے۔
آئی پی سی نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ غزہ تک انسانی امداد کی بلا رکاوٹ اور مسلسل رسائی یقینی بنائی جائے، غذائیت سے متعلق ہنگامی پروگراموں میں توسیع کی جائے اور مستقل جنگ بندی کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں تاکہ انسانی بحران مزید سنگین نہ ہو۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ جنگ بندی کے باوجود اکتوبر 2025 سے فضائی حملوں، گولہ باری اور ڈرون حملوں کا سلسلہ جاری ہے، جبکہ معاہدے کے بعد بھی 900 سے زائد شہری جان کی بازی ہار چکے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
غذائی قلت غزہ فلسطین