بھارت اور امریکا کے مابین تجارتی معاہدہ طے پاگیا، معاہدے سے سپلائی چین مستحکم ہوگا، نریندر مودی
اشاعت کی تاریخ: 7th, February 2026 GMT
بھارت اور امریکا کے درمیان عارضی تجارتی معاہدے کا فریم ورک طے پا گیا ہے، جس کا اعلان بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے اپنے ٹویٹر پیغام میں کیا۔
مودی نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ملکوں کے درمیان مضبوط تعلقات کے لیے ان کی ذاتی وابستگی قابل ستائش ہے۔
یہ بھی پڑھیے: مودی کی کس غلطی کی وجہ سے بھارت امریکا معاہدہ کھٹائی میں پڑا، امریکی وزیر تجارت نے بتادیا
وزیر اعظم نے بتایا کہ یہ فریم ورک بھارت اور امریکا کی بڑھتی ہوئی اعتماد اور شراکت داری کی عکاسی کرتا ہے۔ اس کے تحت ‘میک ان انڈیا’ پروگرام کو تقویت ملے گی اور بھارت کے کسانوں، کاروباری افراد، چھوٹے و درمیانے کاروبار، اسٹارٹ اپ انوویٹرز اور ماہی گیروں کے لیے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔ اس سے خواتین اور نوجوانوں کے لیے بڑے پیمانے پر روزگار کے مواقع بھی فراہم ہوں گے۔
مودی نے مزید کہا کہ بھارت اور امریکا جدت اور ٹیکنالوجی کے فروغ کے لیے پرعزم ہیں اور یہ فریم ورک سرمایہ کاری اور ٹیکنالوجی شراکت داری کو مزید گہرا کرے گا۔
یہ بھی پڑھیے: امریکی ٹیرف کا دباؤ، بھارت نے لڑکھڑاتی معیشت کو بچانے کے لیے ہاتھ پاؤں مارنا شروع کر دیے
انہوں نے کہا کہ یہ فریم ورک مضبوط اور قابل اعتماد سپلائی چین کو بھی مستحکم کرے گا اور عالمی ترقی میں کردار ادا کرے گا۔ بھارت ترقی یافتہ ملک کی جانب بڑھتے ہوئے عالمی شراکت داریوں کو مستقبل کی ضروریات کے مطابق مضبوط بنانے اور عوام کو بااختیار بنانے کے لیے پرعزم ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
امریکا تجارت معیشت نریندر مودی.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: امریکا بھارت اور امریکا کے لیے
پڑھیں:
سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا
نیوز بریفنگ کے دوران وائٹ ہاؤس کی ترجمان کا کہنا تھا کہ امریکی صدر کی سعودی قیادت سے مجوزہ جوہری معاہدے کی شرائط پر ابھی تک براہِ راست بات نہیں ہوئی، تاہم امریکا سعودی عرب کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھے گا۔ اسلام ٹائمز۔ وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیویٹ نے کہا ہے کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ توانائی اور سول جوہری تعاون کا معاہدہ سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدوں میں شمولیت سے مشروط ہے۔ نیوز بریفنگ کے دوران کیرولین لیویٹ نے بتایا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سعودی قیادت سے مجوزہ جوہری معاہدے کی شرائط پر ابھی تک براہِ راست بات نہیں ہوئی، تاہم امریکا سعودی عرب کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھے گا۔ انہوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ ماضی میں بھی سعودی عرب کے ساتھ مختلف معاہدوں کے حوالے سے بات چیت کر چکے ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ سعودی عرب ابراہیم اکارڈز پر دستخط کرے۔
وائٹ ہاؤس کی ترجمان نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ صدر ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان متوقع ملاقات میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) ٹیکنالوجی کی مبینہ چوری کا معاملہ بھی زیرِ بحث آنے کا امکان ہے۔ کیرولین لیویٹ نے اس بات کا اعادہ کیا کہ امریکا سعودی عرب کے ساتھ توانائی اور سول جوہری تعاون سے متعلق مذاکرات جاری رکھے گا، تاہم کسی بھی حتمی معاہدے کے لیے متعلقہ شرائط پوری ہونا ضروری ہوں گی۔