حکومت کا صنعت کو ریلیف، گھریلو صارفین پر بجلی گرانے کا منصوبہ، تفصیلات سامنے آگئیں
اشاعت کی تاریخ: 7th, February 2026 GMT
وفاقی حکومت نے صنعتی شعبے کو ریلیف دینے کے لیے بجلی کے گھریلو صارفین پر ماہانہ 200 سے 675 روپے تک فکسڈ چارج عائد کرنے کی تجویز دے دی ہے، جس کے ذریعے تقریباً 125 ارب روپے اکٹھے کیے جائیں گے۔ اس رقم سے صنعتی صارفین کو فی یونٹ 4.04 روپے ریلیف فراہم کیا جائے گا۔
نیپرا میں ترمیم شدہ ٹیرف شیڈول جمعانگریزی اخبار ’ڈان‘ کے مطابق پاور ڈویژن نے بجلی کے نظرثانی شدہ شیڈول آف ٹیرف (SoT) جمعے کی شام نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) میں جمع کروا دیا، جس پر فوری نفاذ کے لیے مختصر نوٹس پر عوامی سماعت مقرر کیے جانے کا امکان ہے۔
سرکاری ذرائع کے مطابق یہ سماعت محض رسمی کارروائی ہے کیونکہ حکومتی ہدایات نیپرا پر لازم ہوتی ہیں۔
کن صارفین پر فکسڈ چارج لاگو ہوگا؟پاور ڈویژن کے مطابق فکسڈ چارج کا اطلاق لائف لائن صارفین (جو مستقل طور پر 100 یونٹ سے کم استعمال کرتے ہیں) کے علاوہ تقریباً تمام گھریلو صارفین پر ہوگا۔ اس فیصلے کی منظوری وفاقی کابینہ نے 4 فروری کو دی تھی۔
100 یونٹ سے کم استعمال کرنے والے 99 لاکھ صارفین: 200 روپے ماہانہ
200 یونٹ تک محفوظ صارفین (61 لاکھ): 300 روپے
غیر محفوظ صارفین (100 یونٹ حد عبور کرنے پر): 275 روپے
201 تا 300 یونٹ استعمال کرنے والے: 350 روپے
301 تا 400 یونٹ: 400 روپے
401 تا 500 یونٹ: 500 روپے
501 یونٹ سے زائد (4 لاکھ 10 ہزار صارفین): 675 روپے
125 ارب روپے کی وصولی کا ہدفحکومت کے مطابق اس فیصلے سے 106 ارب روپے ٹیرف اور 19 ارب روپے سیلز ٹیکس کی مد میں حاصل ہوں گے، جس سے صنعتی صارفین پر موجود کراس سبسڈی کم کی جا سکے گی، جبکہ آئی ایم ایف سے طے شدہ سبسڈی اہداف بھی متاثر نہیں ہوں گے۔
حکومت کا مؤقف: نظام کے فکسڈ اخراجاتپاور ڈویژن کا کہنا ہے کہ بجلی کے نظام کے بڑے حصے پر فکسڈ لاگت آتی ہے، جبکہ موجودہ نظام میں وصولی زیادہ تر یونٹس کے استعمال پر مبنی ہے۔
شمسی توانائی کے بڑھتے استعمال اور صارفین کے بدلتے رویے کے باعث یہ ضروری ہو گیا تھا کہ فکسڈ اور متغیر چارجز میں توازن پیدا کیا جائے تاکہ نظام مالی طور پر پائیدار رہ سکے۔
اسی دوران نیپرا نے فروری کے بلوں میں فی یونٹ 1.
یہ بھی پڑھیےبجلی صارفین پر 10 ارب 83 کروڑ روپے کے اضافی بوجھ کی تیاریاں
نیپرا کے مطابق دسمبر 2025 کے لیے 0.2841 روپے فی یونٹ مثبت فیول ایڈجسٹمنٹ وصول کی جائے گی، جو لائف لائن، الیکٹرک وہیکل چارجنگ اسٹیشنز اور پری پیڈ صارفین کے علاوہ تمام پر لاگو ہوگی۔
کاروباری حلقوں کی تنقیدفیصلے پر ٹیکسٹائل انڈسٹری اور فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (FPCCI) سمیت مختلف کاروباری تنظیموں نے تنقید کی ہے۔
بعد ازاں وزیراعظم نے اعلان کیا تھا کہ برآمدی صنعت کے لیے بجلی کی قیمت میں 4.04 روپے فی یونٹ کمی کی جائے گی۔
حکومت نے یہ بھی فیصلہ کیا ہے کہ آئندہ بجلی کے نرخوں کی سالانہ نظرثانی یکم جنوری کو کی جائے گی، بجائے مالی سال کے آغاز (یکم جولائی) کے، تاکہ گرمیوں کے زیادہ استعمال والے مہینوں میں صارفین پر اضافی بوجھ نہ پڑے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: صارفین پر ارب روپے کے مطابق بجلی کے فی یونٹ کے لیے
پڑھیں:
24 جولائی کیلئے بھی ڈیزل اور پیٹرول کی قیمت میں اضافہ کردیا گیا
علامتی فوٹوحکومت نے مسلسل تیسرے روز پیٹرول جبکہ چوتھے روز ڈیزل کی فی لیٹر قیمت میں اضافہ کردیا ہے۔
اس حوالے سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرول کی قیمت میں 4 روپے 40 پیسے فی لیٹر جبکہ ڈیزل کی قیمت میں 3 روپے 62 پیسے فی لیٹر اضافہ کردیا گیا ہے۔
نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرول کی نئی قیمت 327 روپے 12 پیسے فی لیٹر مقرر کردی گئی ہے۔ اسی طرح ڈیزل کی نئی قیمت 378 روپے 66 پیسے فی لیٹر مقرر کی گئی ہے۔
اس میں کہا گیا ہے کہ پیٹرول اور ڈیزل کی نئی قیمتیں 24 جولائی کے لیے ہوں گی۔
خیال رہے کہ حکومت کی جانب سے فیصلہ کیا گیا ہے کہ خطے کی بگڑتی صورتحال کے پیش نظر روزانہ کی بنیاد پر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا تعین کیا جائے گا۔
اوگرا وزیراعظم یا حکومت کی منظوری کے بغیر قیمتوں کا اعلان کرے گا، جبکہ ہفتہ اور اتوار کو گزشتہ اعلان کردہ قیمتیں برقرار رہیں گی۔
یومیہ اعلان کے تحت اب تک کی تبدیلیعلم میں رہے کہ 21 جولائی کےلیے حکومت نے پیٹرول کی فی لیٹر قیمت میں 35 پیسے کمی جبکہ ڈیزل کی قیمت میں 5 روپے 71 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا تھا۔
22 جولائی کیلئے پیٹرول کی قیمت میں 4 روپے 93 پیسے فی لیٹر جبکہ ڈیزل کی قیمت میں 7 روپے 15 پیسے فی لیٹر کا اضافہ کیا گیا تھا۔
اسی طرح 23 جولائی کےلیے حکومت نے پیٹرول کی قیمت میں 6 روپے 39 پیسے فی لیٹر جبکہ ڈیزل کی قیمت میں 7 روپے 83 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا تھا۔