بانی پی ٹی آئی کیخلاف توشہ خانہ کیس سے متعلق فوجداری درخواستیں سماعت کے لیے مقرر
اشاعت کی تاریخ: 7th, February 2026 GMT
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) سابق وزیراعظم پاکستان اور بانی چیئرمین پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان کے خلاف توشہ خانہ کیس سے متعلق فوجداری درخواستیں سماعت کے لیے مقرر کر دی گئیں۔
بانی پی ٹی آئی کے خلاف توشہ خانہ سے متعلق فوجداری درخواست سماعت کے لیے مقرر کر دی گئی۔ چیف جسٹس یحیٰی آفریدی کی سربراہی میں دو رکنی بنچ 9 فروری کو کیس کی سماعت کرے گا۔ جسٹس شاہد بلال حسن بھی 2 رکنی بنچ کا حصہ ہوں گے۔
ٹرائل کورٹ نے بانی پی ٹی آئی کو توشہ کیس میں تین سال قید کی سزا سنائی تھی۔ الیکشن ایکٹ کی دفعات 167 اور 173 کے تحت سزا سنائی گئی تھی۔ بعد ازاں اسلام آباد ہائیکورٹ کی جانب سے یہ سزا معطل کر دی گئی تھی۔
دہشتگردوں کا کوئی مذہب نہیں، نماز جمعہ کے دوران حملہ افسوسناک ہے: عطاتارڑ
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: پی ٹی ا ئی
پڑھیں:
کارگو طیارہ حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ کو کمپنی مالکان سے عدم تعاون کی شکایت
نجی کارگو ایئرلائن کے ٹو ایئرویز کے حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ حادثے کی وجوہات جاننے کے منتظر ہیں۔ انہوں نے نجی کارگو کمپنی کے مالکان کی جانب سے عدم تعاون کی شکایت بھی کی ہے، متاثرین کیلئے اب تک کسی معاوضہ کا اعلان بھی نہیں ہوا۔
7 جولائی کو شارجہ سے کراچی آنے والا نجی کارگو کمپنی کے ٹو ایئرویز کا بوئنگ 737 طیارہ بلوچستان کے ساحل سے آگے گہرے سمندر میں گر کر تباہ ہو گیا تھا۔ حادثے کے مقام سے طیارے کا کچھ ملبہ ضرور ملا ہے لیکن سمندر کی تہہ میں پہنچ جانے والے طیارے کے بلیک باکس، کاکپٹ اور عملے کا تاحال کوئی سراغ نہیں مل سکا۔ متاثرین کا مطالبہ ہے کہ اس کام کیلئے غیر ملکی ماہر کمپنیوں سے مدد لی جائے۔
نجی کارگو طیارے کا ملبا تفتیشی ٹیم کے سپرد، بلیک باکس، عملے کے 5 ارکان کی تلاش جاریترجمان پاکستان ایئرپورٹ اتھارٹی (پی اے اے) کے مطابق کارگو طیارے کے مزید ملبے اور عملےکی تلاش گہرے سمندر میں جاری ہے حادثے کے شکار طیارے کے مزید پرزے اور ملبہ سمندر سے برآمد کر لیا گیا۔
شہید کپٹن رضوان کے اہل خانہ نے عملے اور طیارے کے ملبے کی تلاش کیلئے پاکستان نیوی اور دیگر اداروں پر اعتماد کا اظہار کیا لیکن کارگو کمپنی کی شدید بے حسی کی شکایت کی اور مطالبہ کیا کہ کے ٹو ایئرویز کے بیرون ملک موجود مالکان کو واپس لا کر تحقیقات میں شامل کیا جائے۔
متاثرین کے مطابق کے ٹو ایئرویز کی انتظامیہ کی بے حسی کا اندازہ اس سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ ملازمین کو 3 ماہ سے تنخواہیں نہیں ملی تھیں۔ یہ تنخواہ اس المناک حادثہ کے بعد ادا کی گئی۔
ایوی ایشن ماہرین کے مطابق بوئنگ 737 کارگو طیارے کا حادثہ کیوں اور کیسے پیش آیا، یہ اہل خانہ کو بتانا اور حادثہ متاثرین کو معاوضے کی ادائیگی یقینی بنانا حکومت اور ریاست کی ذمہ داری ہے۔