Jasarat News:
2026-07-24@05:25:43 GMT

دہشت گردی کے خاتمے کا دعویٰ کہاں کھڑا ہے؟

اشاعت کی تاریخ: 8th, February 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

260208-03-2
وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں جمعۃُ المبارک کے مقدس لمحوں میں مسجد و امام بارگاہ خدیجۃُ الکبریٰ کے اندر ہونے والا خودکش دھماکا محض ایک دہشت گردانہ واردات نہیں بلکہ ریاست ِ پاکستان، اس کے نظامِ تحفظ، اس کی داخلی سلامتی کی حکمت ِ عملی اور اس کے اجتماعی ضمیر پر ایک کھلا سوالیہ نشان ہے۔ سجدے میں جھکے ہوئے نمازیوں کو نشانہ بنانا اس بات کا واضح اعلان ہے کہ دہشت گردی کی یہ لہر کسی مخصوص مسلک، علاقے یا طبقے تک محدود نہیں رہی بلکہ اب اس کا ہدف پورا معاشرہ اور ریاستی رِٹ ہے۔ 32 قیمتی جانوں کا ضیاع اور 172 سے زائد افراد کا زخمی ہونا ایک ایسا سانحہ ہے جس نے پورے ملک کو سوگوار کر دیا ہے۔ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب جمعہ کی نماز کی دوسری رکعت میں نمازی سجدے میں تھے۔ عینی شاہدین کے مطابق پہلے فائرنگ کی گئی، پھر سیکورٹی اہلکاروں کے ساتھ جھڑپ ہوئی اور آخرکار خودکش حملہ آور نے مرکزی دروازے پر خود کو دھماکے سے اُڑا لیا۔ یہ حقیقت بذاتِ خود اس امر کی گواہ ہے کہ دہشت گردوں کے عزائم کتنے منظم، سفاک اور انسانیت سوز ہو چکے ہیں۔ دھماکے کی شدت نے نہ صرف مسجد و امام بارگاہ کو لہو میں نہلا دیا بلکہ آس پاس کے گھروں اور گاڑیوں کو بھی نقصان پہنچایا۔ یہ سب کچھ وفاقی دارالحکومت میں ہوا، جہاں سیکورٹی کے غیر معمولی انتظامات کا دعویٰ ہمیشہ کیا جاتا رہا ہے۔ ریاستی اداروں نے فوری طور پر ایمرجنسی نافذ کی، اسپتالوں میں ڈاکٹرز، نرسز اور پیرا میڈیکل اسٹاف کی چھٹیاں منسوخ کی گئیں، نوجوانوں نے بڑی تعداد میں خون کے عطیات دیے، اور قوم نے ایک بار پھر ثابت کیا کہ مشکل کی گھڑی میں وہ متحد ہو جاتی ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا صرف ہنگامی اقدامات، تعزیتی بیانات اور مذمتی قراردادیں کافی ہیں؟ کیا ہر سانحے کے بعد یہی ردِعمل ہمارا مقدر بن چکا ہے؟ حکومتی اور سیکورٹی ذرائع کے مطابق خودکش حملہ آور کی شناخت ہو چکی ہے، اس کا تعلق پشاور سے بتایا گیا ہے، عمر 32 سال ہے اور وہ متعدد بار افغانستان کا سفر کر چکا ہے۔ وزیر مملکت داخلہ نے اس واقعے کو بی ایل اے اور بیرونی قوتوں، بالخصوص بھارت کی اسپانسرڈ دہشت گردی قرار دیا ہے، جبکہ افغانستان میں موجود دہشت گرد گروہوں پر بھی سنگین الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ بلاشبہ پاکستان طویل عرصے سے پراکسی وار کا شکار رہا ہے اور اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ بیرونی ہاتھ اس آگ کو ہوا دے رہے ہیں، مگر اس کے ساتھ ساتھ یہ سوال بھی اپنی جگہ قائم ہے کہ داخلی سطح پر ہماری حکمت ِ عملی کہاں کمزور پڑ رہی ہے؟ یہ امر انتہائی تشویشناک ہے کہ خیبر پختون خوا اور بلوچستان کے بعد اب اسلام آباد بھی دہشت گردی کی لپیٹ میں آ چکا ہے۔ اگر دارالحکومت محفوظ نہیں تو عام شہری کہاں جائے؟ جمعۃُ المبارک جیسے مقدس دن، مسجد اور امام بارگاہ جیسے مقدس مقامات، اور سجدے کی حالت میں موجود نمازی یہ سب اس بات کا ثبوت ہیں کہ دہشت گردی کا مقصد محض جانیں لینا نہیں بلکہ معاشرے میں خوف، بے یقینی اور فرقہ وارانہ نفرت کو فروغ دینا ہے۔ سیاسی قیادت کی جانب سے بیانات کا تانتا بندھ گیا۔ صدرِ مملکت، وزیر ِ اعظم، وزرائے اعلیٰ، اپوزیشن رہنما، سب نے مذمت کی، تعزیت کی اور انصاف کی یقین دہانی کرائی۔ عالمی برادری نے بھی یک زبان ہو کر اس بزدلانہ حملے کی مذمت کی۔ ایران، سعودی عرب، چین، ترکی، یورپی یونین، امریکا اور دیگر ممالک کا ردِعمل اس بات کی علامت ہے کہ دہشت گردی ایک عالمی مسئلہ ہے اور پاکستان اس جنگ میں تنہا نہیں۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا عالمی مذمت اور سفارتی بیانات زمینی حقائق بدل سکتے ہیں؟ مولانا فضل الرحمن نے اس واقعے کو انٹیلی جنس اداروں کی ناکامی قرار دیا، جبکہ بلاول زرداری نے شفاف تحقیقات اور عبادت گاہوں کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات کا مطالبہ کیا۔ امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن نے اسے حکومتی پالیسیوں کی ناکامی اور بیرونی طاقتوں کے ایجنڈے کا نتیجہ قرار دیتے ہوئے قوم کو متحد ہو کر جدوجہد کا پیغام دیا۔ یہ تمام آرا اس بات کی غماز ہیں کہ دہشت گردی کے مسئلے پر قومی اتفاقِ رائے تو موجود ہے، مگر عملی سطح پر یکسوئی اور مستقل پالیسی کا فقدان ہے۔ امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے دہشت گردی واقعہ کو انتہائی افسوسناک قرار دیتے ہوئے قوم کو پیغام دیا ہے کہ متحد ہوکر ملک کو آنے والی نسلوں کے لیے محفوظ بنانے اور مسلط طبقات سے جان چھڑانے کی جدوجہد کرے۔ان کا کہنا تھا اور اصل بات ہی یہ ہے کہ ’’حکومت شہریوں کے جان و مال کے تحفظ میں ناکام نظر آرہی ہے۔ حکومت کا کام صرف مذمت کرنا نہیں بلکہ پالیسی بنا کر دہشت گردی کے اسباب اور ان واقعات کی مستقل روک تھام ہے جس میں وہ ناکام ہے۔ خیبر پختون خوا اور بلوچستان کے بعد اسلام آباد میں بھی دھماکے انتہائی تشویشناک ہیں۔ ہم متاثرہ خاندانوں اور لواحقین سے تعزیت کرتے ہیں اور دکھ و تکلیف کی اس گھڑی میں ان کے ساتھ ہیں‘‘۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہم ہر واقعے کو وقتی بحران سمجھ کر نمٹانے کی کوشش کرتے ہیں، جبکہ دہشت گردی ایک مسلسل جنگ ہے جس کے لیے مستقل، جامع اور غیر مبہم حکمت ِ عملی درکار ہے۔ سرحدی نگرانی، انٹیلی جنس شیئرنگ، نیشنل ایکشن پلان پر مکمل عملدرآمد اور سب سے بڑھ کر سیاسی استحکام، یہ سب وہ عناصر ہیں جن کے بغیر امن کا خواب شرمندۂ تعبیر نہیں ہو سکتا۔ یہ حقیقت اب کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ پاکستان میں دہشت گردی کے خاتمے کے دعوے زمینی حقائق سے مطابقت نہیں رکھتے۔ اگرچہ بعض ادوار میں ریاستی بیانیے کے تحت یہ تاثر دیا جاتا رہا کہ دہشت گردی کی کمر توڑ دی گئی ہے، مگر واقعات کی طویل فہرست اس خوش فہمی کی نفی کرتی ہے۔ 2001 کے بعد پاکستان کو جس جنگ میں دھکیلا گیا، اس کے اثرات آج ایک ربع صدی گزرنے کے باوجود ختم نہیں ہو سکے۔ لال مسجد آپریشن، سوات میں ریاستی رٹ کا چیلنج، پشاور کے آرمی پبلک اسکول کا سانحہ، کوئٹہ میں ہزارہ برادری پر حملے، کراچی میں ٹارگٹ کلنگ، شاہ نورانی، سہراب گوٹھ، داتا دربار، عبداللہ شاہ غازی اور سیہون شریف جیسے مقدس مقامات پر خودکش دھماکے، یہ سب اس بات کا ثبوت ہیں کہ دہشت گردی نے وقت کے ساتھ اپنی شکلیں ضرور بدلی ہیں، مگر ختم نہیں ہوئی۔ ہمیں یہ بھی سوچنا ہوگا کہ نوجوان آخر کیوں دہشت گردی کے جال میں پھنس رہے ہیں؟ غربت، بے روزگاری، ناانصافی، طبقاتی تفریق اور ریاستی کمزوری ایسے عوامل ہیں جن سے فائدہ اٹھا کر دشمن قوتیں اپنے ایجنڈے کو آگے بڑھاتی ہیں۔ جب تک ریاست اپنے شہریوں کو انصاف، روزگار اور تحفظ فراہم نہیں کرے گی، دہشت گردی کے خلاف جنگ ادھوری رہے گی۔ اسلام آباد کا یہ سانحہ ہمیں جھنجھوڑنے کے لیے کافی ہونا چاہیے۔ یہ وقت محض بیانات کا نہیں بلکہ فیصلہ کن اقدامات کا ہے۔ ریاست کو واضح پیغام دینا ہوگا کہ عبادت گاہوں کو نشانہ بنانے والوں کے لیے اس سرزمین پر کوئی جگہ نہیں۔ دہشت گردوں کے سہولت کاروں، مالی نیٹ ورکس اور نظریاتی سرپرستوں کے خلاف بلا امتیاز کارروائی ناگزیر ہے۔ آخر میں، شہداء کے لواحقین کے دکھ کا مداوا صرف انصاف سے ہی ممکن ہے۔ اگر قاتلوں اور منصوبہ سازوں کو واقعی منطقی انجام تک پہنچایا گیا، اگر آئندہ ایسے واقعات کی مؤثر روک تھام کی گئی، اور اگر ریاست نے اپنی ذمے داری پوری کی، تب ہی یہ قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی۔ ورنہ خدشہ ہے کہ ہم ایک اور سانحے کے بعد پھر وہی تعزیتی بیانات، وہی وعدے اور وہی سوالات دہراتے رہیں گے، اور یہ سلسلہ چلتا رہے گا۔

اداریہ سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: دہشت گردی کے کہ دہشت گردی اسلام ا باد نہیں بلکہ یہ ہے کہ کے ساتھ کے بعد اس بات ہیں کہ کے لیے

پڑھیں:

5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں قید کے 3 سال مکمل ہونے پر پارٹی 5 اگست کو احتجاجی پروگرام پر غور کر رہی ہے تاہم پارٹی ذرائع کے مطابق اس حوالے سے مرکزی قیادت کے اندر ابھی تک مکمل اتفاق رائے نہیں ہو سکا جس کے باعث حتمی احتجاجی کال جاری نہیں کی گئی۔

یہ بھی پڑھیں: 5 اگست کے احتجاج پر پی ٹی آئی کی واضح حکمت عملی اب تک سامنے نہ آسکی

پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان اڈیالہ جیل کے باہر بھرپور احتجاج کی حامی ہیں۔ ان کے مؤقف کے مطابق پارٹی کے ارکان قومی و صوبائی اسمبلی، سینیٹرز اور کارکنوں کو جیل کے باہر جمع ہونا چاہیے تاکہ عمران خان کی قید کے خلاف مؤثر پیغام دیا جا سکے۔

دوسری جانب ذرائع کے مطابق پارٹی کے بعض سینیئر رہنما، جن میں چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان بھی شامل ہیں، لاہور میں احتجاج یا کسی متبادل پروگرام کے حق میں دکھائی دیتے ہیں۔

بڑی احتجاجی کال پر تحفظات

پارٹی ذرائع کے مطابق متعدد ارکان قومی و صوبائی اسمبلی نے قیادت کو آگاہ کیا ہے کہ مہنگائی، مقدمات کے خدشات اور مسلسل احتجاجی سرگرمیوں کے باعث عوام پہلے جیسی تعداد میں سڑکوں پر آنے کے لیے تیار نہیں۔

ذرائع کے مطابق بعض رہنماؤں کی رائے ہے کہ ہر رکن اپنے اپنے حلقے میں علامتی یا ٹوکن احتجاج کرے اور عوام کو یہ پیغام دے کہ عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل ہو گئے ہیں۔

مزید پڑھیے: اڈیالہ جیل کے باہر ہنگامہ آرائی، پی ٹی آئی میں انتشار کھل کر سامنے آگیا، جماعت کے سیاسی کلچر پر سنگین سوالات

پارٹی کے ایک حلقے کی جانب سے یہ تجویز بھی سامنے آئی ہے کہ 5 اگست کو کسی بڑے احتجاجی پروگرام سے گریز کیا جائے تاکہ کارکنوں اور رہنماؤں کو مزید گرفتاریوں اور مقدمات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

ذرائع کے مطابق ابھی تک یہ طے نہیں ہو سکا کہ احتجاج، ریلی، جلسہ یا کسی اور شکل میں ہوگا۔ علیمہ خان کی اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کی تجویز پر بھی پارٹی کے بیشتر رہنما متفق نہیں جبکہ متعدد رہنما محدود یا علامتی احتجاج کے حق میں ہیں۔

9 مئی کے بعد بڑا احتجاج منظم نہ ہو سکا

پارٹی ذرائع کے مطابق 9 مئی 2023 کے واقعات کے بعد پی ٹی آئی بڑے پیمانے پر کوئی کامیاب احتجاجی تحریک منظم نہیں کر سکی۔

26 نومبر کو خیبر پختونخوا کے سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور اور بشریٰ بی بی کی قیادت میں عمران خان کی رہائی کے لیے اسلام آباد کی جانب مارچ کیا گیا تاہم یہ احتجاج کسی واضح نتیجے کے بغیر ختم ہو گیا۔

مزید پڑھیں: پی ٹی آئی کا علیمہ خان اور بشریٰ بی بی کو ایکسپوز کرنے کا فیصلہ، اقبال آفریدی سے عہدہ واپس

اس احتجاج کے بعد پارٹی کے متعدد کارکنوں اور رہنماؤں کی گرفتاریاں ہوئیں جس کے بعد پارٹی کسی بڑے احتجاجی منصوبے کا اعلان نہیں کر سکی۔ اس دوران مختلف مواقع پر ریلیاں اور مظاہرے بھی کیے گئے تاہم حکومتی اقدامات اور دیگر عوامل کے باعث وہ مطلوبہ نتائج حاصل نہ کر سکے۔

عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل

عمران خان 5 اگست 2023 سے اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔ اس عرصے کے دوران ان کے خلاف متعدد مقدمات درج کیے گئے جنہیں پاکستان تحریک انصاف سیاسی انتقام قرار دیتی ہے۔

پارٹی کی جانب سے مختلف مواقع پر عمران خان کی صحت، خصوصاً آنکھوں کے مسائل، اہلخانہ اور وکلا سے ملاقاتوں میں مبینہ رکاوٹوں اور عدالتی احکامات پر عمل درآمد سے متعلق تحفظات کا اظہار بھی کیا جاتا رہا ہے۔

5 اگست کی روایت برقرار رہے گی؟

گزشتہ برسوں میں پاکستان تحریک انصاف 5 اگست کو مختلف شہروں میں احتجاج، ریلیوں اور پرامن مظاہروں کے ذریعے عمران خان کی رہائی کے مطالبات اٹھاتی رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیے: خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی کے بڑھتے اندرونی اختلافات سے پشاور کے عوام پریشان

ذرائع کے مطابق اس سال بھی ضلعی سطح پر مشاورت اور تیاریاں جاری ہیں تاہم مرکزی قیادت کی جانب سے ملک گیر احتجاج یا کسی بڑے پروگرام کے بارے میں حتمی فیصلہ ابھی سامنے نہیں آیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اڈیالہ جیل بشریٰ بی بی پاکستان تحریک انصاف پی ٹی آئی پی ٹی آئی کا 5 اگست کو احتجاج علی امین گنڈاپور عمران خان کے قید میں 3 برس

متعلقہ مضامین

  • سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • آج کہاں کہاں بادل برسیں گے ،محکمہ موسمیات نے بڑی پیشگوئی کردی
  • 5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • نتیجہ خیز آپریشن شعبان!
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • اہم ٹیلیفونک رابطہ، پاکستان سعودی عرب کے ساتھ کھڑا، سہیل آفریدی پر الزام، مریم نواز اور بلاول کے ایک دوسرے پر تابڑ توڑ حملے
  • سیکیورٹی فورسز کی مستونگ میں کارروائی کے دوران فتنہ الہندوستان کے 6 دہشت گرد ہلاک
  • دہشتگردی کے خاتمے تک فتنۃ الخوارج و فتنۃ الہندوستان کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی، فیلڈ مارشل
  • فیلڈ مارشل کا بلوچستان میں دہشت گردی کو پوری طاقت سے کچلنے کے عزم کا اظہار