Jasarat News:
2026-07-24@04:19:42 GMT

سانحہ اسلام آباد

اشاعت کی تاریخ: 8th, February 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

بھارت نے پاکستان سے ذلت آمیز شکست کے بعد اب تک اپنی اس شکست کو دل سے تسلیم نہیں کیا اور وہ مستقل اپنی پراکسی کے ذریعے پاکستان کی سالمیت پر حملہ آوور ہے اور پاکستان میں دہشت گردی کو فروغ دے رہا ہے۔ خیبر پختون خوا اور بلوچستان کے بعد وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے مضافاتی علاقے ترلائی میں موجود مسجد وامام بارگاہ خدیجہ الکبری میں نماز جمعہ کے دوران جب نمازی حضرات سجدے کی حالت میں تھے ایک سفاک، ظالم خودکش دہشت گرد نے مذہبی آہنگی اور ملک کی سالمیت کو نقصان پہنچانے کے لیے حملہ کیا جو کہ اسلامی تعلیمات کی صریح خلاف ورزی اور ملک کے استحکام پر براہ راست حملہ اور سنگین جرم کے مترادف ہے۔ اس دہشت گردی کے ذریعے دشمن ملک امن اور قومی وحدت کو پارہ پارہ کرنا چاہتا ہے۔ یہ سانحہ کھلی دہشت گردی ہے اس کا دین سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ سابقہ حکمرانوں کی طرح موجودہ حکمراں پاکستان کے شہریوں کی جان ومال کو محفوظ بنانے میں ناکام ہوگئے ہیں۔

اسلام آباد کی مسجد میں ہونے والے اس دھماکے میں اب تک 34 انسانی جانوں کا نقصان ہوا اور 170 کے قریب نمازی شدید زخمی ہیں اس دھماکے میں ہر لحاظ سے بھارت ہی ملوث ہے۔ بھارت نے پاکستان میں دہشت گردوں میں تین گنا انویسمنٹ بڑھا دی ہے۔ بھارت پاکستان سے ہونے والی جنگ میں عبرت ناک، ذلت آمیز شکست کے بعد پراکسیوں کے ذریعے جنگ لڑ رہا ہے۔ بھارت کی براہ راست جنگ لڑنے کی ہمت نہیں ہے۔ سانحہ اسلام آباد میں ملوث دہشت گردوں کے تانے بانے بھارت اور افغانستان سے جا کر ملتے ہیں۔ جنرل پرویز مشرف نے اپنے دور حکومت میں نام ونہاد دہشت گردی کی جنگ کے خلاف پاکستان کو زبردستی اس جنگ میں دھکیلا جس کی سزا پاکستان آج تک بھگت رہا ہے۔

پاکستان کے سیکورٹی ادارے صرف حکمرانوں کی سیکورٹی اور ان کی حفاظت کے لیے مامور ہیں، انہیں عوام کے تحفظ کی کوئی فکر نہیں ہے۔ اسلام آباد کے افسوسناک سانحہ سے یہ بات ثابت ہوگئی ہے کہ دہشت گردوں نے اپنی آخری حدود کو چھو لیا ہے۔ حکومتی ذرائع کے مطابق اسلام آباد کی مسجد پر خودکش بمبارنے افغانستان سے دہشت گردی کی کارروائیوں کی تربیت حاصل کی اور ریکارڈ کے مطابق اس کا نام یاسر ہے اور وہ نوشہرہ کا رہائشی ہے۔ وہ متعدد مرتبہ افغانستان کا سفر بھی کر چکا ہے۔ افغانستان بردار ملک ہونے کے ساتھ ساتھ ایک اسلامی ملک بھی ہے۔ پاکستان کے افغانستان پر بڑے احسانات ہیں۔ لاکھوں افغانیوں کو چالیس سال تک پاکستان نے پناہ فراہم کی اور افغانیوں کو پاکستان میںکھل کر تجارت سمیت ہر کام کی بھرپور آزادی حاصل تھی لیکن ان سب کے باوجود افغانستان کی موجودہ حکومت پاکستان کے دشمن نمبر ایک بھارت کے ساتھ مل کر پاکستان میں دہشت گردی کی کارروائیوں میں پوری طرح ملوث ہے اور بے گناہ شہریوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے جو کہ انسانیت کے خلاف جرم ہے۔ افغانستان کو اپنی سرزمین دہشت گردی کے نیٹ ورک کو فراہم نہیں کرنا چاہیے۔ اسلام آباد کی مسجد میں دہشت گردی میں ملوث دہشت گرد اور اس کے سہولت کار دین اور وطن کے دشمن ہیں۔ اس سے قبل مسیحی برادری کی عبادت گاہ پر بھی دہشت گردوں نے حملہ کرکے ملک میں عدم استحکام پیدا کرنے کی کوشش کی تھی اور اب ایک اور سانحہ رونما ہوا ہے جو کہ قومی سلامتی کے اداروں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ سانحہ اسلام آباد میں ملوث دہشت گردوں کے خلاف آہنی ہاتھ استعمال کرے۔

رمضان المبارک کی آمد آمد ہے اور اس موقع پر اس طرح کا اندوہناک سانحہ رونما ہونا ملک میں خوف اور دہشت کی فضا قائم کرنے کی سازش ہے۔ دہشت گردوں نے بے گناہ انسانوں کے خون سے ہولی کھیلی ہے اور قومی وحدت کو پارہ پارہ کیا ہے جو کہ اسلامی تعلیمات کے بھی منافی ہے۔ پاکستان کی قوم دہشت گردی کے ہر عمل کے خلاف متحد اور پرعزم ہیں اور یہ دہشت گردی ایک سنگین ناقابل معافی جرم ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ اس دہشت گردی ملوث اور اس کے منصوبہ سازوں اور سہولت کاروں کو بھی قانون کے کٹہرے میں لائے۔ عبادت گاہوں کے تقدس اور تحفظ فراہم کرنا حکومت کی ذمے داری ہے حکومت ہر ایک کی عبادت گاہوں کے تحفظ کو یقینی بنانے اور قوم کو فرقہ واریت کی آگ سے بچانے کے لیے عملی اقدامات کرے۔ حکومت مذہبی رواداری کے فروغ کے لیے علماء کرام کے ساتھ مل کر اقدامات کرے اور ملک دشمن قوتوں کی ہر سازش کو ناکام بنا دیا جائے۔ پنجاب حکومت کی جانب سے اس سانحہ پر بسنت کے حوالے سے تمام پروگرام منسوخ کردیے گئے جو کہ خوش آئند بات ہے۔ ایسے موقع پرجب ملک وقوم غم میں ڈوبے ہوئے ہیں۔ 34 سے زائد گھرانوں میں صفت ماتم بچھا ہوا ہے ایسے ماحول میں گل غپاڑہ، ناچ گانے، بھنگڑوں کا انعقادکسی بھی قیمت پر برداشت نہیں کیا جاسکتا تھا اور یہ واہیات شہداء کے لواحقین کے زخموں پر نمک پاشی کے مترادف ہوگا۔

قاسم جمال سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: پاکستان میں اسلام ا باد پاکستان کے کے خلاف ہے اور کے لیے رہا ہے

پڑھیں:

آزاد کشمیر میں ڈیڑھ ماہ بعد انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع

فائل فوٹو 

آزاد کشمیر میں ڈیڑھ ماہ بعد انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع ہوگئی، میرپور ڈویژن میں انٹرنیٹ سروس جزوی طور پر بحال ہوئی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ وفاقی حکومت کی ہدایت پر پی ٹی اے نے انٹرنیٹ سروس کی بحالی کا عمل شروع کیا، آزاد کشمیر میں 5 جون سے انٹرنیٹ سروس معطل تھی۔

آزاد کشمیر میں امن و امان کی صورتحال کے باعث انٹرنیٹ سروس بند کی گئی تھی، چئیرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے حکومت سے انٹرنیٹ بحال کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔

متعلقہ مضامین

  • سرکاری ملازمین کی تنخواہوں کے بعد پنشن میں بھی اضافہ
  • آج کہاں کہاں بادل برسیں گے ،محکمہ موسمیات نے بڑی پیشگوئی کردی
  • نتیجہ خیز آپریشن شعبان!
  • خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، پنجاب اور کشمیر میں تیز بارشوں کی پیشگوئی، لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • اسلام آباد، بلاول بھٹو سے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کی ملاقات
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • سیکیورٹی فورسز کی مستونگ میں کارروائی کے دوران فتنہ الہندوستان کے 6 دہشت گرد ہلاک
  • فیلڈ مارشل کا بلوچستان میں دہشت گردی کو پوری طاقت سے کچلنے کے عزم کا اظہار
  • آزاد کشمیر میں ڈیڑھ ماہ بعد انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع