data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
بھارت نے پاکستان سے ذلت آمیز شکست کے بعد اب تک اپنی اس شکست کو دل سے تسلیم نہیں کیا اور وہ مستقل اپنی پراکسی کے ذریعے پاکستان کی سالمیت پر حملہ آوور ہے اور پاکستان میں دہشت گردی کو فروغ دے رہا ہے۔ خیبر پختون خوا اور بلوچستان کے بعد وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے مضافاتی علاقے ترلائی میں موجود مسجد وامام بارگاہ خدیجہ الکبری میں نماز جمعہ کے دوران جب نمازی حضرات سجدے کی حالت میں تھے ایک سفاک، ظالم خودکش دہشت گرد نے مذہبی آہنگی اور ملک کی سالمیت کو نقصان پہنچانے کے لیے حملہ کیا جو کہ اسلامی تعلیمات کی صریح خلاف ورزی اور ملک کے استحکام پر براہ راست حملہ اور سنگین جرم کے مترادف ہے۔ اس دہشت گردی کے ذریعے دشمن ملک امن اور قومی وحدت کو پارہ پارہ کرنا چاہتا ہے۔ یہ سانحہ کھلی دہشت گردی ہے اس کا دین سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ سابقہ حکمرانوں کی طرح موجودہ حکمراں پاکستان کے شہریوں کی جان ومال کو محفوظ بنانے میں ناکام ہوگئے ہیں۔
اسلام آباد کی مسجد میں ہونے والے اس دھماکے میں اب تک 34 انسانی جانوں کا نقصان ہوا اور 170 کے قریب نمازی شدید زخمی ہیں اس دھماکے میں ہر لحاظ سے بھارت ہی ملوث ہے۔ بھارت نے پاکستان میں دہشت گردوں میں تین گنا انویسمنٹ بڑھا دی ہے۔ بھارت پاکستان سے ہونے والی جنگ میں عبرت ناک، ذلت آمیز شکست کے بعد پراکسیوں کے ذریعے جنگ لڑ رہا ہے۔ بھارت کی براہ راست جنگ لڑنے کی ہمت نہیں ہے۔ سانحہ اسلام آباد میں ملوث دہشت گردوں کے تانے بانے بھارت اور افغانستان سے جا کر ملتے ہیں۔ جنرل پرویز مشرف نے اپنے دور حکومت میں نام ونہاد دہشت گردی کی جنگ کے خلاف پاکستان کو زبردستی اس جنگ میں دھکیلا جس کی سزا پاکستان آج تک بھگت رہا ہے۔
پاکستان کے سیکورٹی ادارے صرف حکمرانوں کی سیکورٹی اور ان کی حفاظت کے لیے مامور ہیں، انہیں عوام کے تحفظ کی کوئی فکر نہیں ہے۔ اسلام آباد کے افسوسناک سانحہ سے یہ بات ثابت ہوگئی ہے کہ دہشت گردوں نے اپنی آخری حدود کو چھو لیا ہے۔ حکومتی ذرائع کے مطابق اسلام آباد کی مسجد پر خودکش بمبارنے افغانستان سے دہشت گردی کی کارروائیوں کی تربیت حاصل کی اور ریکارڈ کے مطابق اس کا نام یاسر ہے اور وہ نوشہرہ کا رہائشی ہے۔ وہ متعدد مرتبہ افغانستان کا سفر بھی کر چکا ہے۔ افغانستان بردار ملک ہونے کے ساتھ ساتھ ایک اسلامی ملک بھی ہے۔ پاکستان کے افغانستان پر بڑے احسانات ہیں۔ لاکھوں افغانیوں کو چالیس سال تک پاکستان نے پناہ فراہم کی اور افغانیوں کو پاکستان میںکھل کر تجارت سمیت ہر کام کی بھرپور آزادی حاصل تھی لیکن ان سب کے باوجود افغانستان کی موجودہ حکومت پاکستان کے دشمن نمبر ایک بھارت کے ساتھ مل کر پاکستان میں دہشت گردی کی کارروائیوں میں پوری طرح ملوث ہے اور بے گناہ شہریوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے جو کہ انسانیت کے خلاف جرم ہے۔ افغانستان کو اپنی سرزمین دہشت گردی کے نیٹ ورک کو فراہم نہیں کرنا چاہیے۔ اسلام آباد کی مسجد میں دہشت گردی میں ملوث دہشت گرد اور اس کے سہولت کار دین اور وطن کے دشمن ہیں۔ اس سے قبل مسیحی برادری کی عبادت گاہ پر بھی دہشت گردوں نے حملہ کرکے ملک میں عدم استحکام پیدا کرنے کی کوشش کی تھی اور اب ایک اور سانحہ رونما ہوا ہے جو کہ قومی سلامتی کے اداروں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ سانحہ اسلام آباد میں ملوث دہشت گردوں کے خلاف آہنی ہاتھ استعمال کرے۔
رمضان المبارک کی آمد آمد ہے اور اس موقع پر اس طرح کا اندوہناک سانحہ رونما ہونا ملک میں خوف اور دہشت کی فضا قائم کرنے کی سازش ہے۔ دہشت گردوں نے بے گناہ انسانوں کے خون سے ہولی کھیلی ہے اور قومی وحدت کو پارہ پارہ کیا ہے جو کہ اسلامی تعلیمات کے بھی منافی ہے۔ پاکستان کی قوم دہشت گردی کے ہر عمل کے خلاف متحد اور پرعزم ہیں اور یہ دہشت گردی ایک سنگین ناقابل معافی جرم ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ اس دہشت گردی ملوث اور اس کے منصوبہ سازوں اور سہولت کاروں کو بھی قانون کے کٹہرے میں لائے۔ عبادت گاہوں کے تقدس اور تحفظ فراہم کرنا حکومت کی ذمے داری ہے حکومت ہر ایک کی عبادت گاہوں کے تحفظ کو یقینی بنانے اور قوم کو فرقہ واریت کی آگ سے بچانے کے لیے عملی اقدامات کرے۔ حکومت مذہبی رواداری کے فروغ کے لیے علماء کرام کے ساتھ مل کر اقدامات کرے اور ملک دشمن قوتوں کی ہر سازش کو ناکام بنا دیا جائے۔ پنجاب حکومت کی جانب سے اس سانحہ پر بسنت کے حوالے سے تمام پروگرام منسوخ کردیے گئے جو کہ خوش آئند بات ہے۔ ایسے موقع پرجب ملک وقوم غم میں ڈوبے ہوئے ہیں۔ 34 سے زائد گھرانوں میں صفت ماتم بچھا ہوا ہے ایسے ماحول میں گل غپاڑہ، ناچ گانے، بھنگڑوں کا انعقادکسی بھی قیمت پر برداشت نہیں کیا جاسکتا تھا اور یہ واہیات شہداء کے لواحقین کے زخموں پر نمک پاشی کے مترادف ہوگا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: پاکستان میں اسلام ا باد پاکستان کے کے خلاف ہے اور کے لیے رہا ہے
پڑھیں:
آپریشن العزم: سیکیورٹی فورسز کی مستونگ میں کامیاب کارروائی، 4 دہشتگرد جہنم واصل
سیکیورٹی فورسز نے آپریشن العزم کے تحت مستونگ میں کامیاب کارروائی کرتے ہوئے 4 دہشت گرد جہنم واصل کردیے۔
ذرائع کے مطابق سیکیورٹی فورسز کی آپریشن العزم کے تحت بلوچستان میں دہشت گردی کیخلاف بھرپور اور مؤثر انٹیلی جنس بیسڈ کارروائیاں جاری ہیں۔ اس سلسلے میں بلوچستان میں مستونگ کےعلاقے کھڈ کوچہ میں کامیاب کارروائی کے دوران فتنۃ الہندوستان کے 4 دہشت گرد جہنم واصل کردیے گئے۔
کامیاب آپریشن کے دوران ہلاک دہشت گردوں سے بھاری مقدار میں اسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمد ہوا ہے۔ سیکیورٹی فورسز نے دہشت گردوں کے زیرِ استعمال موٹر سائیکلوں کو بھی ضبط کر لیا۔
بلوچستان آپریشن العزم: مستونگ میں بڑی کامیابی سیکیورٹی فورسز کی کارروائی میں 4 دہشت گرد ہلاکسیکیورٹی فورسز کی مؤثر کارروائی میں فتنۃ الہندوستان کے متعدد دہشت گردوں کے زخمی ہونے کی بھی مصدقہ اطلاعات ہیں جب کہ سیکیورٹی فورسز کی کارروائی کے دوران دہشتگردوں کی سہولت کاری میں ملوث متعدد مشتبہ افراد کو گرفتار بھی کیا گیا ہے۔
آپریشن کے دوران علاقے میں سرچ اور کلیئرنس کارروائیاں جاری ہیں جب کہ سیکیورٹی فورسز کی جانب سے مکمل نگرانی بھی برقرار ہے۔ حالیہ دنوں میں مستونگ کےعلاقہ کھڈ کوچہ میں دہشتگردوں کی مذموم کارروائیوں کے بعد سیکیورٹی فورسز کی جانب سے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن تیز کر دیے گئے ہیں۔
سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ دہشت گردی کے خاتمے اور خطے میں امن و امان کے قیام تک سیکیورٹی فورسز کی کاروائیاں مسلسل جاری رہیں گی۔