پاکستان اور ملائیشیا کی بحریہ کے درمیان مستقبل پر مبنی تعاون پر اتفاق
اشاعت کی تاریخ: 8th, February 2026 GMT
راولپنڈی(ڈیلی پاکستان آن لائن)پاک بحریہ کے سربراہ ایڈمرل نوید اشرف نے ملائیشیا کا سرکاری دورہ کیا جہاں پاکستان اور ملائیشیا کی بحریہ کے درمیان مستقبل پر مبنی تعاون پر اتفاق کیا گیا۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق امیر البحر ایڈمرل نوید اشرف نے رائل ملائیشین نیوی کی قیادت سے ملاقات کی، رائل ملائیشین نیوی ہیڈکوارٹرز پہنچنے پر انہیں گارڈ آف آنر پیش کیا گیا، بحری سکیورٹی، آپریشنل تعاون اور صلاحیت سازی پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
ایڈمرل نوید اشرف نے پاکستان نیوی کی علاقائی استحکام میں خدمات اجاگر کیں، پاک بحریہ کی ریجنل میری ٹائم سکیورٹی پٹرولز اور کمبائنڈ میری ٹائم فورسز میں شرکت پر آگاہی دی گئی۔
اسپین: سمندری طوفان نے تباہی مچا دی، ایک شہری ہلاک، 11 ہزار بے گھر
نیول چیف نے ملائیشیا کے نیشنل ہائیڈروگرافک سینٹر کا دورہ بھی کیا جہاں تربیت اور ڈیٹا کے تبادلے پر زور دیا گیا، اس موقع پر دونوں ملکوں کی بحریہ کے درمیان مستقبل پر مبنی تعاون پر اتفاق کیا گیا۔
آئی ایس پی آر کے مطابق دوطرفہ بحری تعلقات کو مزید مستحکم بنایا جائے گا، اس دورہ کے دوران سمندری سکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مشترکہ حکمتِ عملی پر تفصیلی تبادلہ خیال بھی کیا گیا۔
یہ دورہ پاکستان اور ملائیشیا کے درمیان دیرینہ بحری شراکت داری، باہمی اعتماد اور مستقبل میں بحری تعاون کے عزم کا مظہر ہے۔
27ویں آئینی ترمیم کے بعد عوامی مفاد کی پہلی درخواست آئینی عدالت میں دائر
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: کے درمیان پاکستان ا بحریہ کے کیا گیا
پڑھیں:
علماء کا سرویکل کینسر سے بچاؤ کی مہم میں محکمہ صحت کے ساتھ تعاون کا اعلان
پشاور (بیورو رپورٹ) خیبر پی کے کے علماء کرام نے سرویکل کینسر سے بچاؤ کی مہم میں محکمہ صحت کے ساتھ بھرپور تعاون کا اعلان کر دیا۔ اس ضمن میں محکمہ صحت خیبر پی کے نے یونیسیف کے تعاون سے متحدہ علماء بورڈ خیبر پی کے اور تنظیمات المدارس خیبر پی کے کے اشتراک سے سرویکل کینسر سے بچاؤ کے موضوع پر ایک اہم مشاورتی ورکشاپ کا انعقاد کیا۔ ورکشاپ میں مختلف مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے ممتاز علماء کرام نے شرکت کی۔ ورکشاپ کا مقصد علماء کرام اور محکمہ صحت کے درمیان اعتماد، تعاون اور مشترکہ کوششوں کو فروغ دینا تھا تاکہ خواتین اور بچیوں کو سروائیکل کینسر سے محفوظ رکھنے کے لیے مؤثر آگاہی پیدا کی جا سکے۔ اجلاس کے دوران علماء کرام نے اس اقدام کو سراہا اور کئی اہم سفارشات پیش کیں۔ انہوں نے ویکسین کے اجزاء، حفاظت اور تیاری کے بارے میں واضح معلومات فراہم کرنے، سوشل میڈیا، ٹی وی، ریڈیو، جمعہ کے خطبات، بل بورڈز، ہسپتالوں اور دیگر ذرائع سے بھرپور آگاہی مہم چلانے، علماء اور ماہر ڈاکٹروں کی مشاورت سے مشترکہ فتویٰ جاری کرنے، کینسر کے ماہرین اور علماء کے درمیان مسلسل رابطہ رکھنے، تمام مکاتب فکر کو ساتھ لے کر چلنے، بچیوں کی رازداری اور پردے کا مکمل خیال رکھنے اور محکمہ صحت کی قیادت میں آگاہی مہم کو آگے بڑھانے پر زور دیا۔