14 فروری کو سندھ اسمبلی کے باہر بہر صورت دھرنا دیا جائے گا ٗ جماعت اسلامی کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 9th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260209-01-21
کراچی (اسٹاف رپورٹر)قائم مقام امیر جماعت اسلامی کراچی مسلم پرویز نے رکن سندھ اسمبلی محمد فاروق ودیگر ذمے داران کے ساتھ ادارہ نورِ حق میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سندھ حکومت مسلسل دستور و قانون کی خلاف ورزی کررہی ہے۔ آئینِ پاکستان ہمیں یہ اجازت دیتا ہے کہ ہم ہر جگہ اپنی رائے کا پرامن اور جمہوری انداز میں اظہار کرسکتے ہیں۔آج جماعت اسلامی آئین و دستور کے مطابق پریس کے سامنے اپنی رائے کا اظہار کررہی تھی، مگر پیپلز پارٹی کی سندھ حکومت نے فسطائیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے جماعت اسلامی کے کارکنان کو گرفتار کیا، جو جمہوری اقدار کی کھلی خلاف ورزی ہے۔سندھ حکومت کی نااہلی اور کراچی کے اداروں پر قبضے کے خلاف 14 فروری کو سندھ اسمبلی کے باہر ہر صورت دھرنا دیا جائے گا۔ جماعت اسلامی پہلے بھی سندھ اسمبلی کے باہر 29 دن کا تاریخی دھرنا دے چکی ہے اور سندھ حکومت سے ہونے والے معاہدے پر عملدرآمد کے لیے ایک بار پھر دھرنا دیا جائے گا۔قبل ازیں جماعت اسلامی نے انتخابی دھاندلی کے دو سال مکمل ہونے کے خلاف الیکشن کمیشن سندھ کے دفتر کے باہر عوامی پریس کانفرنس کا اعلان کیا تھا لیکن عوامی پریس کانفرنس کے دوران ہی پولیس نے جماعت اسلامی کراچی کے قائم مقام امیر مسلم پرویز،رکن سندھ اسمبلی محمد فاروق سمیت دیگر ذمہ داران و کارکنان کو گرفتار کرلیا تھا۔ مسلم پرویز نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مزیدکہاکہ الیکشن کمیشن نے انتخابات میں بدترین دھاندلی کی ہے اور ہم الیکشن کمیشن کے دفتر کے سامنے ہی اپنا احتجاج ریکارڈ کروائیں گے۔ ہم الیکشن کمیشن کو یہ باور کروانا چاہتے تھے کہ اس نے جو غلطیاں کی ہیں، ان کا فوری ازالہ کیا جائے۔ فارم 47 کی پیداوار خود بھی جانتے ہیں کہ وہ عوام کے حقیقی نمائندے نہیں ہیں۔ جماعت اسلامی پاکستان کے امیر حافظ نعیم الرحمن نے اخلاقی جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنی نشست سے حلف نہ لے کر قوم کے سامنے ایک روشن مثال قائم کی۔احتجاج کرنا جماعت اسلامی کا جمہوری اور آئینی حق ہے اور جب تک دستور کے مطابق اختیارات نچلی سطح تک منتقل نہیں کیے جاتے، جماعت اسلامی کی جدوجہد جاری رہے گی۔مسلم پرویز نے مزید کہا کہ 14 فروری کے دھرنے میں کراچی کے تمام مسائل کے حل کے لیے بھرپور آواز بلند کی جائے گی۔ گرفتاریاں جماعت اسلامی کی جدوجہد کو کبھی بھی روک نہیں سکتیں۔جماعت اسلامی کے تمام ذمہ داران اور کارکنان کے شکر گزار ہیں جنہوں نے پرامن طور پر گرفتاریاں دیں اور اپنے جمہوری حق کا استعمال کرتے ہوئے احتجاج ریکارڈ کروایا۔رکن سندھ اسمبلی محمد فاروق نے کہا کہ جماعت اسلامی نے فارم 47 پر قائم جعلی حکومت اور الیکشن کمیشن سندھ کے دفتر کے باہر عوامی پریس کانفرنس کا اعلان کیا تھا، جس سے خوفزدہ ہو کر سندھ حکومت نے فسطائیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے جماعت اسلامی کے 19 کارکنان اور ذمہ داران کو گرفتار کرلیا۔انہوں نے کہا کہ یہ تمام گرفتاریاں سندھ اسمبلی کے باہر دھرنا روکنے کے لیے کی گئیں، جو سندھ حکومت کی بوکھلاہٹ اور جمہوریت دشمن رویے کا واضح ثبوت ہے۔ حکومت یہ بات اچھی طرح سمجھ لے کہ جماعت اسلامی اپنے آئینی اور جمہوری حق سے دستبردار نہیں ہوگی۔14 فروری کو سندھ اسمبلی کے باہر ہر صورت دھرنا دیا جائے گا اور کسی بھی قسم کی دھونس، دھمکی یا گرفتاری جماعت اسلامی کو اپنے مؤقف سے پیچھے ہٹنے پر مجبور نہیں کرسکتی۔انہوں نے کہا کہ اگر ایف آئی آر کاٹنی ہے تو کاٹیں، ہم دھرنے بھی دیں گے اور احتجاج بھی کریں گے۔ جماعت اسلامی پرامن جدوجہد پر یقین رکھتی ہے اور عوام کے حقوق کے لیے ہر محاذ پر آواز بلند کرتی رہے گی۔رکن سندھ اسمبلی نے مزید کہا کہ وہ کل سندھ اسمبلی کے اجلاس میں آج ہونے والی گرفتاریوں کے خلاف بھرپور آواز اٹھائیں گے اور حکومت کی اس زیادتی کو ایوان میں بے نقاب کریں گے۔جماعت اسلامی اوچھے ہتھکنڈوں سے ڈرنے والی نہیں ہے اور عوام کے حق کے لیے جدوجہد جاری رکھے گی۔
انتخابی دھاندلی کے 2سال مکمل ہونے پر الیکشن کمیشن سندھ کے دفتر کے باہر عوامی پریس کانفرنس کے دوران پولیس قائم مقام امیر جماعت اسلامی کراچی مسلم پرویز‘ رکن سندھ اسمبلی محمد فاروق ودیگر رہنماؤں کو گرفتار کررہی ہے
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: رکن سندھ اسمبلی محمد فاروق سندھ اسمبلی کے باہر عوامی پریس کانفرنس دھرنا دیا جائے گا جماعت اسلامی الیکشن کمیشن مسلم پرویز سندھ حکومت کے دفتر کے کرتے ہوئے کو گرفتار کے لیے ہے اور کہا کہ
پڑھیں:
مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے جرائم میں ملوث افراد کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیےفاسٹ ٹریک عدالتیںقائم کی جائیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ طلبہ کے مستقبل سے کھیلنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری اپنے بیان میں وزیراعظم مودی نے کہا کہ نوجوانوں کا مستقبل حکومت کی اولین ترجیح ہے اور امتحانی نظام میں بدعنوانی یا پرچے لیک کرنے جیسے جرائم میں ملوث عناصر کو سخت اور فوری سزا دی جائے گی۔
یہ امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے معاملے پر وزیراعظم مودی کا پہلا عوامی بیان ہے۔ تاہم ان کے ردعمل کے بعد بھی ملک بھر میں جاری طلبہ احتجاج میں کمی نہیں آئی۔ متعدد طلبہ اور سماجی حلقوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت نے اس حساس معاملے پر ردعمل دینے میں اتنی تاخیر کیوں کی۔
دوسری جانب لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے وزیراعظم کے بیان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے حکومت پر تعلیمی نظام کو کمزور کرنے کا الزام عائد کیا۔
راہل گاندھی نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ نوجوانوں کے مستقبل کو سب سے زیادہ نقصان موجودہ حکومت نے پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے نہ صرف تعلیمی نظام کو تباہ ہونے دیا بلکہ ذمہ دار افراد کو بھی تحفظ فراہم کیا۔
انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنے والے طلبہ کے تین بنیادی مطالبات ہیں، جن میں وزیر تعلیم دھرمندر پردھان کو عہدے سے ہٹانا، طلبہ سے باضابطہ معافی مانگنا اور احتجاج کے دوران طلبہ پر مبینہ تشدد میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی شامل ہے۔
واضح رہے کہ ملک میں تعلیمی اصلاحات اور امتحانی نظام میں شفافیت کے مطالبات کے حوالے سے احتجاجی تحریک جاری ہے۔ حالیہ دنوں میں طلبہ اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے بعد یہ معاملہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے، جبکہ امتحانی پرچے لیک ہونے کے واقعات نے بھارت کے تعلیمی نظام پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔