پاکستانی فارما صنعت میں تاریخی پیش رفت، عالمی معیار کے نئے پلانٹ کا آغاز
اشاعت کی تاریخ: 9th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
پاکستان کی فارماسیوٹیکل صنعت نے ایک اہم سنگِ میل عبور کر لیا ہے، جہاں عالمی معیار کے جدید پیداواری پلانٹ کے آغاز نے ملکی صنعت کو بین الاقوامی سطح پر نمایاں مقام دلانے کی راہ ہموار کر دی ہے۔
یہ پیش رفت اسپیشل انویسٹمنٹ فسیلیٹیشن کونسل کے جامع فریم ورک کے تحت سامنے آئی ہے، جس کا مقصد صنعت کو عالمی معیار سے ہم آہنگ بنانا ہے۔
تفصیلات کے مطابق ایس آئی ایف سی کی مؤثر سہولت کاری کے باعث اسپیشل اکنامک زونز میں گرین فیلڈ صنعت کاری کو بھرپور فروغ حاصل ہو رہا ہے۔ اسی سلسلے میں ہائی نون لیبارٹریز نے حال ہی میں ’پروجیکٹ فورس‘ کے تحت اپنے پہلے ایسے پلانٹ کا سنگِ بنیاد رکھا ہے جو امریکی ایف ڈی اے اور یورپی یونین کے سخت معیار پر پورا اترے گا۔
اس جدید پلانٹ کا بنیادی مقصد عالمی معیار کی ادویات کی مؤثر اور جدید سہولت فراہم کرنا ہے تاکہ مقامی ضرورت پوری کرنے کے ساتھ ساتھ عالمی منڈیوں تک پاکستانی ادویات کی رسائی کو وسعت دی جا سکے۔ نئے پلانٹ میں جدید ٹیکنالوجی، معیار کنٹرول کے سخت نظام اور بین الاقوامی ضوابط کو مدنظر رکھا گیا ہے۔
ماہرین کے مطابق یہ منصوبہ پاکستانی فارما صنعت کی عالمی ساکھ کو مزید مضبوط کرے گا اور برآمدات کے نئے دروازے کھولے گا۔ عالمی معیار کی پیداوار سے نہ صرف زرمبادلہ میں اضافہ ہوگا بلکہ مقامی سطح پر روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔
ایس آئی ایف سی کے تعاون سے شروع ہونے والے گرین فیلڈ فارما منصوبے صنعتی ترقی کو نئی جہت دے رہے ہیں اور پاکستان کو خطے میں مسابقتی برتری دلانے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ ہائی نون لیبارٹریز کی یہ پیش رفت اس بات کا ثبوت ہے کہ درست پالیسی، سہولت کاری اور نجی شعبے کی شراکت سے پاکستان عالمی معیار کی صنعتیں قائم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر اسی تسلسل کے ساتھ فارما صنعت میں سرمایہ کاری اور معیار پر توجہ جاری رہی تو پاکستان مستقبل قریب میں خطے کا ایک اہم دوا ساز مرکز بن سکتا ہے، جو ملکی معیشت کے لیے ایک بڑی کامیابی ہوگی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: عالمی معیار
پڑھیں:
یکم جون سے فیس لیس چالان سسٹم کا آغاز،پہلے دن کتنے چالان جاری ہوئے؟ تفصیلات سامنے آگئی
اسامہ ملک : یکم جون سے لین کی خلاف ورزی پر فیس لیس چالان کے آغاز کا معاملہ،پہلے دن کتنے شہری کیمرے کی نظر میں آئے؟ کتنے چالان ہوئے؟ تفصیلات سامنے آگئی۔
کراچی شہر میں لین ڈسپلن کی خلاف ورزی پر فیس لیس چالان سسٹم کے آغاز کے پہلے ہی دن مجموعی طور پر 96 چالان جاری کیے گئے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق تمام چالان میٹروپول سے ایئرپورٹ جانے اور آنے والی مرکزی سڑک پر کیمروں کی مدد سے کیے گئے، پہلے دن مجموعی طور پر 11 مختلف کیٹیگریز کی گاڑیوں کو خلاف ورزی پر جرمانہ کیا گیا۔
پاکستان آسٹریلیا دوسرا ون ڈے، قذافی اسٹیڈیم میں سیکیورٹی و ٹریفک انتظامات مکمل
اعداد و شمار کے مطابق بڑی بسوں کے 2، کوسٹر کے 2، ڈبل کیبن کا 1 اور عام گاڑیوں کے 9 چالان کیے گئے، اسی طرح منی بس کے 6، منی ٹرک کے 3 اور سوزوکی پک اپ کے 21 چالان بھی جاری ہوئے۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ موٹرسائیکل کی سب سے زیادہ خلاف ورزیاں سامنے آئیں جن کے 43 چالان کیے گئےجبکہ ٹرک کے 3، وین کے 4 اور واٹر ٹینکر کے 2 چالان بھی شامل ہیں۔
تمام چالان اس بنیاد پر کیے گئے کہ گاڑیاں اپنی مقررہ لین چھوڑ کر دوسری لین میں چل رہی تھیں، مزید یہ بھی سامنے آیا کہ فرسٹ لین میں کم رفتار سے چلنے والی گاڑیوں کو بھی لین ڈسپلن کی خلاف ورزی پر فیس لیس چالان کا سامنا کرنا پڑا۔
غیر ملکی خاتون کے مبینہ اغوا کیس میں نیا موڑ، پولیس تفتیش میں اہم انکشافات