وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ دہشتگردی کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں ہے اور اسے ہر حال میں مسترد کیا جانا چاہیے۔

قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ پاکستان نے افغان باشندوں کو کئی دہائیوں تک پناہ دی، لیکن اس کا مناسب اعتراف نہیں کیا گیا۔

مزید پڑھیں: افغانستان میں دہشتگردی کے خلاف پاکستان اور چین یک زبان، کابل کو کیا اہم پیشکش کی؟

خواجہ آصف نے کہاکہ بھارت افغانستان کے پیچھے چھپ کر پاکستان پر حملے کررہا ہے، جبکہ پاکستان نے کبھی بھی افغانستان کے خلاف جارحیت نہیں کی۔

انہوں نے سیاست میں صبر و تحمل کے فروغ کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اپنی مٹی کے ساتھ تعلق کو مضبوط بنانا ہر شہری کی ذمہ داری ہے۔

وزیر دفاع نے مزید کہاکہ بھارت کو جس طرح ماضی کی جنگوں میں شکست ہوئی، وہ دوبارہ حملے کی سوچ بھی نہیں سکتا۔

وزیر دفاع نے واضح کیاکہ پاکستان افغانستان میں دو جنگوں میں فریق رہا اور آزادی کے فوراً بعد افغانستان کی جانب سے پاکستان پر دوبارہ حملہ ہوا۔

انہوں نے کہاکہ یہ جنگیں کوئی جہاد نہیں تھیں اور ہمیں ماضی کے اسباق سے سبق سیکھنا چاہیے۔ نائن الیون کے ذمہ دار کا آج تک پتا نہیں چل سکا، اور افغانستان نے اس واقعے میں کوئی کردار نہیں ادا کیا۔

خواجہ آصف نے تاریخی ہیروز کو یاد رکھنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ وہ لوگ جنہوں نے وطن کی جنگ لڑی، ہمیشہ ہمارے لیے مشعل راہ رہیں گے۔ پاکستان کی شناخت اور وراثت پر فخر کرنا چاہیے، اور سڑکیں، عمارات اور یادگاریں اپنے ہیروز کے نام کرنی چاہییں تاکہ نئی نسل اپنی ثقافت اور تاریخ سے واقف ہو۔

وزیر دفاع نے کہاکہ اختلافات اپنی جگہ، لیکن دہشتگردی کے خلاف متحد ہونا ہر شہری کا فرض ہے۔

انہوں نے افسوس کا اظہار کیاکہ آج بھی بعض حلقے دہشتگردی کی واضح مذمت نہیں کرتے۔ ماضی کی غلطیوں کا اعتراف کیے بغیر ہم آگے نہیں بڑھ سکتے اور پاکستان کو تاریخ کے اسباق سے سبق سیکھنا ہوگا۔

خواجہ آصف نے یہ بھی کہا کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان کبھی ویزا نظام نہیں تھا اور لوگ اجازت نامے پر جا سکتے تھے۔ خود بھی انہوں نے بغیر ویزا افغانستان کا دورہ کیا۔

مزید پڑھیں: ملک میں دہشتگردی کی نئی لہر، سینیئر صحافیوں نے اہم تجاویز دے دیں

’روس کے خلاف افغانستان میں لڑنے والی جنگ بھی کوئی جہاد نہیں تھی، اور امریکیوں کی مدد کے باوجود ہمیں اس سے کوئی درس حاصل نہیں ہوا۔‘

وزیر دفاع نے کہاکہ جب تک ہم ماضی کی غلطیوں اور تاریخی حقائق کا اعتراف نہیں کریں گے، ملک ترقی اور مضبوطی کی راہ پر آگے نہیں بڑھ سکتا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews افغانستان بھارت خواجہ آصف دہشتگردی وزیر دفاع وی نیوز.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: افغانستان بھارت خواجہ ا صف دہشتگردی وزیر دفاع وی نیوز افغانستان کے وزیر دفاع نے خواجہ آصف نے کہ پاکستان انہوں نے نے کہاکہ ماضی کی کے خلاف نے کہا

پڑھیں:

سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان

پاکستان نے یمن کے حوثی گروپ کی جانب سے سعودی آئل ٹینکر پر حملے اور بحیرہ احمر میں تجارتی جہاز رانی کو درپیش خطرات کی پرزور الفاظ میں مذمت کی ہے اور سعودی عرب کی سلامتی و خودمختاری کے لیے اپنی مکمل حمایت کا اعادہ کیا ہے۔وزیراعظم شہباز شریف نے جمعرات کو سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ٹیلی فونک رابطہ کر کے بحرِ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حوثی ملیشیا کے حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔وزیراعظم نے حملے کو بزدلانہ اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ ”ایسے اقدامات قطعی ناقابلِ قبول ہیں. یہ بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی ہیں، جہاز رانی اور تجارتی نقل و حمل کی آزادی کے لیے خطرہ ہیں اور علاقائی امن، سلامتی اور استحکام کو نقصان پہنچاتے ہیں“۔وزیراعظم نے سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کی مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میں خود، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور پوری پاکستانی قوم اس نازک وقت میں سعودی قیادت اور مملکت کے برادر عوام کے ساتھ مضبوطی اور عزم کے ساتھ کھڑے ہیں۔انہوں نے مزید یقین دہانی کرائی کہ پاکستان مملکت سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی مکمل حمایت کرتا ہے اور بحرِ احمر، آبنائے ہرمز اور خطے میں سمندری تجارت کی روانی کو یقینی بنانے کے لیے عالمی برادری اور سعودی عرب کے ساتھ مل کر کام کرتا رہے گا۔گفتگو کے دوران سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے پاکستان کی اس مستقل حمایت اور دونوں ممالک کے درمیان قائم قریبی برادرانہ تعلقات کی تعریف کی۔ اس موقع پر وزیراعظم پاکستان نے خادمِ حرمین شریفین، شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کے لیے بھی نیک خواہشات اور خیر سگالی کے جذبات کا اظہار کیا۔

دوسری جانب، دفترِ خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے ہفتہ وار میڈیا بریفنگ کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ”گزشتہ ہفتے بھی حوثیوں کی جانب سے حملہ کیا گیا تھا. جس کی وزیراعظم پاکستان نے فوری مذمت کرتے ہوئے سعودی عرب کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا تھا“۔طاہر اندرابی نے کہا کہ ہمارے بحری جہازوں پر حملہ ریڈلائن ہوگی. ہم سعودی عرب کے ساتھ باہمی دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور سعودی عرب کے ساتھ تمام معاہدوں کی پاسداری کریں گے۔انہوں نے خبردار کیا کہ یمن کے مسلح گروہوں کی جانب سے سعودی عرب پر ایسے حملے خطے میں پہلے سے موجود کشیدگی کو مزید بڑھا سکتے ہیں، اس لیے پاکستان تمام فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے اور مسائل کا پرامن حل سفارتی راستے سے نکالنے کی اپیل کرتا ہے۔خطے میں امن قائم کرنے اور کشیدگی کم کرنے کے لیے پاکستان نے اپنی سفارتی رفت و آمد میں بھی اضافہ کر دیا ہے۔ترجمان کے مطابق حال ہی میں ایران کے وزیر داخلہ اسکندر مومنی نے پاکستان کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے وزیراعظم، فیلڈ مارشل اور وفاقی وزیر داخلہ سمیت اعلیٰ قیادت سے ملاقاتیں کیں تاکہ علاقائی سیکیورٹی کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا جا سکے۔اس کے علاوہ پاکستان اور کویت کے وزرائے خارجہ کے درمیان رابطہ ہوا، جبکہ منیلا میں آسیان ریجنل فورم کے موقع پر نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے مصر، عمان، فلپائن، روس اور بنگلہ دیش کے وزرائے خارجہ سے الگ الگ اہم ملاقاتیں کیں۔ان ملاقاتوں کی تفصیل بتاتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ ”مصر کے وزیر خارجہ سے ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے تمام ممالک کی علاقائی سالمیت اور خودمختاری کے احترام پر زور دیا، جبکہ عمان کے وزیر خارجہ نے خطے میں کشیدگی کے خاتمے اور امن و استحکام کے لیے پاکستان کے سفارتی کردار کو سراہا“۔اس کے ساتھ ساتھ روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف اور بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ خلیل الرحمان سے بھی باہمی تعلقات اور تعاون کو آگے بڑھانے پر بات چیت کی گئی۔ترجمان دفترِ خارجہ نے مزید بتایا کہ پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اب شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے وزرائے خارجہ کونسل اجلاس میں شرکت کے لیے بشکیک پہنچیں گے. جہاں ان کی کرغزستان کے صدر اور دیگر رکن ممالک کے وزرائے خارجہ سے ملاقاتیں متوقع ہیں۔ترجمان نے یہ بھی بتایا کہ کینیڈا کی وزیر خارجہ انیتا آنند نے بھی حال ہی میں پاکستان کا دورہ کیا ہے، جو گزشتہ بیس سالوں میں کسی کینیڈین وزیر خارجہ کا پہلا دورہ تھا  اور اس دوران دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات کی مضبوطی کے لیے اعلیٰ سطح پر بات چیت کی گئی۔

متعلقہ مضامین

  • بدقسمت خواجہ سرا۔۔۔؟
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
  • فیلڈ مارشل، میں اور قوم سعودیہ کیساتھ ہیں، وزیراعظم کا ولی عہد سے رابطہ، آئل ٹینکرز پر حملے کی مذمت
  • پاکستان کے دفاع، سیکیورٹی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے، وزیراعظم
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا