شہدا کے خاندانوں کو کسی صورت تنہا نہیں چھوڑیں گے، وزیراعلیٰ بلوچستان
اشاعت کی تاریخ: 9th, February 2026 GMT
وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے دہشت گردی کے حالیہ واقعات میں شہید ہونے والے پولیس افسران، اہلکاروں اور شہریوں کے گھروں کا دورہ کیا۔
مزید پڑھیں: علما و مشائخ کونسل کی اسلام آباد خودکش حملے کی شدید مذمت، دہشتگردی کے خلاف قومی اتحاد پر زور
اس موقع پر وزیر اعلیٰ نے شہدا کے لواحقین سے ملاقات کی، تعزیت کا اظہار کیا اور فاتحہ خوانی کی، جبکہ شہید جوانوں کے بچوں سے خصوصی ملاقات کرتے ہوئے ان سے پیار و شفقت کا اظہار بھی کیا۔
وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ حکومت بلوچستان شہدا کے خاندانوں کو کسی صورت تنہا نہیں چھوڑے گی۔
انہوں نے اعلان کیاکہ مروجہ پالیسی کے تحت پولیس شہدا کے لواحقین کو فوری مالی معاونت فراہم کی جائے گی اور 2،2 سرکاری ملازمتیں دی جائیں گی، جن میں ایک ملازمت محکمہ پولیس جبکہ دوسری کسی دوسرے سرکاری محکمے میں دی جائے گی۔
وزیر اعلیٰ نے سریاب تھانے کو شہید اے ایس آئی محمود الرحمن کے نام سے منسوب کرنے کے احکامات بھی جاری کیے۔
انہوں نے کہاکہ شہدا کے بچوں کی تعلیم کے تمام اخراجات حکومت بلوچستان برداشت کرے گی، جبکہ شہدا کے لواحقین کو گھر کی تعمیر کے لیے 55 لاکھ روپے اور حسب ضرورت دیگر وسائل بھی فراہم کیے جائیں گے۔
میر سرفراز بگٹی کا کہنا تھا کہ حکومت اور بلوچستان کے عوام شہدا کے خون کے قرض دار ہیں اور ہم اپنے شہدا کے لواحقین اور غازیوں کو کبھی لاوارث نہیں چھوڑیں گے۔
انہوں نے کہاکہ ہندوستان کے ایما پر بلوچستان کو غیر مستحکم کرنے کی سازشیں ناکام ہوں گی اور شہدا کے مقدس خون کا حساب لیا جائے گا، دہشت گردوں کو انجام تک پہنچایا جائے گا۔
مزید پڑھیں: پاکستان میں ہونیوالی دہشتگردی میں بھارت ملوث، اسلام آباد دھماکے کا ماسٹر مائنڈ افغان شہری گرفتار کرلیا، وزیر داخلہ
وزیر اعلیٰ بلوچستان نے بتایا کہ 31 جنوری کے دہشتگردی کے واقعات میں اہم پیش رفت ہوئی ہے اور تحقیقاتی ٹیمیں 7 دن، 24 گھنٹے کام کررہی ہیں تاکہ ذمہ دار عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لایا جا سکے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews دہشتگردی شہدا میر سرفراز بگٹی وزیراعلیٰ بلوچستان وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: دہشتگردی میر سرفراز بگٹی وزیراعلی بلوچستان وی نیوز شہدا کے لواحقین میر سرفراز بگٹی وزیر اعلی
پڑھیں:
وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ کے وزیر اعلی سید مراد علی شاہ کی ہدایت پر صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے سندھ بھر کی ضلعی انتظامیہ کو ہائی الرٹ کر دیا ہے اور تمام متعلقہ محکموں کو احتیاطی اور ہنگامی ردعمل کے اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے، کیونکہ بحیرہ عرب سے آنے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے صوبے کو متاثر کر رہے ہیں۔ پی ڈی ایم اے کی جانب سے جاری کردہ موسمیاتی ایڈوائزری کے مطابق، پاکستان محکمہ موسمیات (پی ایم ڈی) کی پیش گوئی کی بنیاد پر ملک میں داخل ہونے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے، بالائی اور وسطی علاقوں کو متاثر کرنے والے مغربی موسمی نظام کے ساتھ مل کر، 23 جولائی سے 25 جولائی تک سندھ کے کئی اضلاع میں وسیع پیمانے پر بارش، گرج چمک اور بعض مقامات پر موسلا دھار بارش کا سبب بن سکتے ہیں۔
وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ وزیر اعلی نے ڈویژنل کمشنرز اور بلدیاتی اداروں کو مزید ہدایت کی کہ وہ نشیبی علاقوں، شہری مراکز اور حساس مقامات کی کڑی نگرانی کریں، امدادی سامان اور آلات کی دستیابی یقینی بنائیں اور موسمیاتی پیش گوئی کی مدت کے دوران تمام محکموں کے درمیان بلاتعطل رابطہ برقرار رکھیں۔