Al Qamar Online:
2026-07-24@02:58:01 GMT

لیبیا کے ساحل کے قریب مہاجر کشتی ڈوب گئی، 53 افراد لاپتا

اشاعت کی تاریخ: 9th, February 2026 GMT

طرابلس: شمال مغربی لیبیا کے ساحلی علاقے میں یورپ جانے کی کوشش کرنے والے مہاجرین کو لے جانے والی ایک ربڑ کی کشتی سمندر میں الٹنے سے المناک سانحہ پیش آیا، جس کے نتیجے میں کم از کم 53 افراد کے جاں بحق یا لاپتہ ہونے کی تصدیق کی گئی ہے، جن میں دو کم سن بچے بھی شامل ہیں۔ یہ افسوسناک واقعہ ساحلی شہر زوارہ کے شمال میں پیش آیا، جہاں غیر قانونی مہاجرت کے لیے روانہ ہونے والی کشتی خراب موسم اور تیز لہروں کا شکار ہو گئی۔

بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ کشتی 6 فروری کو سمندر میں ڈوبی، جس میں درجنوں افراد سوار تھے جو بہتر زندگی کی امید میں یورپ کا رخ کر رہے تھے۔ حادثے کی اطلاع ملتے ہی ریسکیو ٹیموں نے فوری طور پر سرچ آپریشن شروع کیا، تاہم سمندر کی خراب صورتحال اور رات کے اندھیرے کے باعث امدادی کارروائیوں میں شدید مشکلات کا سامنا رہا۔

غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق اب تک متعدد لاشیں نکالی جا چکی ہیں جبکہ بڑی تعداد میں افراد تاحال لاپتہ ہیں، جن کی تلاش کے لیے سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن بدستور جاری ہے۔ جاں بحق اور لاپتہ ہونے والوں کی حتمی تعداد کے تعین کے لیے مقامی حکام اور امدادی ادارے مشترکہ طور پر کام کر رہے ہیں۔

لیبیا کا ساحلی خطہ کئی برسوں سے غیر قانونی مہاجرت کا اہم مرکز بنا ہوا ہے، جہاں سے افریقہ اور مشرقِ وسطیٰ کے مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے افراد یورپ پہنچنے کی کوشش کرتے ہیں۔ انسانی حقوق کی تنظیمیں اس خطرناک سمندری راستے کو مسلسل جان لیوا قرار دیتی آئی ہیں اور بارہا خبردار کر چکی ہیں کہ ناقص کشتیوں میں سفر سینکڑوں جانیں نگل چکا ہے۔

حکام کے مطابق اس سانحے کی وجوہات جاننے کے لیے تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے، جبکہ لاپتہ افراد کے اہل خانہ کو تلاش اور شناخت کے عمل میں ہر ممکن تعاون فراہم کیا جا رہا ہے۔ یہ واقعہ ایک بار پھر غیر قانونی مہاجرت کے المناک پہلو کو اجاگر کرتا ہے، جہاں بہتر مستقبل کی خواہش اکثر قیمتی جانوں کے ضیاع پر منتج ہو جاتی ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Al Qamar Online

کلیدی لفظ: پاکستان کھیل کے لیے

پڑھیں:

مصنوعی مٹھاس دماغی صحت کے لیے خطرہ؟ نئی تحقیق میں یادداشت متاثر ہونے کا اشارہ

ایک نئی سائنسی تحقیق میں یہ انکشاف سامنے آیا ہے کہ مصنوعی مٹھاس کا زیادہ استعمال یادداشت اور ذہنی صلاحیتوں میں تیزی سے آنے والی کمی سے تعلق رکھ سکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ اجزا چینی کے متبادل کے طور پر استعمال کیے جاتے ہیں، تاہم ان کے طویل المدتی اثرات دماغی صحت کے لیے تشویش کا باعث بن سکتے ہیں۔

یہ تحقیق امریکن اکیڈمی آف نیورولوجی کے جریدے نیورولوجی میں شائع ہوئی، جس میں تقریباً 13 ہزار بالغ افراد کی آٹھ برس تک نگرانی کی گئی۔ تحقیق کے دوران کم یا بغیر کیلوریز والی مٹھاس کے سات عام اجزا کا جائزہ لیا گیا، جن میں ایسپارٹیم، سیکرین، ایسی سلفیم کے، اریتھریٹول، زائیلیٹول، سوربیٹول اور ٹیگاٹوز شامل تھے۔

تحقیقی نتائج کے مطابق وہ افراد جو روزانہ اوسطاً 191 ملی گرام مصنوعی مٹھاس استعمال کرتے تھے، جو تقریباً ایک کین ڈائٹ سوڈا میں موجود ایسپارٹیم کے برابر مقدار ہے، ان میں کم استعمال کرنے والوں کے مقابلے میں یادداشت اور ذہنی کارکردگی میں کمی کی رفتار 62 فیصد زیادہ دیکھی گئی۔

اسی طرح درمیانی مقدار میں مصنوعی مٹھاس استعمال کرنے والے افراد میں بھی ذہنی صلاحیتوں میں کمی کا خطرہ نمایاں رہا، جہاں یہ شرح کم استعمال کرنے والوں کے مقابلے میں 35 فیصد زیادہ ریکارڈ کی گئی۔

محققین کے مطابق یہ تعلق 60 سال سے کم عمر افراد اور ذیابیطس کے مریضوں میں زیادہ نمایاں دیکھا گیا، کیونکہ یہ افراد عام چینی کے بجائے مصنوعی مٹھاس کا زیادہ استعمال کرتے ہیں۔

تحقیق میں شامل سات میٹھے اجزا میں سے صرف ٹیگاٹوز ایسا جز تھا جس کا ذہنی صلاحیتوں میں تیز رفتار کمی سے واضح تعلق سامنے نہیں آیا، جبکہ باقی چھ اجزا اس خطرے سے منسلک پائے گئے۔

تحقیق کی مرکزی مصنفہ، یونیورسٹی آف ساؤ پالو سے وابستہ ڈاکٹر کلاڈیا کیمی سوئیموتو نے کہا کہ مصنوعی مٹھاس کو عموماً صحت مند متبادل سمجھا جاتا ہے، لیکن تحقیق کے نتائج اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ بعض مصنوعی میٹھے اجزا طویل عرصے تک استعمال کیے جانے کی صورت میں دماغی صحت پر منفی اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔

یہ مصنوعی مٹھاس عام طور پر ڈائٹ سوڈا، فلیورڈ واٹر، انرجی ڈرنکس، دہی اور دیگر کم کیلوریز والی پراسیسڈ غذاؤں میں استعمال کی جاتی ہے۔

تاہم محققین نے اس بات پر بھی زور دیا کہ یہ ایک مشاہداتی تحقیق ہے، اس لیے اس سے یہ حتمی نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا کہ مصنوعی مٹھاس ہی براہِ راست یادداشت میں کمی کی وجہ بنتی ہے۔ ان کے مطابق ان نتائج کی مزید تصدیق اور مختلف متبادل میٹھے اجزا کے اثرات جانچنے کے لیے مزید سائنسی تحقیق کی ضرورت ہے۔


 

متعلقہ مضامین

  • کوئٹہ، سرکاری دفاتر میں ایجنٹس کیخلاف ایف آئی اے کی کارروائی، 14 افراد گرفتار
  • خیبر پختونخوا میں بارشوں اور فلش فلڈز کے حادثات میں 22 افراد جاں بحق
  • بارشوں سے پنجاب میں اب تک 21 شہری جاں بحق اور 154 زخمی ہوئے، پی ڈی ایم اے
  • رحیم یارخان: لاپتا نوجوان کی لاش گرفتار ایس ایچ او کی نشاندہی پر برآمد
  • محسن نقوی کی مستونگ کے قریب  سیشن جج اور جوڈیشل مجسٹریٹ پر فائرنگ کی پرزور مذمت
  • مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
  • مقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ
  • مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی
  • مستونگ میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے سیشن جج عبد الحکیم کاکڑ جاں بحق
  • مصنوعی مٹھاس دماغی صحت کے لیے خطرہ؟ نئی تحقیق میں یادداشت متاثر ہونے کا اشارہ