شیری رحمان کا سینٹ سیشن لائیو اسٹریم نہ ہونے پر احتجاج
اشاعت کی تاریخ: 10th, February 2026 GMT
فائل فوٹو
پاکستان پیپلز پارٹی کی سینیٹر شیری رحمان نے سینیٹ سیشن لائیو اسٹریم نہ ہونے پر احتجاج ریکارڈ کرادیا۔
پارلیمان کے ایوان بالا کے اجلاس سے خطاب میں شیری رحمان نے کہا کہ اہم مسئلے پر گفتگو ہو رہی ہے، سینیٹ سیشن آج بھی لائیو اسٹریم نہیں ہو رہا، وہ تمام سینیٹرز کی جانب سے احتجاج ریکارڈ کرارہی ہیں۔
پاکستان پیپلزپارٹی( پی پی پی) کی نائب صدرسینیٹر شیری رحمان نے نئی نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) پالیسی کو توانائی منتقلی کو سست قرار دیدیا۔
اس معاملے پر سینیٹر علی ظفر نے کہا کہ پہلے صرف ہماری تقریریں سنسر ہوتی ہیں، آج پورے ہاؤس کو سنسر کیا جا رہا ہے۔
اس پر رانا ثنا اللہ نے کہ اسلام آباد حملے پر تقاریر کا سلسلہ سینیٹ اجلاس کی لائیو اسٹریمنگ شروع ہونے تک روک دیتے ہیں۔
اجلاس سے خطاب میں سینیٹر مسرور احسن نے کہا کراچی ایئر پورٹ پر ہزاروں مسافروں کی لائن لگی ہے، ٹرالی کے بھی کراچی ایئر پورٹ پر پیسے لیے جا رہے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
پڑھیں:
کفایت شعاری اقدامات، حکومت نے مارکیٹوں اور ریسٹورنٹس کے اوقات کار میں توسیع کردی گئی
نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی زیر صدارت کفایت شعاری اقدامات پر اہم اجلاس ہوا جس میں مارکیٹوں اور ریسٹورنٹس کے اوقات کار میں توسیع کردی گئی۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار کی زیر صدارت وزارتِ خارجہ میں کفایت شعاری اقدامات کی نگرانی اور عملدرآمد سے متعلق کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا۔
اجلاس میں ملک بھر میں توانائی کے مؤثر استعمال اور کاروباری سرگرمیوں کے اوقات کارجبکہ جاری کفایت شعاری اقدامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
موسمِ گرما میں دن کے دورانیے میں اضافے اور بلند درجہ حرارت کے پیش نظر کمیٹی نے دکانوں، بازاروں، شاپنگ مالز اور جنرل ریٹیل کاروبار کے اوقات کار رات 9 بجے تک بڑھانے کی منظوری دے دی۔
مزید پڑھیںلاہور میں بھی اسمارٹ لاک ڈاؤن پھر سے نافذ، پرانے اوقات کار بحال
اجلاس کے فیصلوں کے مطابق ریسٹورنٹس، کیفے اور دیگر کھانے پینے کے مراکز رات 11 بجے تک کھلے رہ سکیں گے، تاہم ٹیک اوے اور ہوم ڈلیوری سروسز ان اوقات کی پابندی سے مستثنیٰ ہوں گی۔
شادی ہالز اور تقریبات کے مقامات کے اوقات کار رات 10 بجے تک برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا جبکہ فارمیسیز، ہسپتال، پٹرول پمپس، آئی ٹی اور ٹیلی کام سے متعلق خدمات سمیت ضروری سروسز کو ان پابندیوں سے استثنیٰ حاصل ہوگا۔
کمیٹی نے صوبائی حکومتوں کو ہدایت کی کہ وہ وفاقی حکام کے ساتھ مکمل تعاون کرتے ہوئے ان فیصلوں پر مؤثر عملدرآمد یقینی بنائیں۔
اجلاس میں وفاقی وزراء برائے پیٹرولیم، موسمیاتی تبدیلی، اطلاعات اور آئی ٹی و ٹیلی کام، وزیر اعظم کے معاونینِ خصوصی برائے خزانہ اور نائب وزیراعظم، وفاقی سیکریٹریز تجارت، کابینہ، پیٹرولیم اور آئی ٹی و ٹیلی کمیونی کیشنز کے علاوہ صوبائی حکومتوں کے سینئر حکام نے بھی شرکت کی۔کمیٹی نے ایجنڈے میں شامل دیگر امور اور کیسز کی بھی منظوری دی۔