مسئلہ یہ ہے ایک ادارہ جس کا سیاست میں کام نہیں‘ وہ سیاست کرتا ہے‘ وزیراعلیٰ پختونخوا
اشاعت کی تاریخ: 11th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260211-08-19
پشاور( مانیٹرنگ ڈیسک) وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ پاکستان میں یہ مسئلہ ہے کہ یہاں ایک ادارہ تمام اداروں میں ٹانگ اڑاتا ہے اور ایک ادارہ جس کا سیاست میں کام نہیں ہے وہ سیاست بھی کرتا ہے جس کی وجہ سے خیبر پختونخوا میں سیاسی عدم استحکام ہے۔پشاور میں یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی کی سالانہ کانووکیشن 2026 ء کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ پرانے کورسز بے روزگاروں کی فوج پیدا کر رہے تھے تاہم اب جدید سائنسی کورسز اور نئے مضامین متعارف کرانے سے طلبہ کو فارغ التحصیل ہونے سے پہلے ہی نوکریاں مل رہی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا میں ٹیلنٹ کی کوئی کمی نہیں لیکن مواقع کم رہے ہیں۔وزیر اعلیٰ نے کہا کہ خیبر پختونخوا بدامنی کا شکار رہا اور صوبے کو ہمیشہ تجربہ گاہ بنایا گیا جس سے نوجوان متاثر ہوئے تاہم اب ایسا نہیں ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ہم علم بغاوت اٹھائیں گے، میں اپ کی حقوق کے لیے چٹان کی طرح کھڑا ہوں، جو لوگ عوام کے پیسوں سے جزیرے خرید رہے ہیں ان کے خلاف بغاوت کریں گے،وفاق نے صوبے کے جو بقایاجات روکے ہیں میں آپ کی مدد سے لے کر رہوں گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: خیبر پختونخوا
پڑھیں:
وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ کے وزیر اعلی سید مراد علی شاہ کی ہدایت پر صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے سندھ بھر کی ضلعی انتظامیہ کو ہائی الرٹ کر دیا ہے اور تمام متعلقہ محکموں کو احتیاطی اور ہنگامی ردعمل کے اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے، کیونکہ بحیرہ عرب سے آنے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے صوبے کو متاثر کر رہے ہیں۔ پی ڈی ایم اے کی جانب سے جاری کردہ موسمیاتی ایڈوائزری کے مطابق، پاکستان محکمہ موسمیات (پی ایم ڈی) کی پیش گوئی کی بنیاد پر ملک میں داخل ہونے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے، بالائی اور وسطی علاقوں کو متاثر کرنے والے مغربی موسمی نظام کے ساتھ مل کر، 23 جولائی سے 25 جولائی تک سندھ کے کئی اضلاع میں وسیع پیمانے پر بارش، گرج چمک اور بعض مقامات پر موسلا دھار بارش کا سبب بن سکتے ہیں۔
وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ وزیر اعلی نے ڈویژنل کمشنرز اور بلدیاتی اداروں کو مزید ہدایت کی کہ وہ نشیبی علاقوں، شہری مراکز اور حساس مقامات کی کڑی نگرانی کریں، امدادی سامان اور آلات کی دستیابی یقینی بنائیں اور موسمیاتی پیش گوئی کی مدت کے دوران تمام محکموں کے درمیان بلاتعطل رابطہ برقرار رکھیں۔