فائبر کے معدے پر اثرات، کس مقدار سے زیادہ نقصان دہ ہوسکتا ہے؟ ماہرین غذائیت نے خبردار کردیا
اشاعت کی تاریخ: 11th, February 2026 GMT
فائبر کو طویل عرصے سے نظامِ ہاضمہ کے مسائل کا مؤثر حل سمجھا جاتا رہا ہے اور ماہرینِ صحت اکثر ریشے دار غذا، سبزیوں اور فائبر کی مقدار بڑھانے کا مشورہ دیتے ہیں۔
فائبر آنتوں کی صحت بہتر بنانے، قبض سے بچاؤ اور ہاضمے میں مددگار ثابت ہوتا ہے، تاہم غذائی ماہرین کا کہنا ہے کہ ہر صورت میں فائبر کی مقدار بڑھانا معدے کے مسائل کا درست حل نہیں ہوتا۔
ماہرین کے مطابق اکثر لوگ یہ سمجھ لیتے ہیں کہ محض سلاد کھانے سے ہی انہیں مطلوبہ فائبر مل رہا ہے، حالانکہ اگر کسی کو روزانہ تقریباً 30 گرام فائبر درکار ہو تو اسے 15 سے زائد پیالے سلاد کھانے پڑیں گے۔ اس کے مقابلے میں اتنی ہی مقدار میں فائبر ایک ایووکاڈو، دو چائے کے چمچ السی کے بیج اور دو کھانے کے چمچ چیا سیڈز سے حاصل کیا جاسکتا ہے۔ اگر ایووکاڈو روزمرہ خوراک میں شامل کرنا ممکن نہ ہو تو ناشپاتی یا امرود کے ساتھ چنے کھانا بھی اچھا متبادل ہوسکتا ہے۔
ماہرین غذائیت کا کہنا ہے کہ فائبر بھی پروٹین کی طرح ہر وقت اور ہر حالت میں فائدہ نہیں دیتا۔ برسوں سے اپھارہ، گیس، قبض اور بھاری پن جیسے مسائل کےلیے زیادہ فائبر کو بنیادی علاج سمجھا جاتا رہا ہے، مگر اس کے باوجود کئی افراد کو افاقہ نہیں ہوتا۔
معدہ مقدار سے نہیں بلکہ خوراک کی درست ترتیب سے بہتر ہوتا ہے، یعنی صرف زیادہ کھانا مسئلے کا حل نہیں بلکہ یہ دیکھنا ضروری ہے کہ کیا اور کس انداز میں کھایا جا رہا ہے۔
غذائی ماہر کے مطابق خاص طور پر ناقابلِ حل فائبر، جسے انسولیوبل فائبر کہا جاتا ہے، بعض صورتوں میں نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے، بالخصوص ان افراد کے لیے جنہیں چھوٹی آنت میں بیکٹیریا کی زیادتی (ایس آئی بی او)، مستقل قبض یا سست اور حساس نظامِ ہاضمہ کا سامنا ہو۔ ایسے حالات میں زیادہ فائبر درد اور اپھارہ بڑھا سکتا ہے، آنتوں کی حرکت کو سست کرسکتا ہے، معدے میں خمیر بننے کے عمل میں اضافہ کرسکتا ہے اور ہاضمے میں رکاوٹ ڈال سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق اسی لیے آنتوں کی صحت بہتر بنانے کے لیے فائبر کی بڑی مقدار شامل کرنا ہمیشہ پہلا اور فوری قدم نہیں ہونا چاہیے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: رہا ہے
پڑھیں:
24 جولائی کیلئے بھی ڈیزل اور پیٹرول کی قیمت میں اضافہ کردیا گیا
علامتی فوٹوحکومت نے مسلسل تیسرے روز پیٹرول جبکہ چوتھے روز ڈیزل کی فی لیٹر قیمت میں اضافہ کردیا ہے۔
اس حوالے سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرول کی قیمت میں 4 روپے 40 پیسے فی لیٹر جبکہ ڈیزل کی قیمت میں 3 روپے 62 پیسے فی لیٹر اضافہ کردیا گیا ہے۔
نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرول کی نئی قیمت 327 روپے 12 پیسے فی لیٹر مقرر کردی گئی ہے۔ اسی طرح ڈیزل کی نئی قیمت 378 روپے 66 پیسے فی لیٹر مقرر کی گئی ہے۔
اس میں کہا گیا ہے کہ پیٹرول اور ڈیزل کی نئی قیمتیں 24 جولائی کے لیے ہوں گی۔
خیال رہے کہ حکومت کی جانب سے فیصلہ کیا گیا ہے کہ خطے کی بگڑتی صورتحال کے پیش نظر روزانہ کی بنیاد پر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا تعین کیا جائے گا۔
اوگرا وزیراعظم یا حکومت کی منظوری کے بغیر قیمتوں کا اعلان کرے گا، جبکہ ہفتہ اور اتوار کو گزشتہ اعلان کردہ قیمتیں برقرار رہیں گی۔
یومیہ اعلان کے تحت اب تک کی تبدیلیعلم میں رہے کہ 21 جولائی کےلیے حکومت نے پیٹرول کی فی لیٹر قیمت میں 35 پیسے کمی جبکہ ڈیزل کی قیمت میں 5 روپے 71 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا تھا۔
22 جولائی کیلئے پیٹرول کی قیمت میں 4 روپے 93 پیسے فی لیٹر جبکہ ڈیزل کی قیمت میں 7 روپے 15 پیسے فی لیٹر کا اضافہ کیا گیا تھا۔
اسی طرح 23 جولائی کےلیے حکومت نے پیٹرول کی قیمت میں 6 روپے 39 پیسے فی لیٹر جبکہ ڈیزل کی قیمت میں 7 روپے 83 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا تھا۔