حکومت سندھ نوجوانوں کو یوتھ کارڈ دے گی، تیاریاں شروع
اشاعت کی تاریخ: 11th, February 2026 GMT
ویب ڈیسک : سندھ کے نوجوانوں کیلئے یوتھ کارڈ متعارف کروانے کی تیاریاں شروع کردی گئیں، سندھ حکومت نے محکمہ کھیل کو طریقہ کار تیار کرنے کی ہدایت کردی ۔
وزیر کھیل و امور نوجوانان سردار محمد بخش مہر کی زیرِ صدارت سندھ سیکریٹریٹ میں یوتھ کارڈ متعارف کروانے سے متعلق اہم اجلاس کا انعقاد کیا گیا جس میں سندھ حکومت نے صوبے کے نوجوانوں کیلئے یوتھ کارڈ متعارف کروانے کی تیاریاں شروع کرتے ہوئے محکمہ کھیل کو طریقہ کار تیار کرنے کی ہدایت کی ہے۔
وزیرِ خزانہ کی بین الاقوامی سرمایہ کاروں کے اعلیٰ سطح وفد سے ملاقات
اجلاس میں سیکریٹری کھیل منور علی مہیسر، ڈائریکٹر اسد اسحاق، چیف انجنیئر محمد اسلم مہر سمیت دیگر افسران نے شرکت کی۔ صوبے کے نوجوانوں کیلئے یوتھ کارڈ کی تیاریوں پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔صوبائی وزیر کھیل و امور نوجوانان نے سیکریٹری کھیل کو ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ یوتھ کارڈکیلئے ایسا طریقہ کار مرتب کیا جائے جس سے صوبے کے نوجوان طبقے کو زیادہ سے زیادہ فائدہ حاصل ہو ۔
سردار محمد بخش مہر نے کہا کہ چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کی خصوصی ہدایت پر رواں سال جون سے قبل سندھ یوتھ کارڈ متعارف کروانے کا پلان ہے۔اس کے ذریعے نوجوانوں کو تعلیم، ہنر، روزگار، اسکالرشپ اور اسپورٹس کی سہولیات فراہم کی جائیں گی۔
گوندا کی کرن جوہر پرکڑی تنقید،بیوی کو مکھن لگا کر کرارا جواب
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: یوتھ کارڈ متعارف کروانے
پڑھیں:
فراری کی پہلی الیکٹرک کار متعارف، رونمائی کے فوراً بعد تنقید کا طوفان
پُرتعیش گاڑیاں بنانے والی عالمی شہرت یافتہ کمپنی فراری کی پہلی مکمل الیکٹرک گاڑی منظرِ عام پر آتے ہی شدید تنقید کی زد میں آ گئی، جس کے اثرات کمپنی کی مارکیٹ پوزیشن پر بھی نمایاں طور پر دیکھے جا رہے ہیں۔
’لُوچے‘نامی اس نئی الیکٹرک گاڑی کو معروف ڈیزائنر سر جونی آئیو کے تخلیقی وژن کے تحت تیار کیا گیا ہے۔ اطالوی زبان میں ’لُوچے‘ کا مطلب ’روشنی‘ ہے۔ تاہم، گاڑی کا ڈیزائن اور مجموعی تصور صارفین اور ناقدین کی توقعات پر پورا نہ اتر سکا۔
فراری کی تاریخ میں پہلی بار متعارف کرائی گئی پانچ نشستوں والی اس الیکٹرک گاڑی کو غیرمعمولی کارکردگی کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔
کمپنی کے مطابق یہ گاڑی محض ڈھائی سیکنڈ میں صفر سے 96 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار حاصل کر سکتی ہے۔ اس کی قیمت 6 لاکھ 40 ہزار ڈالر، یعنی پاکستانی کرنسی میں تقریباً 18 کروڑ روپے رکھی گئی ہے۔
گاڑی کی تقریبِ رُونمائی میں اٹلی کی اہم شخصیات سمیت ملک کے صدر اور عیسائی برادری کے روحانی پیشوا پوپ لیو کو بھی مدعو کیا گیا تھا۔ تاہم، شاندار تقریب کے باوجود مارکیٹ کا ردِعمل فراری کے لیے حوصلہ افزا ثابت نہ ہو سکا۔
رونمائی کے صرف ایک دن بعد ہی کمپنی کے شیئرز کی قیمت میں آٹھ فی صد تک کمی ریکارڈ کی گئی، جسے سرمایہ کاروں کی مایوسی اور مارکیٹ کے منفی ردِعمل کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب ناقدین، سرمایہ کاروں اور بعض سیاسی شخصیات نے بھی گاڑی کے ڈیزائن اور تصور پر سوالات اٹھائے ہیں، جبکہ سوشل میڈیا پر اس کے منفرد انداز کو لے کر ملا جلا ردِعمل سامنے آ رہا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ الیکٹرک گاڑیوں کی بڑھتی ہوئی عالمی مارکیٹ میں فراری کا یہ قدم تاریخی ضرور ہے، مگر کمپنی کو روایتی اسپورٹس کار کے شوقین صارفین کو قائل کرنے کے لیے مزید محنت کرنا پڑ سکتی ہے۔