Islam Times:
2026-07-23@23:28:11 GMT

سانحہ گل پلازہ، تحقیقاتی کمیشن نے عوام سے شواہد مانگ لیے

اشاعت کی تاریخ: 11th, February 2026 GMT

سانحہ گل پلازہ، تحقیقاتی کمیشن نے عوام سے شواہد مانگ لیے

سانحہ گل پلازہ سے متعلق معلومات رکھنے والے افراد ای میل کے ذریعے کمیشن سے رجوع کر سکتے ہیں، جبکہ واقعے سے متعلق حقائق، واقعاتی معلومات جوڈیشل کمیشن کو فراہم کی جا سکتی ہیں۔ اسلام ٹائمز سانحہ گل پلازہ کراچی کی تحقیقات کیلئے جوڈیشل کمیشن نے پبلک نوٹس جاری کرتے ہوئے عوام سے واقعے سے متعلق شواہد مانگ لیے۔ تفصیلات کے مطابق سانحہ گل پلازہ کی تحقیقات کیلئے قائم جوڈیشل کمیشن کا پہلا اجلاس جسٹس آغا فیصل سربراہی میں ہوا۔ جس میں کمشنر کراچی، سیکریٹری قانون و داخلہ کی شرکت کی۔ جوڈیشل کمیشن نے سانحے کی تحقیقات سے متعلق پبلک نوٹس جاری کر دیا۔ پبلک نوٹس میں کمیشن کے ٹی او آر بھی شامل کیے ہیں۔ کمیشن کی جانب سے سانحہ گل پلازہ سے متعلق عام عوام سے شواہد طلب کرلیے۔ پبلک نوٹس میں کہا گیا ہے کہ کسی بھی شہری کے پاس سانحہ سے متعلق اہم معلومات ہوں تو کمیشن سے رابط کر سکتا ہے۔

کمیشن نے پریس انفارمیشن ڈپارٹمنٹ کو پبلک نوٹس اخبارات میں شائع کروانے کی ہدایت کی اور کہا کہ سانحہ گل پلازہ سے متعلق معلومات رکھنے والے افراد ای میل کے ذریعے کمیشن سے رجوع کر سکتے ہیں، جبکہ واقعے سے متعلق حقائق، واقعاتی معلومات جوڈیشل کمیشن کو فراہم کی جا سکتی ہیں۔ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ جوڈیشل کمیشن سے 20 فروری سے قبل ای میل gpi-coi@shc.

gov.com سے ذریعے رجوع کیا جا سکتا ہے۔ چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ جسٹس ظفر احمد راجپوت نے کمیشن کیلئے سیکریٹریٹ فراہم کر دیا، جو سندھ ہائیکورٹ میں ہی قائم کیا گیا ہے۔ جوڈیشل کمیشن کے جج جسٹس آغا فیصل نے کمشنر کراچی کو اسٹاف نوٹیفائی کرنے کی ہدایت کر دی، جس میں رجسٹرار کمیشن، فوکل پرسن، ماہرین شامل ہوں گے۔

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: سانحہ گل پلازہ جوڈیشل کمیشن پبلک نوٹس

پڑھیں:

کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن)سینیٹر سرمد علی کی قائم مقام صدارت میں پی ٹی وی ہیڈ کوارٹر اسلام آباد میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس منعقد ہوا جس میں این سی سی آئی اے کی جانب سے سوشل میڈیا کے اعداد و شمار اور میٹا  کی جانب سے قابلِ اعتراض مواد ہٹانے کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔ این سی سی آئی اے نے واضح کیا کہ اس سے قبل کمیٹی کو جو اعداد و شمار فراہم کیے گئے تھے، وہ میٹا کے عوامی سطح پر دستیاب ڈیٹا پر مبنی تھے۔ کمیٹی نے اس وضاحت کو قبول کیا اور تصدیق شدہ حقائق کی بنیاد پر ذمہ دارانہ رپورٹنگ کی ضرورت پر زور دیا۔
کمیٹی نے بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ متنازعہ ریمارکس پر ایک اخبار کے کالم نگار کو نوٹس جاری کرنے کے معاملے کا بھی جائزہ لیا۔ این سی سی آئی اے نے کمیٹی کو بتایا کہ یہ نوٹس پاس (PAS) افسران ایسوسی ایشن کے صدر کی طرف سے درج کرائی گئی شکایات کے بعد صرف کالم نگار کا مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا۔ مزید آگاہ کیا گیا کہ پیکا کے تحت کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، کالم نگار نے تاحال نوٹس کا جواب نہیں دیا، اور یہ مضمون اخبار کے ای پیپر سے ہٹا دیا گیا ہے، اگرچہ یہ کالم نگار کے فیس بک پیج پر اب بھی دستیاب ہے۔

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے

بحث کے دوران اراکین نے پارلیمنٹ میں دی گئی حکومت کی اس یقین دہانی کو دہرایا کہ پیکا کا استعمال اخبارات اور ٹیلی ویژن کی ویب سائٹس یا ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے خلاف نہیں کیا جائے گا کیونکہ ان کے منظم کردہ مواد کو بالترتیب پریس کونسل اور پیمرا کنٹرول کرتے ہیں۔ سینیٹر پرویز رشید نے اس بات پر زور دیا کہ حقائق واضح کرنے کے لیے کالم نگار کو نوٹس کا جواب دینے کا کہا جائے۔ کمیٹی نے متفقہ طور پر مشاہدہ کیا کہ ہر فرد کی عزت اور تقدس کا احترام کیا جانا چاہیے۔ مشاورت کے بعد، قائم مقام چیئرمین نے این سی سی آئی اے کو ہدایت کی کہ وہ شکایت اور شکایات کنندہ دونوں کو پریس کونسل آف پاکستان کے پاس بھیجیں، جو کہ شائع شدہ کالم کا جائزہ لینے اور اس معاملے پر فیصلہ کرنے والا مناسب فورم ہے۔
کمیٹی نے صوبائی حکام سے پیکا کے مقدمات کی این سی سی آئی اے کو منتقلی کا بھی جائزہ لیا۔ سینیٹر وقار مہدی کے سوال پر این سی سی آئی اے کے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ سندھ سے اب تک صرف نو مقدمات منتقل کیے گئے ہیں، جبکہ دیگر صوبوں میں مقدمات کی منتقلی کا عمل ابھی باقی ہے۔ تفصیلی غوروخوض کے بعد، سینیٹر سرمد علی نے ہدایت کی کہ تمام متعلقہ صوبائی حکام کو خطوط بھیجے جائیں تاکہ عمل درآمد کے لیے سینیٹ کی ذیلی کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کی سفارشات اور رپورٹ کے ساتھ زیر التوا مقدمات کی منتقلی کو تیز کیا جا سکے۔

پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے

مزید :

متعلقہ مضامین

  • کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
  • خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات مرحلہ وار ہونے کا امکان
  • سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
  • پٹرولیم قیمتوں کے روزانہ تعین پر سینیٹ میں توجہ دلاؤ نوٹس جمع
  • فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کیلیے کینیڈا جانیوالے 175 غیر ملکیوں نے سیاسی پناہ مانگ لی
  • آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • محسن نقوی کی مستونگ کے قریب  سیشن جج اور جوڈیشل مجسٹریٹ پر فائرنگ کی پرزور مذمت
  • پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کاروزانہ تعین ; سینٹ میں توجہ دلاؤ نوٹس جمع
  • سرکاری دفاتر میں حاضری اور وقت کی پابندی سے متعلق نئی ہدایات جاری