پنجاب میں 18 سال سے کم عمر لڑکے یا لڑکی کا نکاح کرانا اب ناممکن، اہم قانون سازی ہوگئی
اشاعت کی تاریخ: 12th, February 2026 GMT
پنجاب حکومت نے کم عمری کی شادیوں کے خلاف سخت اقدامات کرتے ہوئے چائلڈ میرج آرڈیننس 2026 میں اہم ترمیم منظور کر لی ہے، جس کے تحت 11 فروری 2026 کے بعد کسی بھی ایسے لڑکے یا لڑکی کا نکاح نہیں کروایا جا سکے گا جس کی عمر 18 سال سے کم ہو۔
یہ بھی پڑھیں: ’جب میاں بیوی راضی ہیں تو ۔۔۔‘ چائلڈ میرج ایکٹ کے تحت گرفتار ملزم کی ضمانت
ترمیم کے مطابق قانون کی خلاف ورزی کی صورت میں نکاح رجسٹرار اور بچوں کے والدین یا سرپرستوں کے خلاف فوری سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی اور مقدمہ بھی درج کیا جائے گا۔
حکام کے مطابق کم عمر افراد کا نکاح پڑھانے والے نکاح رجسٹرار کا لائسنس منسوخ کر دیا جائے گا، جبکہ نکاح رجسٹرار اور گھر والے دونوں فریقین کو الگ الگ 5 لاکھ روپے جرمانہ اور 2 سے 3 سال قید کی سزا بھی ہو گی۔
یہ بھی پڑھیں: مریم نواز سے ’سکھ آف امریکا‘ کے وفد کی ملاقات، سکھ میرج ایکٹ کے نفاذ کو سراہا
صوبائی حکومت کا کہنا ہے کہ ان ترامیم کا مقصد کم عمری کی شادیوں کی حوصلہ شکنی کرنا اور بچوں کے بنیادی حقوق کا تحفظ یقینی بنانا ہے۔ حکومت کے مطابق اس قانون پر سختی سے عملدرآمد کیا جائے گا تاکہ معاشرے میں اس سماجی برائی کا خاتمہ کیا جا سکے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news پاکستان پنجاب حکومت چائلڈ میرج قانون سازی کم عمر شادی لاہور نکاح.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پاکستان پنجاب حکومت چائلڈ میرج لاہور نکاح
پڑھیں:
لاہور میں گینگ ریپ کی شکار 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جاں بحق
لاہور ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) لاہور کے علاقے ماڈل ٹاؤن میں مبینہ زیادتی کا شکار ہونے والی 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جان کی بازی ہار گئی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق لاہور کے علاقہ ماڈل ٹاؤن کے ایک گھر میں ملازمہ کے طور پر کام کرنے والی 18 سالہ لڑکی مبینہ طور پر گینگ ریپ اور بعد ازاں غیر قانونی طبی طریقہ کار کے باعث زندگی کی بازی ہار گئی ہے، متوفیہ نے ہسپتال میں دم توڑنے سے قبل اپنے بیانات ریکارڈ کرادیئے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ لڑکی کا حمل ضائع کرنے کے لیے اسے پہلے رائے ونڈ کے ایک نجی کلینک لے جایا گیا، جہاں حالت بگڑنے پر اسے سروسز ہسپتال منتقل کیا گیا، وہ دو روز تک سروسز ہسپتال میں زیرِ علاج رہنے کے بعد دم توڑ گئی، متاثرہ لڑکی نے اپنے تحریری اور ویڈیو بیانات میں مکان مالک کے بیٹے اور ڈرائیور پر اجتماعی زیادتی کا سنگین الزام عائد کیا تھا، بعد میں مبینہ دباؤ کے تحت لڑکی نے اپنے بیان میں تبدیلی کی اور اپنے آخری بیان میں صرف ڈرائیور کو ہی نامزد کیا۔(جاری ہے)
پولیس نے بتایا کہ لڑکی کے ابتدائی بیانات کی روشنی میں گینگ ریپ کا مقدمہ درج کیا گیا تھا، تاہم اس کی موت کے بعد مقدمے میں باقاعدہ طور پر قتل کی دفعات بھی شامل کر دی گئی ہیں، ایک نامزد ملزم ڈرائیور کو گرفتار کرکے جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا ہے، قتل کی دفعات شامل ہونے کے بعد کیس کی تفتیش جینڈر سیل سے تبدیل کرکے انویسٹی گیشن ونگ کے سپرد کر دی گئی ہے، پولیس نے گھر کے مالکان سمیت ان تمام افراد کو دوبارہ شاملِ تفتیش کرنے کے لیے نوٹسز جاری کر دیئے ہیں جنہیں پہلے کلیئر کر دیا گیا تھا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ضابطہ فوجداری کی دفعہ 164 کے تحت ریکارڈ کیے گئے بیانات کا دوبارہ باریک بینی سے جائزہ لیا جائے گا، متوفیہ کا پوسٹ مارٹم مکمل کر لیا گیا ہے اور موت کی اصل وجہ رپورٹ آنے کے بعد واضح ہوگی، اگر رائے ونڈ کے نجی کلینک کی جانب سے غفلت یا غیر قانونی طریقہ کار کے شواہد ملے تو اس کے خلاف بھی سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔