ویزا سختیاں یا نظام کی ناکامی؟ بیرون ملک جانے والے بھارتی طلبہ کی تعداد میں بڑی کمی
اشاعت کی تاریخ: 13th, February 2026 GMT
بھارت سے بیرونِ ملک اعلیٰ تعلیم کے لیے جانے والے طلبہ کی تعداد میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق گزشتہ تین برسوں میں غیر ملکی تعلیمی اداروں کا رخ کرنے والے طلبہ کی تعداد میں تقریباً 31 فیصد تک کمی آئی ہے۔
بھارتی جریدے NDTV کے مطابق بیرونِ ملک جانے والے طلبہ کی تعداد میں مسلسل کمی دیکھنے میں آ رہی ہے۔ جبکہ اخبار The Tribune نے رپورٹ کیا ہے کہ تین سال کے دوران یہ تعداد 9 لاکھ 8 ہزار سے کم ہو کر 6 لاکھ 26 ہزار رہ گئی ہے۔
یہ اعداد و شمار بھارتی وزیر تعلیم نے راجیہ سبھا میں ایک تحریری سوال کے جواب میں پیش کیے، جس میں بیرونِ ملک تعلیم حاصل کرنے والے بھارتی طلبہ کے رجحان میں کمی کی تصدیق کی گئی۔
ماہرین تعلیم کا کہنا ہے کہ ویزا پالیسیوں میں سختی، جعلی ڈگریوں کے اسکینڈلز اور بعض ممالک میں بھارتی نیٹ ورکس سے متعلق خدشات کے باعث طلبہ کو مشکلات کا سامنا ہے۔
ان کے مطابق امریکا کے ایچ ون ویزا پروگرام سے فائدہ اٹھانے والے بھارتی نوجوان بھی حالیہ برسوں میں سخت شرائط اور غیر یقینی صورتحال کی وجہ سے پریشان ہیں۔
تعلیمی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر سفارتی اور تعلیمی پالیسیوں میں بہتری نہ لائی گئی تو بھارتی طلبہ کے لیے عالمی تعلیمی مواقع مزید محدود ہو سکتے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: طلبہ کی تعداد میں
پڑھیں:
بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
اسلام آباد، نئے مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں کم از کم ماہانہ اجرت یا تنخواہ (minimum wages monthly)کے تعین کے حوالے سے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈیویلپمنٹ اکنامکس (پائیڈ) نے اہم سفارشات پیش کر دی ہیں۔
پائیڈ نے مالی سال 2026-27 کیلئے کم از کم ماہانہ اجرت 40 ہزار روپے سے بڑھا کر 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز دی ہے، جو موجودہ کم از کم اجرت کے مقابلے میں 12.5 فیصد اضافے کے برابر ہے۔
ادارے نے کم از کم اجرت کے تعین کیلئے شفاف اور سائنسی بنیادوں پر مبنی نظام تجویز کرتے ہوئے کہا ہے کہ اجرت کا تعلق غربت، مہنگائی اور عوام کی قوتِ خرید سے براہِ راست جڑا ہوا ہے۔
سفارشات کے مطابق سندھ میں کم از کم ماہانہ اجرت 46 ہزار روپے، پنجاب اور خیبرپختونخوا میں 45 ہزار روپے جبکہ بلوچستان میں 45 ہزار 500 روپے مقرر کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
پائیڈ نے کم از کم اجرت کے نفاذ کو مرحلہ وار یقینی بنانے کی سفارش کرتے ہوئے کہا ہے کہ سرکاری ٹھیکوں اور آؤٹ سورس خدمات میں کم از کم اجرت پر عملدرآمد کو لازمی قرار دیا جانا چاہیے۔
ادارے کے مطابق پاکستان میں 80 فیصد سے زائد روزگار غیر رسمی شعبے میں ہونے کے باعث کم از کم اجرت کے قانون پر عملدرآمد ایک بڑا چیلنج ہے۔
پائیڈ نے یہ بھی تجویز دی ہے کہ تمام صوبے سالانہ کم از کم اجرت پر عملدرآمد کی رپورٹ جاری کریں تاکہ نظام کی نگرانی اور مؤثر جائزہ ممکن ہو سکے۔رپورٹ کے مطابق مجوزہ فریم ورک پلاننگ کمیشن کو غور کیلئے بھجوا دیا گیا ہے۔
مزید پڑھیں:سانحہ اٹلی، جاں بحق افراد کی شہریت کی تصدیق تاحال نہیں ہو سکی، دفتر خارجہ
پائیڈ کا کہنا ہے کہ کم از کم اجرت کا نظام محض سالانہ اعلان تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ اسے مؤثر طرزِ حکمرانی، نگرانی اور عملدرآمد کے نظام سے جوڑا جانا ضروری ہے۔