کوئٹہ، بازیاب ڈی سی نوشکی محمد حسین سے سیاسی شخصیات کی ملاقات
اشاعت کی تاریخ: 13th, February 2026 GMT
شہر کی مختلف شخصیات نے کوئٹہ میں ڈی سی نوشکی کی رہائشگاہ میں ان ملاقات کیں اور انکی خیر و عافیت دریافت کی۔ اسلام ٹائمز۔ بلوچستان میں 31 جنوری کو ہونے والے حملوں کے دوران نوشکی سے اغواء ہونے والے ڈپٹی کمشنر محمد حسین ہزارہ کی بازیابی کے بعد کوئٹہ شہر کی مختلف سیاسی، سماجی و مذہبی شخصایت کی ملاقاتوں کا سلسلہ جاری ہے۔ آج کوئٹہ میں ڈی سی نوشکی محمد حسین کی رہائشگاہ پر ان سے شیعہ علماء کونسل کے مرکزی رہنماء اکبر حسین زاہدی، مجلس وحدت مسلمین کوئٹہ کے رہنماؤں حاجی غلام حسین اخلاقی، محمد یونس ہزارہ اور فرید حسین، بلوچستان شیعہ کانفرنس کے حاجی محمد جواد رفیعی، بلوچستان نیشنل پارٹی کے مبارک ہزارہ سمیت مختلف شخصیات نے ملاقاتیں کیں اور ان کی خیر و عافیت دریافت کی۔ واضح رہے کہ نوشکی میں ڈی سی آفس پر کالعدم تنظیم کے حملے کے دوران ڈی سی نوشکی کو اغواء کر لیا گیا تھا، تاہم بعد ازاں انہیں بازیاب کروا لیا گیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: ڈی سی نوشکی
پڑھیں:
پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
گلگت: گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے کے ایک اہم واقعے نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنماؤں کے خلاف ہونے والی اس کارروائی نے ملکی سیاست میں ایک نئی صورتحال پیدا کر دی ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ، شوکت بسرا، نعیم پنجوتھہ اور ظہیر بابر کو دیامر پولیس نے گلگت بلتستان کی حدود سے باہر منتقل کر دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ کارروائی کے بعد ان رہنماؤں کو خیبر پختونخوا کی حدود میں چھوڑ دیا گیا۔
تاحال پولیس یا ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اس اقدام کی وجوہات کے حوالے سے کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی۔ تاہم سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت کے اثرات آنے والے دنوں میں مزید نمایاں ہو سکتے ہیں۔
گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے والے رہنماؤں کے حوالے سے مختلف سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کی جانب سے ردعمل کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے۔ بعض حلقے اس کارروائی کو سیاسی سرگرمیوں پر قدغن قرار دے رہے ہیں جبکہ دیگر اس کے پس منظر میں سکیورٹی یا انتظامی وجوہات کا امکان ظاہر کر رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق واقعے کے مزید حقائق سامنے آنے کے بعد صورتحال مزید واضح ہو سکے گی۔ اس دوران سیاسی کارکنوں اور عوامی حلقوں کی نظریں حکام کے ممکنہ مؤقف اور آئندہ پیش رفت پر مرکوز ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر اس معاملے پر تفصیلی وضاحت سامنے نہ آئی تو یہ معاملہ مزید سیاسی تنازع کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔