کوئٹہ، بازیاب ڈی سی نوشکی محمد حسین سے سیاسی شخصیات کی ملاقات
اشاعت کی تاریخ: 13th, February 2026 GMT
شہر کی مختلف شخصیات نے کوئٹہ میں ڈی سی نوشکی کی رہائشگاہ میں ان ملاقات کیں اور انکی خیر و عافیت دریافت کی۔ اسلام ٹائمز۔ بلوچستان میں 31 جنوری کو ہونے والے حملوں کے دوران نوشکی سے اغواء ہونے والے ڈپٹی کمشنر محمد حسین ہزارہ کی بازیابی کے بعد کوئٹہ شہر کی مختلف سیاسی، سماجی و مذہبی شخصایت کی ملاقاتوں کا سلسلہ جاری ہے۔ آج کوئٹہ میں ڈی سی نوشکی محمد حسین کی رہائشگاہ پر ان سے شیعہ علماء کونسل کے مرکزی رہنماء اکبر حسین زاہدی، مجلس وحدت مسلمین کوئٹہ کے رہنماؤں حاجی غلام حسین اخلاقی، محمد یونس ہزارہ اور فرید حسین، بلوچستان شیعہ کانفرنس کے حاجی محمد جواد رفیعی، بلوچستان نیشنل پارٹی کے مبارک ہزارہ سمیت مختلف شخصیات نے ملاقاتیں کیں اور ان کی خیر و عافیت دریافت کی۔ واضح رہے کہ نوشکی میں ڈی سی آفس پر کالعدم تنظیم کے حملے کے دوران ڈی سی نوشکی کو اغواء کر لیا گیا تھا، تاہم بعد ازاں انہیں بازیاب کروا لیا گیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: ڈی سی نوشکی
پڑھیں:
اسرائیل میں نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر تنقید میں اضافہ
تجزیہ کاروں کے مطابق نیتن یاہو کے بعض خفیہ سیاسی مقاصد بھی تھے، وہ بیروت میں فوجی کارروائیوں کے ذریعے امریکہ اور ایران کے درمیان جاری مذاکراتی عمل کو ناکام بنانا چاہتے تھے، اسی تناظر میں امریکی صدر ٹرمپ نے نیتن یاہو سے رابطہ کیا اور انہیں ممکنہ نتائج سے آگاہ کرتے ہوئے دباؤ ڈالا۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیل میں وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر مسلسل تنقید میں اضافہ ہو رہا ہے۔ الجزیرہ ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی سیاست دانوں اور مختلف ذرائع ابلاغ کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بنیامین نیتن یاہو قومی اہداف کی بجائے سیاسی مفادات اور اقتدار کے تحفظ کو ترجیح دے رہے ہیں۔ اسرائیلی میڈیا میں اظہار خیال کرنے والے مبصرین نے کہا کہ بہت سے اسرائیلی شہری اور سیاسی حلقے توقع کر رہے تھے کہ نیتن یاہو ایسے اقدامات کریں گے، جنہیں وہ اسرائیل کے تزویراتی مقاصد کے حصول کیلئے ضروری سمجھتے ہیں، تاہم ان کی حالیہ پالیسیوں نے ان توقعات کو پورا نہیں کیا۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ انہوں نے ایک بار پھر ریاستی مفادات کے بجائے اپنی سیاسی بقا کو ترجیح دی، تجزیہ کاروں کے مطابق نیتن یاہو کے بعض خفیہ سیاسی مقاصد بھی تھے، وہ بیروت میں فوجی کارروائیوں کے ذریعے امریکہ اور ایران کے درمیان جاری مذاکراتی عمل کو ناکام بنانا چاہتے تھے، اسی تناظر میں امریکی صدر ٹرمپ نے نیتن یاہو سے رابطہ کیا اور انہیں ممکنہ نتائج سے آگاہ کرتے ہوئے دباؤ ڈالا۔