نقصان میں چلنے والے 15 حکومتی ادارے، ایک سال کے دوران 833 ارب خسارہ، این ایچ اے سرفہرست
اشاعت کی تاریخ: 14th, February 2026 GMT
اسلام آباد (نوائے وقت رپورٹ) وزارت خزانہ نے نقصان میں چلنے والے حکومتی اداروں کی فہرست جاری کر دی۔ فہرست کے مطابق حکومتی کمپنیوں نے 2024-25ء میں خزانے کو 833 ارب روپے کا نقصان پہنچایا۔ مالی سال 2025-26ء میں نیشنل ہائی وے اتھارٹی کو 295 ارب روپے کا نقصان ہوا۔ کوئٹہ الیکٹرک سپلائی کمپنی کو 112 ارب 70 کروڑ روپے کا نقصان ہوا۔ لیسکو کو 92 ارب 70 کروڑ روپے اور ریلوے کو 60 ارب روپے کا نقصان ہوا۔ پاکستان سٹیل مل کو 26 ارب، سیپکو 25 ارب 31 کروڑ کا نقصان ہوا۔ نیشنل پاور پارکس کمپنی 46 ارب، نیلم جہلم پاور کمپنی کو 29 ارب 40 کروڑ روپے کا نقصان پہنچا۔ پاکستان پوسٹ کو 19 ارب 30 کروڑ روپے کا نقصان ہوا۔ پاسکو کو 19 ارب، حیسکو کو 13 ارب، لیسکو 12 ارب 70 کروڑ روپے کے نقصانات ہوئے۔ جنکو ٹو کو 10 ارب، نیشنل انشورنس کارپوریشن کو 3 ارب کے نقصانات ہوئے۔ سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی کو 2 ارب روپے کے نقصانات ہوئے۔ جبکہ مالی سال 2024-25ء میں آئل اینڈ گیس ڈویلپمنٹ کمپنی کو 170 ارب روپے کا منافع ہوا۔ پاکستان پٹرولیم کو 90 ارب روپے، واپڈا کو 56 ارب 70 کروڑ روپے کا منافع ہوا۔ گورنمنٹ ہولڈنگ کو 48 ارب، کراچی پورٹ ٹرسٹ کو 35 ارب 50 کروڑ روپے منافع ہوا۔ پورٹ قاسم کو 35 کروڑ روپے کا منافع ہوا۔ واضح رہے کہ مالی سال 2023-24ء میں حکومتی ملکیتی اداوں کو 851 ارب روپے کا مجموعی نقصان ہوا تھا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: روپے کا نقصان ہوا ارب 70 کروڑ روپے کروڑ روپے کا ارب روپے کا منافع ہوا
پڑھیں:
حکومت کا چینی شہریوں کیلئے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
حکومتِ پاکستان نے چینی شہریوں کی سیکیورٹی کو مزید مؤثر بنانے کے لیے تقریباً 9 کروڑ 50 لاکھ روپے مالیت کی نئی بلٹ پروف ٹویوٹا لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ کر لیا۔سرکاری دستاویزات کے مطابق 95.049 ملین روپے مالیت کی یہ گاڑی چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) سیکرٹریٹ کے استعمال کے لیے حاصل کی جائے گی تاکہ چینی وفود، ماہرین اور دیگر اہم شخصیات کو محفوظ سفری سہولت فراہم کی جا سکے۔وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کا کہنا ہے کہ چینی شہریوں کا تحفظ حکومتِ پاکستان کی اولین ترجیح ہے، اسی مقصد کے تحت نئی بلٹ پروف گاڑی خریدی جا رہی ہے۔دستاویزات کے مطابق یہ گاڑی پہلے سے موجود بلٹ پروف گاڑیوں اور کم از کم دو ہیلی کاپٹروں کے علاوہ ہوگی، جنہیں مختلف سرکاری ادارے چینی شہریوں کی سکیورٹی کے لیے استعمال کر رہے ہیں یا جن کی خریداری کا عمل جاری ہے۔سی پیک سیکرٹریٹ نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ کابینہ ڈویژن کے محدود گاڑیوں کے بیڑے کے باعث بروقت بلٹ پروف گاڑیاں دستیاب نہیں ہوتیں، جس سے اہم سرکاری ملاقاتوں، غیر ملکی وفود کے دوروں اور اجلاسوں میں تاخیر یا بعض اوقات منسوخی کی صورتحال پیدا ہو جاتی ہے۔دستاویزات میں کہا گیا ہے کہ نجی مارکیٹ سے بلٹ پروف گاڑیاں کرائے پر حاصل کرنا نہ صرف غیر یقینی بلکہ انتہائی مہنگا بھی ثابت ہوتا ہے، جس سے قومی خزانے پر اضافی مالی بوجھ پڑتا ہے۔حکومت نے پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (PPRA) رول 42(c)(vii) کے تحت براہِ راست معاہدے کے ذریعے گاڑی خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔حکومت کو تین ٹویوٹا ڈیلرز کی جانب سے قیمتیں موصول ہوئیں، جن میں ٹویوٹا سینٹرل موٹرز نے 95.049 ملین روپے، ٹویوٹا پورٹ قاسم نے 95.25 ملین روپے اور ٹویوٹا سوسائٹی نے 95.45 ملین روپے کی پیشکش کی، حکومت نے سب سے کم بولی دینے والی ٹویوٹا سینٹرل موٹرز کی پیشکش منظور کر لی۔دستاویزات کے مطابق سی پیک سیکرٹریٹ کے پاس گاڑی کی خریداری کے لیے مطلوبہ فنڈز دستیاب نہیں تھے، جس کے بعد وزارتِ منصوبہ بندی نے مختلف منصوبوں سے 5 کروڑ 83 لاکھ روپے منتقل کرنے کا فیصلہ کیا، تاہم مالی سال کے اختتام تک ضروری منظوری نہ ملنے کے باعث خریداری کا آرڈر جاری نہیں ہو سکا۔وزارت نے فنڈز کی فراہمی کے لیے مختلف منصوبوں سے رقم مختص کی، جن میں سینٹر فار ایکسی لینس برائے سی پیک سے ایک کروڑ 88 لاکھ روپے، وفاقی ایس ڈی جیز پروگرام سے 91 لاکھ روپے، مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن منصوبے سے ایک کروڑ 10 لاکھ روپے اور پالیسی ریسرچ گرانٹس پروگرام سے ایک کروڑ 60 لاکھ روپے شامل ہیں، ان فنڈز میں 62 لاکھ روپے وہ بھی شامل تھے جو کنٹریکٹ ملازمین کی ادائیگی کے لیے مختص کیے گئے تھے۔