میونخ کی بے چینی امریکہ یورپ تعلقات کی پیچیدہ صورتحال کی عکاسی کرتی ہے، سی جی ٹی این سروے WhatsAppFacebookTwitter 0 14 February, 2026 سب نیوز

رواں سال کی میونخ سیکیورٹی رپورٹ امریکہ کو بین الاقوامی نظام میں براہ راست “سب سے زیادہ خلل ڈالنے والے” کے طور پر بیان کرتی ہے۔ چائنا میڈیا گروپ کے سی جی ٹی این کی طرف سے دنیا بھر میں انٹرنیٹ صارفین سے کیے گئے ایک سروے کے مطابق 81.

4فیصد جواب دہندگان کا کہنا ہے کہ سلامتی، تجارت اور مشترکہ اقدار جیسے شعبوں میں امریکہ اور یورپ کے درمیان عدم استحکام پیدا ہوا ہے ۔ 88.4 فیصد جواب دہندگان کا خیال ہے کہ یورپی یونین کے خلاف ٹیرف کی امریکی دھمکی اور اسے فوجی اخراجات میں نمایاں اضافہ کرنے پر مجبور کرنے سے لے کر

یوکرین کے مسئلے پر مذاکرات کی میز سے یورپی ممالک کو باہر کرنے اور گرین لینڈ کو زبردستی حاصل کرنے کے امریکی اقدامات سے یورپی ممالک کے مفادات کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ 82.1 فیصد جواب دہندگان کا خیال ہے کہ امریکہ یورپ تعلقات کو مساوات، خود مختاری اور ذمہ داری کے اصولوں پر ہونا چاہیے۔میونخ سیکورٹی انڈیکس سے پتہ چلتا ہے کہ جی 7 ممالک سمیت بہت سے ممالک کا ماننا ہے کہ امریکہ کی طرف سے لاحق عالمی خطرات گزشتہ سال کے مقابلے زیادہ شدید ہیں۔ سروے میں، 89.2 فیصد جواب دہندگان نے اس بات پر اتفاق کیا کہ امریکہ کی وجہ سے عالمی خطرات مزید بڑھ گئے ہیں۔ 87.1 فیصد جواب دہندگان نے نشاندہی کی کہ امریکہ کی زیر قیادت بین الاقوامی گورننس پر انحصار جاری رکھنے سے عالمی ترقی کے بحران میں مزید اضافہ ہو گا۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرسپریم کورٹ میں عمران خان کے 6، بشری بی بی اور شاہ محمود قریشی کا ایک ایک کیس سماعت کیلئے مقرر اگلی خبرامریکا کا ایران پر دباؤ بڑھانے کیلیے مشرقِ وسطیٰ میں دنیا کا سب سے بڑا بحری بیڑہ تعینات کرنےکا اعلان عمران خان کی آنکھ کا معاملہ، علیمہ خان پھٹ پڑیں، سخت ردعمل میزائل پروگرام ریڈ لائن ہے، ایران کا ایک بار پھر اس پر کسی قسم کے مذاکرات سے انکار عمران خان کی صحت پر سیاست کروں گا نہ کسی کو کرنے دوں گا، وزیراعلیٰ پختونخوا جنسی زیادتی میں ملوث ایپسٹین نے خودکشی نہیں کی، ممکنہ طورپرانکا گلادبایا گیا، ڈاکٹر کا دعویٰ بجلی کی قیمتوں میں تبدیلی کا بوجھ کم آمدنی والے پاکستانیوں پر نہ ڈالے: آئی ایم ایف سری لنکا کے 78ویں یومِ آزادی پر اسلام آباد میں شاندار استقبالیہ، وفاقی وزیر عطا اللہ تارڑ مہمانِ خصوصی TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2025, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہماری ٹیم

ذریعہ

ذریعہ: Daily Sub News

پڑھیں:

سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی سے مشروط کردیا۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہام معاہدوں  میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک ’’تاریخی جست‘‘ ثابت ہوگی۔

نیتن یاہو نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ سعودی عرب کی ابراہام معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام اور تعاون کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔

خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے سول جوہری پروگرام کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔

کچھ دیر قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودیہ ابراہام معاہدوں میں شامل نہیں ہوجاتا۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

یاد ہے کہ ایک روز قبل جب جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب کے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے نہیں جوڑا تھا تاہم بعد میں انھوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔

ادھر سعودی حکومت نے تاحال صدر ٹرمپ کے تازہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا تاہم ریاض متعدد مواقع پر واضح کرچکا ہے کہ وہ اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ عمل اور واضح راستہ موجود نہ ہو۔

سعودی عرب کا مؤقف رہا ہے کہ 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد فلسطینی ریاست کا قیام، مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنانا اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کا تحفظ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔

ابراہام معاہدے کیا ہیں؟

ابراہام معاہدے 2020 میں امریکی ثالثی کے تحت طے پائے تھے جن کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔ بعد ازاں قازقستان نے بھی معاہدے کی حمایت کا اعلان کیا تاہم سعودی عرب اب تک اس کا حصہ نہیں بنا۔

ان معاہدوں کا مقصد اسرائیل کے عرب و مسلم ممالک کے ساتھ سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا تھا لیکن غزہ جنگ اور فلسطینی مسئلے کے باعث سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا عمل روک رکھا ہے۔

 

متعلقہ مضامین

  • انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا جواب شدید اور وسیع ہوگا، ایران
  • پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
  • سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • علی الزیدی کا ایران کا اہم دورہ، دوطرفہ تعلقات بڑھانے پر اتفاق
  • مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال قابو سے باہر، فوری جنگ بندی ضروری ہے، انتونیو گوتریس
  • بلاول کے پنجاب کے شہروں کی صورتحال پر سوالات، مریم اورنگزیب نے ویڈیو جاری کرکے جواب دیدیا
  • حملہ ہوا تو خلیج میں امریکہ سے منسلک پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنائیں گے، ایران
  • پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم