ڈھاکا: بنگلادیش میں حالیہ عام انتخابات کے بعد جماعت اسلامی کی قیادت میں قائم اتحاد نے 32 حلقوں کے نتائج کو چیلنج کرتے ہوئے الیکشن کمیشن میں باضابطہ شکایات جمع کرا دی ہیں۔

جمعرات کو ہونے والے انتخابات میں بی این پی نے واضح اکثریت حاصل کی۔ الیکشن کمیشن کے مطابق بی این پی اتحاد نے 212 نشستیں جیتیں، جبکہ جماعت اسلامی کی قیادت والے اتحاد کو 77 نشستیں ملیں۔

بی این پی کے سربراہ طارق رحمان کی کامیابی کے بعد وہ ملک کے اگلے وزیر اعظم بننے جا رہے ہیں۔ نومنتخب ارکانِ پارلیمنٹ کی حلف برداری منگل کو متوقع ہے۔

جماعت اسلامی کے امیر شفیق الرحمان نے ہفتے کے روز شکست تسلیم کرتے ہوئے کہا تھا کہ ان کی جماعت پارلیمنٹ میں بااصول اور پُرامن اپوزیشن کا کردار ادا کرے گی۔ تاہم اتوار کو جماعت کے رہنماؤں نے 32 حلقوں میں مبینہ بے ضابطگیوں کی شکایات جمع کرائیں۔

مزید پڑھیں

بنگلادیشی وزیراعظم کی حلف برداری کی تقریب، وزیر اعظم پاکستان کو بھی شرکت کی دعوت

اچھی خبر؛ بنگلادیش میں جماعت اسلامی کی شکست پر جاوید اختر کا طنزیہ بیان وائرل

جماعت اسلامی بنگلادیش کا قومی انتخابات کے نتائج قبول کرنے کا اعلان

سینئر رہنما حمید الرحمٰن آزاد کے مطابق ان حلقوں میں ان کے امیدواروں کو “غیر منصفانہ طور پر ہرایا گیا”۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ ووٹنگ کے اختتام پر جعلی ووٹ، رشوت، دھمکیوں اور تشدد کے واقعات پیش آئے۔

پولیس کے مطابق انتخابی مہم کے دوران سیاسی جھڑپوں میں پانچ افراد ہلاک اور 600 سے زائد زخمی ہوئے، جبکہ نتائج کے بعد بھی بعض علاقوں میں جھڑپوں اور توڑ پھوڑ کے واقعات رپورٹ ہوئے جن میں کم از کم دو افراد جان سے گئے۔

پولیس ترجمان اے ایچ ایم شہادت حسین کے مطابق انتخابات سے قبل اور بعد کے ممکنہ تشدد سے نمٹنے کے لیے ڈیڑھ لاکھ سے زائد اہلکار تعینات اور تربیت دی گئی تھی۔

الیکشن کمیشن کے مطابق 300 میں سے 299 حلقوں میں پولنگ ہوئی اور مجموعی ٹرن آؤٹ تقریباً 59 فیصد رہا۔ براہِ راست منتخب ہونے والی خواتین کی تعداد سات رہی، جبکہ خواتین کی مخصوص 50 نشستیں جماعتوں کو ان کے ووٹ شیئر کے مطابق دی جائیں گی۔ اقلیتی برادریوں سے تعلق رکھنے والے چار امیدوار بھی کامیاب ہوئے، جن میں دو ہندو شامل ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: جماعت اسلامی کے مطابق

پڑھیں:

فیلڈ مارشل کا بلوچستان میں دہشت گردی کو پوری طاقت سے کچلنے کے عزم کا اظہار

فوٹو: آئی ایس پی آر 

فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے بلوچستان میں دہشت گردی کو پوری طاقت سے کچلنے کے عزم کا اظہار  کیا ہے۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے مطابق 20ویں نیشنل ورکشاپ بلوچستان کے شرکاء کی جی ایچ کیو آمد کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے فیلڈ مارشل نے کہا کہ بیرونی سرپرستی میں پراکسی عناصر بلوچستان میں تشدد کو ہوا دینے، استحکام کو نقصان پہنچانے اور امن خراب کرنے کی کوشش کرتے رہے ہیں، تاہم ان کے ناپاک عزائم کو مسلح افواج کے مضبوط اور فیصلہ کن جواب اور عوام کے اتحاد سے ناکام بنادیا جائے گا۔

فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا کہنا ہے کہ بلوچستان پاکستان کا فخر ہے، یہ صوبہ بے پناہ قدرتی وسائل سے مالا مال ہے، بلوچستان کے متحرک، باہمت، ثابت قدم اور محبِ وطن عوام اس کی سب سے بڑی طاقت ہیں۔

انہوں نے کہا کہ سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مسلسل کوششیں بلوچستان میں دیرپا امن لائیں گی، فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے خلاف ٹارگیٹڈ آپریشنز جاری رہیں گے۔

آئی ایس پی آر کے مطابق فیلڈ مارشل نے ملک کے مستقبل کی سمت کے تعین کے لیے قومی اتحاد اور ثابت قدمی کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی مسلح افواج عوام کے اتحاد، عزم اور ثابت قدمی کی بدولت ان مذموم عزائم کو ناکام بنائیں گی۔

متعلقہ مضامین

  • آزاد کشمیر انتخابات: استحکام پارٹی‘ مرکزی مسلم لیگ‘ جموں کشمیر یونائیٹڈ موومنٹ کا اتحاد 
  • خیبر پی کے میں بلدیاتی انتخابات 2 مراحل میں ہونے کا امکان 
  • خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات مرحلہ وار ہونے کا امکان
  • آزاد کشمیر انتخابات: استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس میں انتخابی اتحاد، سیٹ ایڈجسٹمنٹ پر اتفاق
  • نذیر احمد جنجوعہ قائم مقام سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان مقرر
  • تیزی سے بڑھتی آبادی ملک کیلئے سب سے بڑا چیلنج ہے: وزیراعظم
  • جماعت اسلامی کے سیکریٹری جنرل امیرالعظیم انتقال کرگئے
  • جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ  کی نوجوان خاتون کے ساتھ نازیبا ویڈیو سامنے آگئی
  • ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
  • فیلڈ مارشل کا بلوچستان میں دہشت گردی کو پوری طاقت سے کچلنے کے عزم کا اظہار