لندن (ویب ڈیسک) یہ دیکھ کر حیرت ہوتی ہے کہ وہ اقدام جسے اکثر سکول طلباء کی بھلائی کے لیے کرتے ہیں، یعنی موبائل فون پر پابندی، دراصل ان کی ذہنی صحت پر کوئی خاص اثر نہیں ڈال رہا۔
برطانوی محققین کے مطابق ہفتہ وار سو گھنٹے سے زائد وقت صرف فون کی نگرانی میں ضائع ہونا سکولوں کے لیے ایک بھاری بوجھ بن چکا ہے اور یہ سوال اٹھاتا ہے کہ کیا واقعی سخت قوانین بچوں کی فلاح و بہبود میں مددگار ہیں یا یہ محض وقت اور وسائل کا زیاں ہیں؟

برمنگھم یونیورسٹی کے محققین نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ آٹھویں اور دسویں جماعت کے طلباء میں اضطراب، اداسی یا خوش فہمی کے لحاظ سے کوئی قابلِ لحاظ فرق نہیں پایا گیا، چاہے سکول موبائل فون کے استعمال کے لیے نرم پالیسی اپنائے یا سخت، خاص فرق نہیں پڑتا۔

یہ تحقیق ایسے وقت میں سامنے آئی ہے ،جب دنیا بھر کی حکومتیں یا بعض منصوبہ بندی کر رہی ہیں کہ 16 سال سے کم عمر افراد کے لیے سوشل میڈیا کے استعمال پر پابندی عائد کی جائے، جیسا کہ آسٹریلیا میں نافذ ہے۔

اس مطالعے میں 20 ہائی سکول شامل تھے، جنہیں اہم خصوصیات کی بنیاد پر منتخب کیا گیا، ان میں 13 سکول سخت قواعد اپناتے ہیں اور سات سکول زیادہ نرم پالیسی رکھتے ہیں، ان سکولوں کو جن میں فون کے استعمال پر نرم قوانین ہیں، دوران وقفہ فون استعمال کی اجازت دی جاتی ہے، جبکہ سخت قوانین والے سکول پورے تعلیمی دن یا سکول کی حدود میں فون کے استعمال پر مکمل پابندی عائد کرتے ہیں۔

سخت قواعد والے سکولوں نے بتایا کہ وہ ان قوانین کے نفاذ اور خلاف ورزی کی صورت میں سزا دینے میں اوسطاً 102 گھنٹے ہفتہ وار صرف کرتے ہیں، اس کے برعکس نرم قوانین والے اسکولوں نے بتایا کہ وہ فون کے انتظام اور پالیسی کے نفاذ میں اوسطاً 108 گھنٹے ہفتہ وار صرف کرتے ہیں، کیونکہ وہ پالیسی کے نفاذ اور فون سے متعلق حادثات کو ریکارڈ کرنے میں زیادہ وقت دیتے ہیں۔

محققین نے کہا کہ نتائج سکولوں میں موبائل فون کے استعمال کے انتظام کے لیے نئے طریقوں کی ضرورت ظاہر کرتے ہیں۔

برمنگھم یونیورسٹی کی سمارٹ سکولز مطالعے کی سربراہ پروفیسر وکٹوریہ جودیئر نے کہا کہ سکولوں میں موبائل فون کے استعمال کی پالیسیاں، چاہے نرم ہوں یا سخت، نفاذ کے وقت سکول کے لیے بھاری بوجھ بنتی ہیں۔

انہوں نے مزید کہاکہ اساتذہ کا زیادہ وقت فون کے انتظام یا متعلقہ رویوں کی نگرانی میں لگنا دیگر سرگرمیوں سے منحرف کر دیتا ہے جو طلباء کی فلاح و بہبود کو بڑھا سکتی ہیں، جیسے کہ نفسیاتی و سماجی مدد یا غیر نصابی سرگرمیاں، لہٰذا ہمیں سکولوں میں نوجوانوں کے موبائل فون کے استعمال کے لیے نئے اور مؤثر طریقے اپنانے کی ضرورت ہے۔

محققین نے یہ بھی بتایا کہ سخت قوانین والے سکولوں کو کچھ رقم کی بچت ہوتی ہے کیونکہ قوانین کے نفاذ میں کم وقت لگتا ہے اور تخمینہ ہے کہ سخت قوانین والے سکولوں میں ہر طالب علم پر سالانہ خرچ تقریباً 94 پاؤنڈ (128 ڈالر) کم آتا ہے۔

پروفیسر حارث الجنابی مطالعے کے مرکزی مصنف اور برمنگھم یونیورسٹی کی ہیلتھ اکنامکس یونٹ کے سربراہ نے کہاکہ اگرچہ سخت پالیسی کے نفاذ میں وسائل کا فرق تھوڑا ہے، ہم بخوبی سمجھتے ہیں کہ فون کے استعمال کی نگرانی سکولوں کے لیے بھاری بوجھ ہے اور سخت ترین پالیسی کوئی جادوئی حل نہیں ہے۔

اس مطالعے کے لیے ڈیٹا 2022 اور 2023 کے درمیان جمع کیا گیا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: موبائل فون کے استعمال قوانین والے سکولوں میں سخت قوانین والے سکول کرتے ہیں کے نفاذ کے لیے

پڑھیں:

پاکستان کے دفاع، سیکیورٹی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے، وزیراعظم

لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)وزیراعظم محمد شہباز شریف نے ملکی خودمختاری کے تحفظ اور دفاع کو مضبوط بنانے کے لئے جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے روبوٹکس اور اٹانومس سسٹمز کی ترقی کے لئے سپارک اینڈ ایلیویٹ پروگرام کے آغاز اور 20 ملین ڈالر کا پاکستان وینچر فنڈ قائم کرنے کا اعلان کیا اور کہا ہے کہ پاکستان نے دفاع اور سیکیورٹی کے شعبے میں ملکی صلاحیتیں بڑھانے میں نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں اور سلامتی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے۔

اسلام آباد میں انڈس راس روبوٹکس اینڈ اٹانومس سسٹمز ایکسپو 2026 کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ انڈس راس روبوٹکس اینڈ اٹانومس سسٹمز ایکسپو سے ٹیکنالوجی کے شعبے میں صف اول کا کردار ادا کرنے کے حوالے سے پاکستان کے عزم کی عکاسی ہوتی ہے، یہ نمائش اور اس طرح کے اقدامات پاکستان کو 21ویں صدی کی جدید ٹیکنالوجی میں صف اول کا ملک بنائیں گے۔ وزیراعظم نے کہا کہ رواں سال کے اوائل میں پاکستان نے انڈس اے آئی سمٹ کی بھی میزبانی کی، جس سے مصنوعی ذہانت کے دور میں پاکستان کے سفر کو آگے بڑھانے کے لیےحکومتی نمائندوں، ٹیکنالوجی لیڈرز اور محققین کاروباری افراد کو مل بیٹھنے کا موقع ملا۔

پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے

ان کا کہنا تھا کہ آج انڈس راس ایکسپو سے اس وژن کو عملی شکل دینے کا موقع حاصل ہوا ہے کہ کس طرح جدت کو فعال سلوشنز میں تبدیل کریں، روبوٹکس اور ڈرونز کی جدت سے معیشت مضبوط سلامتی بہتر اور عوام کی زندگی آسان ہوگی، اس جہت نے اکیڈیمیا، انڈسٹری، اسٹارٹ اپس اور پالیسی سازوں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کیا ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ میرے بچپن میں ٹیکنالوجی کی جدت بلیک اینڈ وائٹ ٹیلی ویژن کی آمد تھی اور خاندان کے تمام افراد’’اچے برج لاہور دے‘‘ جیسی پاکستان ٹیلی ویژن کی کلاسک نشریات کو مل کر دیکھتے تھے لیکن آج دنیا ٹیکنالوجی کے میدان میں بہت آگے بڑھ گئی ہے اور ہم تاریخ کے ایک غیر معمولی دور میں ہیں۔

اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم

ان کا کہنا تھا کہ زرعی پیداوار کے لیے پانی اور دیگر بنیادی عوامل کی ضرورت، موسمیاتی تبدیلی اور دیگر چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال انتہائی اہمیت کا حامل ہے، آج ٹیکنالوجی کی جدید شکل ہمارے سامنے موجود ہے، آج مشینیں محسوس کر کے تیزی سے فیصلے اور ان پر عمل درآمد کرتی ہیں جو کبھی خواب لگتا تھا آج حقیقت بن کر ہمارے سامنے موجود ہے۔انہوں نے کہا کہ فخریہ طور پر کہتا ہوں کہ پاکستان نے دفاع اور سیکیورٹی کے شعبے میں ملکی صلاحیتیں بڑھانے میں نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں، سلامتی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے، فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت میں مسلح افواج نے جدید ٹیکنالوجی اپنائی، سیمولیٹرز 100 فیصد پاکستان میں تیار ہو رہے ہیں، ڈرونز کی 60 فیصد سے زائد مقامی تیاری حاصل کر لی گئی ہے۔ 

عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گئی

وزیراعظم نے کہا کہ معرکہ حق میں مسلح افواج نے جدید آٹونومس سسٹمز اور سائبر سیکیورٹی کے ذریعے سرحدوں کا دفاع کیا، معرکہ حق میں فیلڈ مارشل کی سربراہی میں ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر اور نیول چیف ایڈمرل نوید اشرف کی معاونت شان دار رہی اور ہماری مسلح افواج نے ملکی خود مختاری کے تحفظ کے لیے آہنی عزم کے مظاہرے کے ساتھ ساتھ ملکی صلاحیتوں، ٹیکنالوجی کی ترقی اور اور آپریشنل مہارت کا بھی بھرپور ثبوت دیا۔ان کا کہنا تھا کہ دفاعی شعبے میں شان دار کامیابیاں مادر وطن کے قومی دفاع کا لازمی جزو ہیں، اس سے ہمارے سیکیورٹی کا نظام مضبوط ہوگا، دفاع مزید ناقابل تسخیر ہو جائے گا اور اس سے ابھرتے اور مستقبل کے خطرات سے نمٹنے کے لیے صلاحیت میں اضافہ ہوگا۔

چیئرمین یورپی یونین پاک فرینڈشپ فیڈریشن یورپ کی ہیوی انڈسٹریز ٹیکسلا کے چیئرمین سے ملاقات

انہوں نے کہا کہ پاکستان اپنی خودمختاری کے تحفظ اور دفاع کو مضبوط بنانے کے لیے جدید ٹیکنالوجی استعمال کرے گا، دفاع میں آٹونومس صلاحیتوں کی ترقی میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے۔اپنے خطاب میں انہوں نے کہا کہ ٹیکنالوجی کا انقلاب چند جدید معیشتوں، بڑی کارپوریشنز اور بڑے شہروں تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ سب کے لیے مساوی ترقی ہونی چاہیے، کسانوں کی حالت بہتر ہو، چھوٹے کاروبار فروغ پائیں،کاروبار کرنے والی خواتین کو سہولیات ملیں اور کمزور طبقات کو فائدہ پہنچے، محفوظ اور شفاف آٹونومس سسٹمز کے لیے واضح قانون سازی اور اخلاقی فریم ورک بنانا چاہیے۔

پی سی بی نے ڈومیسٹک کرکٹ کے نئے سیزن کا شیڈول جاری کر دیا

مزید :

متعلقہ مضامین

  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • موبائل کمپنیوں کو 4 برسوں میں 3 ارب 41 کروڑ جرمانہ، سروس اور کوریج کی بہتری کیلئے مہلت
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے
  • آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع
  • سرکاری دفاتر میں حاضری اور وقت کی پابندی سے متعلق نئی ہدایات جاری
  • مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
  • آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع
  • موبائل کال اور انٹرنیٹ پیکجز مہنگے، صارفین پر نیا مالی بوجھ
  • پاکستان کے دفاع، سیکیورٹی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے، وزیراعظم