لڑکیاں شادی سے پہلے لڑکے پربھروسانہ کریں،انڈین عدالت عظمیٰ
اشاعت کی تاریخ: 16th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
نئی دہلی(مانیٹرنگ ڈیسک) بھارتی عدالت عظمیٰ نے شادی کے جھوٹے وعدے کے ذریعے جنسی زیادتی کے ایک اہم کیس کی سماعت کے دوران شادی سے پہلے کے تعلقات پر سخت ہدایت دی ہے۔
عدالت نے کہا ہے کہ شادی سے پہلے لڑکا اور لڑکی ایک دوسرے کے لیے اجنبی ہوتے ہیں، اس لیے ایسے تعلقات میں بہت احتیاط برتنی چاہیے اور لڑکیوں کو کسی پر بھی بلاوجہ بھروسا نہیں کرنا چاہیے۔
یہ فیصلہ عدالت عظمیٰ نے 16 فروری کو اس وقت سنایا جب وہ ایک ایسے شخص کی ضمانت کی درخواست کی سماعت کر رہی تھی جس پر الزام ہے کہ اس نے شادی کا وعدہ کرکے ایک خاتون کے ساتھ تعلق قائم کیا جبکہ وہ پہلے سے شادی شدہ تھا اور بعد میں دوسری خاتون سے شادی کر لی تھی۔
جسٹس بی وی ناگرتنا اور جسٹس اجول بھوئیاں کی بنچ نے اس کیس کی سماعت کی۔
سماعت کے دوران جسٹس ناگرتنا نے کہا کہ شادی سے پہلے جنسی تعلقات قائم کرنے سے پہلے احتیاط ضروری ہے، ممکن ہے کہ یہ سوچ پرانی لگے، لیکن شادی سے پہلے لڑکا اور لڑکی ایک دوسرے کے لیے اجنبی ہوتے ہیں۔
اس تعلق میں جو بھی اتار چڑھائو آئے، ہم یہ نہیں سمجھ سکتے کہ شادی سے پہلے یہ تعلق کیسے قائم کیا جا سکتا ہے، آپ کو بہت محتاط رہنا چاہیے اور شادی سے پہلے کسی پر بھی بھروسا نہیں کرنا چاہیے۔
مدعیہ کے مطابق، تقریباً 30 سالہ خاتون کی ملاقات ملزم سے 2022 میں ایک شادی کے ویب سائٹ کے ذریعے ہوئی۔
مدعیہ نے عدالت کو بتایا کہ ملزم نے شادی کا وعدہ کیا اور اسی بنیاد پر اس کے ساتھ دہلی اور بعد میں دبئی میں کئی بار تعلق قائم کیے۔
عدالت کو بتایا گیا کہ مدعیہ کو بعد میں معلوم ہوا کہ ملزم پہلے سے شادی شدہ تھا اور اس نے جنوری 2024 میں پنجاب میں دوسری خاتون سے شادی کر لی تھی۔
مدعیہ نے الزام لگایا کہ دبئی کے دوران ملزم نے شادی کا جھانسہ دے کر اس کے ساتھ تعلق قائم کیا اور اس کی اجازت کے بغیر اس کے انٹرنیٹ ویڈیو ریکارڈ کیے، اس کے بعد ملزم نے ویڈیوز کو شیئر کرنے کی دھمکی دی۔
سماعت کے دوران جسٹس ناگرتنا نے سوال کیا کہ مدعیہ دبئی کیوں گئی؟، سرکاری وکیل نے بتایا کہ دونوں کی ملاقات شادی کی ویب سائٹ پر ہوئی تھی اور وہ شادی کے ارادے سے ملے تھے۔
جسٹس ناگرتنا نے کہا کہ اگر مدعیہ واقعی شادی کے معاملے میں سنجیدہ تھی تو اسے شادی سے پہلے ایسے سفر پر نہیں جانا چاہیے تھا۔
عدالت نے مزید کہا کہ اگر وہ اتنی سنجیدہ تھی تو شادی سے پہلے سفر نہیں کرنا چاہیے تھا، ہم انہیں ثالثی کے لیے بھیجیں گے۔
یہ ایسے کیس نہیں ہیں جہاں باہمی رضا مندی سے تعلقات قائم ہونے پر سزا دی جائے۔ اس کیس کی اگلی سماعت بدھ کو طے کی گئی ہے، جس میں عدالت مزید دلائل سننے کے بعد فیصلہ سنائے گی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: شادی سے پہلے کے دوران کی سماعت شادی کے
پڑھیں:
وفاقی آئینی عدالت: پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) بجٹ سے چند روز قبل ہی آئینی عدالت سے حکومت کو ریونیو کی مد میں بڑا جھٹکا، وفاقی آئینی عدالت نے پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار دے دی۔
نجی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق وفاقی آئینی عدالت نے غیر رجسٹرڈ پولٹری فارمز کو فیڈ سپلائی کرنے سے متعلق اہم فیصلہ جاری کر دیا۔ جسٹس عامر فاروق کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے فیصلہ جاری کیا۔
وفاقی آئینی عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ ٹیکس قانون کے سیکشن 31 اے میں ابہام ہے، حکومت نے غیررجسٹرڈ پولٹری فارمز کو فیڈسپلائی کرنے پر مل مالکان پر اضافی ٹیکس عائد کیا، اضافی ٹیکس سال 2024 کے فنانس ایکٹ کی مد میں وصول کیا جا رہا تھا۔
لاہور ائیرپورٹ اغواء کیس کا ڈراپ سین، غیرملکی خاتون دوست کے ساتھ رضامندی سے گئی
فیصلے میں کہا گیا کہ قانون کے مطابق پولٹری فارمز کو ٹیکس سے مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے، قانون کے مطابق استثنی ملنے پر پولٹری فارمز رجسٹریشن کے پابند نہیں ہیں، قانون غیررجسٹرڈ پولٹری فارمز کو مکمل تحفظ فراہم کرتا ہے۔
وفاقی آئینی عدالت نے فیصلے میں مزید لکھا کہ رجسٹریشن کی قانونی پابندی نہ ہونے پر پولٹری فارمز اور فیڈ ملز کو سزا نہیں دی جا سکتی۔
وفاقی آئینی عدالت نے لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا۔ لاہور ہائیکورٹ نے پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی کو درست قرار دیا تھا۔ پولٹری فیڈ ملز مالکان نے اضافی ٹیکس کی وصولی کیخلاف عدالت سے رجوع کیا تھا۔
ڈیل مکمل جھوٹ ہے ، پی ٹی آئی کوئی ڈیل نہیں کررہی، عمران خان کو خاموش کروانے کے لیے قید تنہائی میں رکھاگیا ہے،علیمہ خان
مزید :