data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

ٹنڈوآدم (جسارت نیوز)مفتی طاہر مکی کی اسسٹنٹ کمشنر ٹنڈو آدم سے ملاقات،رمضان آرڈیننس پر سختی سے عمل درآمد گی کا مطالبہ، اسسٹنٹ کمشنر اور ڈی ایس پی ٹنڈو آدم کی مکمل تعاون کی یقین دہانی۔ تفصیلات کے مطابق تنظیم تحفظ ناموس سے خاتم الانبیا پاکستان کے سربرا مفتی محمد طاہر مکی مرکزی رہنما حافظ عبدالرحمن پاسبان ختم نبوت سندھ کے صدر حافظ شیر اسامہ بن طاہر شبان ختمِ نبوت سندھ کے محرم علی راجپوت اور دیگر نے اسسٹنٹ کمشنر طارق حنین شاہانی ڈی ایس پی ٹنڈوآدم مختار حسین میمن سے جداجدا ملاقات کی اور انہیں بتایاکہ چھتری چوک، محمدی چوک،لوہارگلی،بینظیرریلوے پل ، لطیف گیٹ، بیرانی روڈ،جمن شاہ،جٹیاپاڑہ، اسٹیشن چوک،شاہی بازار ، بابری مسجدسمیت کئی مقامات پر رمضان المبارک میں سرعام ہوٹل روزہ خوروں کی آماجگاہ بنے رہتے ہیں، رمضان المبارک کے تقدس کو برقراررکھتے ہوئے رمضان آرڈیننس پر سختی سے عملدرآمد کروایا جائے ۔ رمضان آرڈیننس کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف بلاتفریق کارروائی کی جائے اور ہوٹل سحری کے فوری بعد بندکرکے بعدنماز عصر کھولنے کی اجازت دی جائے۔ مفتی طاہر مکی نے صحافیوں کو بتایاکہ ابتدائی طور پر اسسٹنٹ کمشنر نے رمضان آرڈیننس پرسختی سے عملدر آمدگی کایقین دلایاہے۔دریں اثنا مفتی طاہر مکی نے کہا کہ گزشتہ برس بھی اسسٹنٹ کمشنر نے بہترین انداز میں رمضان آرڈیننس پر عملدرآمد کروایاتھا جس پر انہیں خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔

جسارت نیوز گلزار.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: رمضان ا رڈیننس پر مفتی طاہر مکی ٹنڈوا دم

پڑھیں:

گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست

فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔

انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔

گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔

متعلقہ مضامین

  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • آزاد کشمیر انتخابات: استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس میں انتخابی اتحاد، سیٹ ایڈجسٹمنٹ پر اتفاق
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • وزیر اعظم شہباز شریف سے چینی کاروباری وفد کی ملاقات، بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے پاک چین دوستی مزید مستحکم ہو گی ، وزیر اعظم
  • فیصل آباد:حکومت سے مذاکرات ناکام ہونے پر پیٹرول پمپ مالکان کا پمپس بند رکھنے کا اعلان
  • اسلام آباد، بلاول بھٹو سے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کی ملاقات
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
  • وزیراعظم سے چینی کمپنی کے وفد کی ملاقات، غذائی تحفظ کے منصوبوں پر تبادلہ خیال