معروف پروڈیوسر کی ہوٹل سے لاش برآمد
اشاعت کی تاریخ: 17th, February 2026 GMT
اسرائیلی جاسوسی تھرلر سیریز ’تہران‘ کی پروڈیوسر ڈانا ایڈن یونان کے شہر ایتھنز کے ایک ہوٹل کے کمرے میں مردہ پائی گئیں۔
غیر ملکی خبررساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق مشہور جاسوسی سیریز ’تہران‘ کی تخلیق کار کے بارے میں یونانی پولیس کا کہنا ہے کہ انہوں نے اتوار کو خودکشی کرلی۔
اسرائیلی ہٹ ٹی وی سیریز کی شریک تخلیق کار یونانی شہر ایتھنز کے ایک ہوٹل کے کمرے میں مردہ پائی گئیں جہاں اس جاسوسی تھرلر کے چوتھے سیزن کی شوٹنگ جاری تھی۔
پولیس حکام کے مطابق ہلاکت کے بارے میں مختلف پہلوؤں سے تشویش شروع کر دی گئی ہے، تاہم ابھی تحقیقات مکمل ہونے میں وقت لگے گا۔
50 سالہ اسرائیلی خاتون کی شناخت ڈانا ایڈن کے نام سے ہوئی ہے جس کو اس کے رشتہ دار کافی بار فون کال کرنے کی کوشش میں ناکام ہوئے تھے اور اس تک کال نہیں پہنچ سکی تھی۔
یونانی پولیس کے مطابق 52 سالہ ڈانا ایڈن سے متعلق خبر ان کے بھائی کے ذریعے ملی، اور ابتدائی طور پر موت کو خودکشی قرار دیا گیا۔
دوسری جانب، اسرائیلی میڈیا میں یونانی پولیس کی ایران سے ممکنہ تعلق کی تحقیقات کی خبروں کے بعد پروڈکشن کمپنی نے واضح کیا کہ یہ کوئی مجرمانہ موت نہیں اور گردش کرنے والی افواہیں بے بنیاد ہیں۔
یاد رہے کہ ایسے معاملات میں لازمی پوسٹ مارٹم کیا جاتا ہے جس کی تصدیق سرکاری تحقیقات سے ہوتی ہے، چند ہی گھنٹوں میں پولیس نے باضابطہ انکوائری شروع کرتے ہوئے ہوٹل اسٹاف کے بیانات لیے اور سی سی ٹی وی فوٹیج طلب کرلی۔
پولیس ترجمان کانسٹنٹینا ڈیموگلیڈو نے بھی قتل کے امکان کو رد کرتے ہوئے بتایا کہ پروڈیوسر کے بھائی کے مطابق وہ ایک بیماری کی دوا استعمال کر رہی تھیں جس کے باعث وہ ماضی میں اسپتال میں داخل بھی رہ چکی تھیں۔
پولیس کے تحقیقات کاروں کو کمرے سے ایسی گولیاں ملی ہیں جو مبینہ طور پر نشے کے لیے استعمال ہوتی ہیں۔
فلم پروڈکشن کمپنی نے اس پروڈیوسر کی ہلاکت کو ان کے خاندان ، دوستوں اور ان کے رفقاء کے لیے سخت صدمے کا باعث قرار دیا ہے۔
پروڈکشن کمپنی کے بیان میں کہا گیا ہے کہ ہم چاہتے ہیں کہ اس واقعے کے بارے میں افواہیں ختم ہوں اور حقائق سامنے آئیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: کے مطابق
پڑھیں:
برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
برطانیہ کے 70 سے زائد ارکانِ پارلیمنٹ نے نئے وزیراعظم اینڈی برنہم سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں کے حوالے سے اقوامِ متحدہ کے آزاد تحقیقاتی کمیشن کے نتائج کو باضابطہ طور پر تسلیم کریں اور اسرائیل کے خلاف فوری اور مؤثر اقدامات کریں۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق خط میں نشاندہی کی گئی ہے کہ گزشتہ ماہ جاری ہونے والی اقوامِ متحدہ کی آزاد تحقیقاتی رپورٹ میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا تھا کہ غزہ میں اسرائیلی فوج کی کارروائیاں نسل کشی کے زمرے میں آتی ہیں اور رپورٹ میں خاص طور پر اسرائیلی حملوں میں بچوں کو دانستہ طور پر نشانہ بنانے کی تصدیق بھی تھی۔
ارکان پارلیمان نے کھلے خط میں نو منتخب وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ وہ بین الاقوامی عدالتِ انصاف کی جولائی 2024 کی مشاورتی رائے پر بھی عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے عملی اقدامات کریں۔
برطانوی ارکانِ پارلیمنٹ کے بقول عالمی عدالت نے اسرائیل پر زور دیا تھا کہ وہ فوری طور پر مقبوضہ فلسطینی علاقوں سے اپنی موجودگی ختم کرے، تمام اسرائیلی بستیاں ختم کرے، متاثرہ فلسطینیوں کو معاوضہ ادا کرے اور بے گھر ہونے والے فلسطینیوں کی واپسی میں تعاون کرے۔
عدالت نے اپنی رائے میں یہ بھی کہا تھا کہ دنیا کے تمام ممالک پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ایسے اقدامات سے گریز کریں جو اسرائیلی قبضے کو برقرار رکھنے یا اس میں معاونت کا سبب بنیں۔
خط میں برطانوی حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ اسرائیل پر مکمل اسلحہ پابندی عائد کی جائے، اسرائیلی حکام کے خلاف پابندیاں لگائی جائیں اور ایسی ہر قسم کی تجارت پر پابندی عائد کی جائے جو مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں قائم اسرائیلی بستیوں کو فائدہ پہنچاتی ہو۔
ارکانِ پارلیمنٹ کا کہنا ہے کہ برطانیہ کو بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق سے متعلق اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرتے ہوئے واضح اور مؤثر پالیسی اختیار کرنی چاہیے۔
I'm one of 80 MPs & Peers calling on the PM to:
- Recognise the UN’s findings on genocide & implement the ICJ ruling in full
- Impose sanctions including a full arms embargo
- Ban trade that supports Israel’s illegal settlements
End Britain’s complicity in genocide, now. pic.twitter.com/TjtJ0yj2Qq
فلسطین سالیڈیرٹی کمپین کے نائب ڈائریکٹر پیٹر لیری نے ارکانِ پارلیمنٹ کے خط کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا تھا کہ برطانوی حکومت نے طویل عرصے سے نسل کشی کنونشن اور بین الاقوامی عدالتِ انصاف کے مؤقف کو نظر انداز کیا ہے۔
انھوں نے الزام عائد کیا ہے کہ برطانیہ مسلسل ایسی پالیسیاں اپناتا رہا ہے جن سے فلسطینی عوام کے خلاف اسرائیلی کارروائیوں کو عملی یا سفارتی حمایت ملتی رہی۔
خیال رہے کہ اسرائیل غزہ میں نسل کشی کے الزامات کو مسترد کرتا ہے اور مؤقف اختیار کرتا آیا ہے کہ اس کی فوجی کارروائیاں حماس اور دیگر مسلح گروہوں کے خلاف ہیں جبکہ شہری ہلاکتوں سے بچنے کے لیے اقدامات کیے جاتے ہیں۔
واضح رہے کہ اقوامِ متحدہ اور متعدد بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیمیں اسرائیلی دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے غزہ میں بڑے پیمانے پر شہریوں، خصوصاً خواتین اور بچوں کے جانی نقصان پر مسلسل تشویش کا اظہار کر رہی ہیں۔