سوڈان کے بازار میں خونی ڈرون حملہ، خواتین اور بچوں سمیت 28 افراد جاں بحق
اشاعت کی تاریخ: 17th, February 2026 GMT
خرطوم: سوڈان کے وسطی علاقے میں ایک مصروف بازار پر ڈرون حملے کے نتیجے میں کم از کم 28 افراد ہلاک ہو گئے۔ انسانی حقوق کے گروپ ایمرجینسی لائرز اس حملے کی تصدیق کی ہے۔
رپورٹ کے مطابق یہ حملہ شمالی کردفان کے علاقے سوداری کے قریب الصفیہ مارکیٹ میں کیا گیا، جو اس وقت عام شہریوں سے بھری ہوئی تھی۔ ہلاک ہونے والوں میں خواتین، بچے اور بزرگ بھی شامل ہیں۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ ہلاکتوں کی تعداد ابتدائی ہے اور اس میں اضافے کا خدشہ ہے۔
یہ علاقہ اس وقت سوڈانی فوج اور نیم فوجی فورس آر ایس ایف کے درمیان شدید لڑائی کا مرکز بنا ہوا ہے۔ تین سال سے جاری اس خانہ جنگی میں دونوں فریق ایک دوسرے پر فضائی حملے کر رہے ہیں۔
سوداری شمالی کردفان کا ایک دور افتادہ قصبہ ہے جو ریاستی دارالحکومت الابیض سے تقریباً 230 کلومیٹر شمال مغرب میں واقع ہے۔ کردفان کا علاقہ اس وقت مشرق سے مغرب تک پھیلے اہم زمینی راستے کی وجہ سے اس جنگ کا اہم محاذ بن چکا ہے، جو دارفور کو خرطوم سے ملاتا ہے۔
گزشتہ ہفتے بھی ایک اسکول پر حملے میں دو بچے ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے تھے، جبکہ ایک اور حملے میں اقوام متحدہ کے امدادی گودام کو شدید نقصان پہنچا تھا۔
اپریل 2023 سے جاری اس جنگ میں دسیوں ہزار افراد ہلاک اور تقریباً ایک کروڑ دس لاکھ لوگ بے گھر ہو چکے ہیں، جس کے باعث سوڈان کو دنیا کے بدترین انسانی بحرانوں میں شمار کیا جا رہا ہے۔
ملک عملاً دو حصوں میں تقسیم ہو چکا ہے، جہاں فوج وسطی، شمالی اور مشرقی علاقوں پر قابض ہے جبکہ آر ایس ایف مغربی علاقوں اور بعض جنوبی حصوں پر کنٹرول رکھتی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
کانگریس لیڈر نے کہا کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جسکی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ذریعہ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کو مبینہ طور پر پھٹکار لگائے جانے کے متعلق خبروں پر انڈین نیشنل کانگریس کا ردعمل سامنے آیا ہے۔ کانگریس کا کہنا ہے کہ لبنان میں اسرائیلی حملے کی ہر کوئی مذمت کر رہا ہے، لیکن وزیر اعظم مودی اس پر خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں۔ کانگریس کے جنرل سکریٹری اور راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ مغربی ایشیا میں جنگ کو روکنے کے لئے امریکہ اور ایران کے درمیان بات چیت جاری ہے۔ ایسے کسی معاہدہ کا فوری اثر آبنائے ہرمز کے پھر سے کھلنے اور تیل کی قیمتوں پر دباؤ کم ہونے کے طور پر سامنے آئے گا اور ان دونوں معاملوں سے ہندوستان کے بڑے مفادات جڑے ہوئے ہیں۔
جے رام رمیش اپنی ایکس پوسٹ میں مزید لکھتے ہیں کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جس کی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے لکھا کہ خود صدر ٹرمپ نے بنجامن نیتن یاہو کو لے کر بے حد ناراضگی اور غصہ ظاہر کیا ہے، یہاں تک کہ نازیبا الفاظ کا بھی استعمال کیا ہے۔ کانگریس کے راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش کے مطابق دنیا کے کئی دیگر ممالک نے بھی لبنان میں اسرائیل کے حملے کی مذمت کی ہے۔
حیرانی کی بات نہیں کہ جس ایک حکومت کے سربراہ نے اسرائیل کے ذریعہ لبنان کو تباہ کرنے اور امریکہ-ایران معاہدے کو پٹری سے اتارنے کی کوششوں پر مکمل طور سے خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں، وہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی ہیں۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں لکھا کہ کیا نام نہاد فادر لینڈ ان کے لئے ان کے اصل مدر لینڈ سے کہیں زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔