پشاور: 35 غیر قانونی مقیم افغان ڈی پورٹ، 233مشتبہ گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 18th, February 2026 GMT
پشاور(آئی این پی )پشاور میں پولیس نے سرچ اینڈ سٹرائیک آپریشن کے دوران غیر قانونی طور پر مقیم 35 افغان باشندوں کو حراست میں لے کر ڈی پورٹ کر دیا ۔تفصیل کے مطابق پولیس نے ایک ہفتے کے دوران شہر کے مختلف علاقوں میں 41 سرچ اینڈ اسٹرائیک آپریشنز کیے،جس میں غیر قانونی طور پر مقیم 35 افغان باشندوں ڈی پورٹ کیاگیا۔ جبکہ آپریشنز میں 233 مشتبہ افراد کو حراست میں لے کر ان کے خلاف قانونی کارروائی کی گئی۔پولیس نے جرائم پیشہ عناصر کے خلاف 148 مقدمات درج کیے۔آپریشنز کے دوران غیر قانونی اسلحہ بھی برآمد کیا گیا۔ دوسری جانب مردان میں فائرنگ سے ڈسٹرکٹ بار کے سابق صدر نوربادشاہ ایڈووکیٹ جاں بحق جبکہ ان کے بیٹے سمیت 3 افراد زخمی ہوگئے۔پولیس کے مطابق مردان کے طورو قیوم آباد میں مخالفین کی فائرنگ کے نتیجے میں سابق صدر ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن نور بادشاہ ایڈوکیٹ موقع پر جاں بحق ہوگئے ۔ فائرنگ سے ان کا بیٹا مامون اور دو راہگیر سہیل اور فواد زخمی ہوگئے۔ریسکیو کے مطابق جاں بحق اور زخمیوں کو فوری طور پر طورو اسپتال منتقل کردیا گیا۔ پولیس کا کہنا ہے واقعے کی وجوہات جاننے کے لیے تحقیقات جاری ہیں جبکہ ملزمان کی تلاش بھی شروع کردی گئی ہے ۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
دیو ہیکل بحری جہاز "ایم ایس سی ڈیلیٹا” کراچی پورٹ پہنچ گیا
کراچی : دیو ہیکل بحری جہاز ‘ایم ایس سی ڈیلیٹا ‘ کراچی پورٹ پر لنگر انداز ہوگیا ، جو بندرگاہ کے عالمی معیار کے انفراسٹرکچر اور آپریشنل صلاحیت کا واضح ثبوت ہے۔تفصیلات کے مطابق دنیا کا دیو ہیکل کنٹینر بحری جہاز "ایم ایس سی ڈینلیٹا” کامیابی کے ساتھ کراچی پورٹ پہنچ گیا ہے اور کے پی ٹی کے مخصوص ٹرمینل پر لنگر انداز ہوگیا۔کراچی پورٹ ٹرسٹ نے بتایا کہ یہ بحری جہاز اپنی نوعیت اور حجم کے اعتبار سے انتہائی وسیع ہے، جو بندرگاہ کے عالمی معیار کے انفراسٹرکچر اور آپریشنل صلاحیت کا واضح ثبوت ہے۔کے پی ٹی کا کہنا تھا کہ 400 میٹر طویل اور 67 میٹر چوڑا یہ بحری جہاز 255,288 ڈیڈ ویٹ ٹن گنجائش رکھتا ہے، جو اسے دنیا کے بڑے تجارتی جہازوں میں شامل کرتا ہے۔ترجمان نے کہا کہ اتنے بڑے جہاز کی آمد اس بات کا مظہر ہے کہ کراچی پورٹ جدید سہولیات اور بڑے بحری جہازوں کو سنبھالنے کی مکمل صلاحیت رکھتی ہے۔ادارے کے مطابق ایسے بڑے جہازوں کی آمد سے بندرگاہ کی استعداد میں مزید اضافہ ہوگا، عالمی شپنگ کمپنیوں کا اعتماد مضبوط ہوگا اور پاکستان کی تجارتی سرگرمیوں کو بھی فروغ ملے گا۔