کراچی میں رمضان کی آمد، پھلوں کی قیمتیں آسمان پر پہنچ گئیں
اشاعت کی تاریخ: 18th, February 2026 GMT
شہریوں نے کہا کہ رمضان میں کم آمدن والے طبقے کے لیے پھل کھانا ممکن نہیں رہتا، شہریوں کے پاس پھلوں کے بائیکاٹ کے علاہ کوئی راستہ نہیں بچتا۔ ادھر پھل فروشوں نے بتایا کہ گاہک اور انتظامیہ کا سارا زور ٹھیلے والوں پر چلتا ہے، سبزی منڈی میں پھلوں کی قیمت کو کوئی پوچھنے والا نہیں جو مہنگائی کی بنیادی وجہ ہے۔ اسلام ٹائمز۔ کراچی میں رمضان کی آمد سے پھلوں کی قیمت آسمان کو پہنچ گئی۔ تفصیلات کے مطابق کراچی میں سرکاری نرخ سے زائد پھلوں کی فروخت جاری شہریوں کے لیے رمضان میں غذائیت کا حصول مشکل ہوگیا۔ ہر سال کی طرح اس سال بھی رمضان کی آمد کے ساتھ ہی کھانے پینے کی دیگر اشیاء کے ساتھ پھلوں کی قیمت میں بھی نمایاں اضافہ ہوگیا ہے۔ کیلے نایاب ہوگئے، خربوزہ تربوز نے ڈبل سنچری سے آغاز کیا سیب کی قیمت آسمان سے باتیں کرنے لگیں۔ رمضان کی آمد سے قبل 100 روپے درجن فروخت ہونے والا کیلا 200 روپے درجن فروخت ہونے لگا، خربوزہ اور تربوز 200 روپے کلو فروخت ہونے لگے۔ اسی طرح امرود 250 روپے، 150 روپے کلو فروخت ہونے والا چیکو بھی 200 روپے سے زائد فروخت ہوگیا جبکہ گولڈن سیب 300 ایرانی سیب 400 روپے کلو فروخت ہورہا ہے۔
شہر میں پپیتا 300 روپے کلو کیوء 600 روپے اسٹرابیری 250 روپے کلو فروخت کی جارہی ہے، 200 روپے درجن عام فروخت ہونے والا کینو اب 300 روپے درجن، موسمی 150 سے بڑھ کر 200 روپے درجن فروخت کی جارہی ہے۔ شہریوں نے کہا کہ رمضان میں کم آمدن والے طبقے کے لیے پھل کھانا ممکن نہیں رہتا، شہریوں کے پاس پھلوں کے بائیکاٹ کے علاہ کوئی راستہ نہیں بچتا۔ ادھر پھل فروشوں نے بتایا کہ گاہک اور انتظامیہ کا سارا زور ٹھیلے والوں پر چلتا ہے، سبزی منڈی میں پھلوں کی قیمت کو کوئی پوچھنے والا نہیں جو مہنگائی کی بنیادی وجہ ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: روپے کلو فروخت پھلوں کی قیمت رمضان کی آمد فروخت ہونے روپے درجن
پڑھیں:
قدرت کا حیرت انگیز شاہکار، ہولونگ درخت کے ’ہیلی کاپٹر پھلوں‘ کی حسین اڑان
بھارتی ریاست آسام میں قدرت کے انوکھے مظاہر میں شمار ہونے والے ہولونگ درخت کے منفرد ’ہیلی کاپٹر پھل‘ ایک بار پھر لوگوں کی توجہ کا مرکز بن گئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: جرمنی کا صدیوں پرانا شاہ بلوط کا درخت پریمیوں کا پیغام رساں کیسے بنا؟
ڈیپٹیروکارپس ریٹوسس المعروف ہولونگ ایک مضبوط اور بلند قامت درخت ہے جو تقریباً 60 میٹر تک بلند ہو سکتا ہے۔ یہ درخت جنوب مشرقی ایشیا میں پایا جاتا ہے اور مقامی ثقافتوں میں اسے خاص اہمیت حاصل ہے جبکہ اس کی لکڑی تعمیرات، فرنیچر سازی اور کشتیوں کی تیاری میں استعمال کی جاتی ہے۔
Hollong seeds are a stunning local example of nature's autorotating 'helicopters'! ????????
Globally, maple samaras inspired much of the research into this principle for real helicopters and drones.
The origin of helicopter autorotation (and modern drone/micro-flyer designs) is… https://t.co/jKXLuMq5nR
— Chinnu Senthilkumar (@chinnusenthil1) May 20, 2026
اس درخت کی سب سے دلچسپ خصوصیت اس کے 2 پروں والے پھل ہیں جو شاخوں سے گرنے کے دوران ننھے ہیلی کاپٹر کی طرح گھومتے ہوئے نیچے آتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق یہ قدرتی نظام بیجوں کو درخت سے دور زرخیز زمین تک پہنچانے میں مدد دیتا ہے جہاں ان کی افزائش کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں۔
مزید پڑھیے: کچھ درخت جان بوجھ کر آسمانی بجلی کو گرنے کی دعوت کیوں دیتے ہیں؟
خشک موسم میں جب درجنوں یہ پھل آسمان سے گھومتے ہوئے زمین کی طرف اترتے ہیں تو یہ منظر دیکھنے والوں کو مسحور کر دیتا ہے۔
حال ہی میں ایسے ہی ایک منظر کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی جس نے اس قدرتی مظہر کو عالمی توجہ دلائی۔
مزید پڑھیں: فضائی کمپنی نے مسافر کو جہاز سے اترجانے کے لیے 3 ہزار ڈالر کی پیشکش کیوں کی؟
بھارتی ریاست آسام کو اس نظارے کے لیے بہترین مقامات میں شمار کیا جاتا ہے کیونکہ ہولونگ وہاں بڑی تعداد میں پایا جاتا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ہولونگ کو آسام کا سرکاری درخت بھی قرار دیا گیا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
جنوب مشرقی ایشیا جنوب مشرقی ایشیا کا حیرت انگیز درخت ہولونگ درخت ہولونگ درخت کے ہیلی کاپٹر پھل‘ ہیلی کاپٹر پھل